مہنگائی کے اہداف اور شرح نمو

اکنامک سروے آف پاکستان کی جانب سے عین نئے مالی سال کے بجٹ سے پہلے 2023-24ء کے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان معاشی شرح نمو اور مہنگائی کے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ، یقینا نہ صرف تشویشناک امر ہے بلکہ حکومتی دعوئوں کی ناکامی کا اعتراف بھی ہے ، معاشی اہداف میں سب سے نمایاں ملکی معاشی شرح نمو اور مہنگائی کی شرح کے اہداف تھے ، حکومت نے بجٹ میں ملکی معاشی ترقی کا ہدف3.5 فیصد مقرر کیا تھا تاہم اکنامک سروے آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق معاشی گروتھ 2.4 فیصد رہی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت ترقی کی شرح 1.21 فیصد رہی جبکہ دوسری جانب زرعی شعبے کی معاشی ترقی کی رفتار6.25 فیصد رہی اگرچہ اکنامک سروے کے مطابق موجودہ مالی سال میں ملکی معیشت نے مستحکم ہونا شروع کر دیا ہے جبکہ موجودہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 26فیصد بڑھی جبکہ اس مالی سال میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 21فیصد ہے جو کافی سالوں سے جمود کا شکار ہے اور پاکستان اس شعبے میں خطے کے ممالک کے مقابلے میں سب سے نیچے ہے یہی وہ وجوہات ہیں کہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ روز اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے واضح اور دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ کوئی مقدس گائے نہیں سب کو ٹیکس دینا ہو گی اکنامک سروے آف پاکستان کے اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جن شعبوں میں شرح نمو کا گراف نیچے جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اس کے نتائج معاشرے پر بڑے واضح دکھائی دے رہے ہیں حکومت نے بے شک یہ دعوے کرکے مہنگائی کی شرح کم ہو رہی ہے مختلف شعبوں میں اہداف مقرر کئے جانے کے بعد ان کے حصول میں ناکامی کے اثرات مہنگائی کی شرح میں معمولی ردو بدل کی صورت سامنے ضرور آتے رہے ہیں تاہم عام استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے دعوئوں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا دراصل یہ سب اعداد و شمار کے گورکھ دھندے ہیں اور ”فیصد” کے گراف کو اوپر نیچے کرنے سے حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا ، اشیائے صرف خصوصاً سبزیوں ، دالوں ، چاول ، آٹے وغیرہ کی قیمتوں میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی اور عوام مسلسل مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اسی طرح جہاں تک صنعتی شعبے کا تعلق ہے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ہماری مصنوعات مہنگی ہونے کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں مسابقت کی دوڑ میں بہت پیچھے ہیں بجلی اور گیس کی ”قلت” اور ان کے نرخوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں مہنگی ہیں اس وجہ سے صنعتوں کا پہیہ اگر مکمل طور پر رکا نہیں تواس کی رفتار بہت ہی کم ضرور ہوگئی ہے جس سے نہ صرف برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ بے روزگاری بھی بڑھ رہی ہے اس لئے کہ جب اہداف کے مطابق بیرون ملک مال کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو صنعتی پہیہ اپنی رفتار کھو دیتا ہے جہاں تک وزیر خزانہ کی اس تنبیہ کا تعلق ہے کہ ملک میں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے اور سب کو ٹیکس دینا ہو گا تواس بیانئے کی حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ”مقدس گائے” کے نام کے کئی ”گروہ ” نہ صرف موجود ہیں بلکہ ان کی ہمیشہ سے کوشش ہوتی ہے کہ پہلے تو ٹیکس ادا ہی نہ کیا جائے اور اگر حکومت کسی نہ کسی طور پر ان پرٹیکس نافذ کر دیتی ہے تو یہ طبقات نہایت چالاکی اور ہوشیاری بلکہ کمال مہارت سے ان ٹیکسوں کا رخ غریب عوام کی جانب موڑ دیتی ہے یعنی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے یہ ٹیکس عوام کی جیبوں سے نکال لیتے ہیں ، اسی طرح ایک اور طبقہ جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کا ہے جنہوں نے ٹیکس ادائیگی کبھی سیکھی ہی نہیں سابق چیئرمین ایف بی آر نے کچھ ہی مدت پہلے یہ انکشاف کرکے اصل صورتحال واضح کر دی تھی کہ انہوں نے جاگیرداروں اور بڑے بڑے زمینداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی تو ایک سابق وفاقی وزیر کی قیادت میں جاگیرداروں کا ایک جتھہ ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا دریں حالات یہ دعوے کرنا کہ ٹیکس ہر کوئی ادا کرے گا کس قدر قابل عمل ہے ؟ اس کے لئے تمام مراعات یافتہ طبقات کو اپنے ضمیر کوجھنجوڑنا پڑے گا بصورت دیگر شرح نمو کی بہتری اور مہنگائی سے نجات کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے امکانات معدوم رہیں گے ۔

مزید پڑھیں:  آلودہ ٹیوب ویل اور یادوں میں بسے ٹھنڈے کنویں