غیر جانبدارذرائع ابلاغ کی ضرورت

میرے سکول کے زمانۂ طالب علمی میں ہمارے ایک تاجر پڑوسی جب بھی دوستوں کی محفل میں بیٹھتے تو مُلکی معاملات کے حوالے سے وہ ہمیشہ سنسنی خیز خیالات کا اظہار کرتے۔ جب اُن سے پوچھا جاتا کہ اِ ن باتوں کی حقیقت کیا ہے یا اُنہیں کیسے علم ہوا ۔ تو فوراً کہتے کہ کمال ہے آپ نے رات کو ”بی بی سی” نہیں سنی۔ اُن دِنوں ریڈیو کی لہریں ایک مُلک کی خبریں دُنیا کے بیشتر حصوں میں پھیلا دیتی تھیں ۔ برطانیہ کی ‘بی بی سی’ کو اپنی اردو سروس کے حوالے سے خاصی شہرت حاصل تھی۔ لوگ اس کی خبروں میں بڑی دلچسپی لیتے اور متاثر ہوتے۔ جدید ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور براہِ راست سمعی و بصری ذرائع ابلاغ سے لوگوں تک رسائی کے دائرے کو وسیع کر دیا۔ اب ہر فرد کے ہاتھ میں موبائل ہے اور وہ جو کچھ بھی سن اور دیکھ رہا ہے، اسے ہی صحیح سمجھ کر اپنی ذہنی سمت بدل رہا ہے۔ چونکہ عوامی ذرائع ابلاغ نے پوری دنیا کو اپنے دائرے میں سمیٹ لیا ہے۔ اس لیے یہ خطرہ بھی مسلسل لاحق ہے کہ اسے عام لوگوں پر اثر انداز ہونے کواستعمال کیاجا سکتا ہے۔ اثر اندازی کی یہ طاقت صرف دیکھنے اور سننے والوں کی شعوری سطح کو گرفت میں نہیں لاتی بلکہ ذرائع ابلاغ والے تو عوام کے تحت الشعور پر اپنے مقاصد کے لیے بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔اس وقت دنیا میں میڈیا پر جو کچھ بھی پیش کیا جا رہا ہے، اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اگرچہ ذرائع ابلاغ کے لیے غیر جانبداری کی اہمیت کو ہم سب ضروری سمجھتے ہیں لیکن غیر جانبداری قائم کرنے کا مسّلہ اتنا آسان نہیں۔مثلاً کسی اخبار میں کوئی ایسی تصویر لے لیں جس میں پولیس کو ہجوم یا فرد پہ ڈنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہو ۔اسی طرح کسی نوعیت کے واقعہ کی عکاسی کی گئی ہو تو سب کچھ اس تصویر کے تحریر شدہ عنوان پر منحصر ہے جو تصویر کو کوئی بھی رخ دے کر پڑھنے والے کے ذہن کو کسی بھی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ ٹیلی ویژن یاسوشل میڈیا کو دیکھ لیں ۔ یہاں بھی کسی سیاق و سباق کے بغیر گفتگو کرنے اور کسی موضوع یا کسی کی کارکردگی کا ایک ہی رخ نمایاں کرنے پر ناظرین کو خوب متاثر کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں تو خاص کر ترقیاتی منصوبوں یا اسی قسم کے دیگر اہم امور پہ غیر متعلقہ اور نا بلد لوگ ہی ماہرانہ رائے پیش کرنے پہ مامور ہیں۔ ایسے میں مکمل طور پر غیر جانبداری ممکن نہیں رہتی۔ اب اس غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟ مُلکی معاملات کے حوالے سے اور پھر سیاست میں تو اکثر غیر جانبداری کے سوالات کا سامنا ہوتا ہے۔ مگر اس ضمن میں صاحبانِ اقتدار اور عوام کے درمیان بڑا فرق ہے۔ جب تک حکومت کی گرفت طاقت پر مضبوط رہتی ہے ، وہ اپنا بیانیہ ہر مطلوبہ پیرائے میں پیش کرنے اور اپنے حق میں اعداد وشمار ظاہر کرنے پہ غالب رہتی ہے۔ یوں اگر ذرائع ابلاغ بظاہر حکومت اور عوام کی یکسوئی میں کوئی بیچ کی راہ لیتے ہیں تو وہ طریقہ سب کو غیر جانبدار تو دکھائی دیتا ہے لیکن عملاًایسا ہر گز نہیں۔ ایسی غیر جانبداری اپنی بہترین صورت میں ایک مبہم تصور ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اس کے اثرات ہمارے سامنے ہیں کہ ہم معاملات کی حقیقت کو سمجھے بغیر محض جانبداری میں اُلجھے ہوئے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کو غیر جانبداری سے استعمال کرنے میں ہمیں غیر جانبداری کے مفہوم کی تشریح کے ساتھ ساتھ ایسے انتظامی ادارے کی ضرورت ہے جو غیر جانبداری کو صحیح معنوں میں بروئے کار لانے کی آزادانہ طاقت رکھتا ہو۔ جب معاشرے میں اس بات پر شدید عدم اتفاق ہو کہ کون کون سی خاص چیزیں اچھی یا بری ہیں اور کون کون سے خاص افعال صحیح یا غلط ہیں تو پھر ہم اس ادارے میں جسے غیر جانبدار ہونا چاہیے، اس کے اراکین کا انتخاب کیسے کریں گے؟مُلکی معاملات کے علاوہ مغربی تہذیب نے ذرائع ابلاغ کے توسط سے ہمارے اخلاقی معاملات میں بھی متنازع مسائل کھڑے کر رکھے ہیں ۔ اس حوالے سے ذرائع ابلاغ جو صرف پروپیگنڈہ،تعلقاتِ عامہ اور اشتہار بازی میں اپنا مفاد عزیز رکھتے ہیں ، غیر جانبدار ی کی ہمت نہیں رکھتے اور زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی ترقی کے ساتھ انسانی معاشرہ کی ترقی مربوط ہے۔موجودہ معاشرہ جس قابل تشویش دور سے گزر رہا ہے ،اس سے نکلنے کے لیے ہمہ جہت اصلاحی عمل کی ضرورت ہے۔ عوامی ذرائع ابلاغ کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل اور مستقل طور پر لوگوں کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے ہر تحریر،خبر، ڈرامہ، مکالمہ اور وعظ کو زندگی کے احترام کے نقطہ نظر سے پیش کریں،قیاس و گمان اور شک و شبہ سے اجتناب برتے ۔ حکومت کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ ان کے اثرات کے بارے میں حساس رہے اور ان میںپائی جانے والی خرابیوں کا سد باب کرے تاکہ اس نظریاتی مملکت کی پہچان میں ذرائع ابلاغ اپنا اہم بنیادی کردار ادا کر سکے۔

مزید پڑھیں:  سیاسی و معاشی مسائل