مٹی بنے سونا؟

یہ کوئی نئی بات ہے نہ اچھنبے کی کہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے فٹ پاتھوں سے نہ صرف متعلقہ دکاندار بلکہ سرکاری عمال بھی غیر قانونی طور پر ”نہال” ہو رہے ہیں اور دکانداروں نے اپنی دکانوں کے سامنے فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والے عوام کے لئے شجر ممنوعہ بنا کر تہہ بازاریوں اور چھابڑی فروشوں کو منہ مانگے کرایوں پر دے کر اضافی آمدنی کا ذریعہ بنا دیا ہے بلکہ اس تہہ بازاری میں سرکاری اداروں کے اہلکار بھی ہاتھ رنگ رہے ہیں یعنی تہہ بازاریوں کو اجازت دینے اور ان سے کوئی تعرض نہ رکھنے کے عوض”بھتہ خوری” سے جیبیں بھر رہے ہیں رہ گئے عوام تو پہلے تو وہ اس قانون شکنی کے خلاف آواز اٹھانے کے قابل ہی نہیں ہیں اور اگر کوئی زیادہ ہی اس قانون شکنی پر غلطی سے آواز اٹھا لیتا ہے تو متعلقہ بازاروں میں ہر تین طبقات اکٹھ بنا کر معترض یا معترضین کا دماغ ٹھکانے لانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے ، ان طبقات کی خود سری اور زور آوری کے مناظر توبازاروں میں عام دیکھنے کو مل جاتے ہیں جبکہ حالیہ دنوں میں پشاور کے تاریخ بازار قصہ خوانی کو روایتی خوبصورتی سے ہمکنار کرنے کے لئے صوبائی حکومت نے کروڑوں روپے کے اخراجات سے سیاحوں کے لئے قابل توجہ بنانے کا جو منصوبہ بنا کر اس پر عملدرآمد کیا تو پہلے تو قصہ خوانی بازار کے جملہ متعلقین نے اس پر احتجاجی مظاہرے کئے مگر پھر خاموشی اختیار کرلی تاہم جیسے ہی یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا ان تہہ بازاریوں اور دکانداروں نے دوبارہ اپنی ”غیر قانونی” سرگرمیاں شروع کرکے فٹ پاتھوں پر قبضہ جمانا شروع کیا اور متعلقہ سرکاری اداروں کے ساتھ ”پرتشدد” کارروائیوں تک کا آغازکیا گیا کیونکہ اس تہہ بازاری کے ساتھ روزانہ کی ”بھتہ خوری” لاکھوں تک جا پہنچتی ہے اس کا مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ قصہ خوانی کی تاریخی حیثیت بحال کرنے کے علاوہ شہر کے دیگر بازاروں سے بھی یہ مسئلہ حل کیا جائے ، ان کو متبادل روزگار کی فراہمی کا منصوبہ بھی بنایا جائے کیونکہ اگر یہ تہہ بازاری ہٹائے جائیں گے تو ان کی آمدن کا کوئی تو ذریعہ ہونا چاہئے ۔

مزید پڑھیں:  سیورج لائن کی اصلاح؟