عید قربان اور جانوروں کی آلائشیں!

عید الاضحی کی آمد میں صرف چار روز رہ گئے ہیں اور مسلمان اس موقع پر سنت ابراہیمی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے حسب توفیق قربانی کے فرض سے سبکدوش ہوتے ہیں ہر سال لاکھوں جانوروں کی ذبیحہ کے بعد ان کی آلائشیں ٹھکانے لگانے کے لئے متعلقہ اداروں کے اہلکار تندہی سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں گزشتہ دو تین سال سے صوبائی دارالحکومت میں ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ڈی اے کے متعلقہ شعبے کے اہلکاروں کی کارکردگی یقینا قابل تحسین رہی ہے او ران کی توصیف نہ کرنا زیادتی ہے حالانکہ تقریباً دا بارہ سال پہلے میونسپل کارپوریشن کے متعلقہ اہلکاراکثر غفلت کاشکار رہتے اور جانوروں کی آلائشیں کئی کئی دن تک گلیوں اور سڑکوں پر بے یارو مدد گار پڑی رہتیں جن سے بدبو کے بھبھوکے اٹھ کر عوام کے لئے ناقابل برداشت اور مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ، بہرحال ڈبلیو ایس ایس پی کے متعلقہ حکام سے یہی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ عید کے روز سے اگلے تین چار روز تک اپنے متعلقہ عملے کو ہائی الرٹ پر رکھ کر جانوروں کی آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔توقع کی جانی چاہئے کہ شہری صفائی کے ذمہ داراداروں کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہوں گی اورعید الاضحی کے موقع پرجامع صفائی پلان تشکیل دیاگیا ہوگا جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے قربانی کے جانوروں کی باقیات اور آلائشوں کوٹھکانے لگانے میں تاخیر کامظاہرہ نہیں ہوگا اور شہریوں کو شدید گرمی کے اس موسم میں تعفن اور تنگی تنفس کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ متعلقہ عملے کے ساتھ ہر ممکن طور پر تعاون کریں اور جوبھی فاضل مواد پھینکنا ہوتھیلی میں بند کرکے مقررہ جگہوں پر رکھنے کا فرض نبھائیں یا پھر گلی محلے میں آنے والی گاڑیوں میں ڈال دیں تاکہ جتنا جلد ممکن ہو سکے صفائی کا عمل بروقت مکمل ہو شہری تعاون کریں تو صفائی کے عملے کو مشکل بھی پیش نہیں آئے گی اور کام بھی جلد مکمل ہو گا۔

مزید پڑھیں:  صوبے میں گرینڈ اتحاد