بوجھ ہی بوجھ

نئے سال کے وفاقی میزانیہ میں کوشش کے باوجود عوام کے لئے ریلیف ، مہنگائی میں کمی کے لئے مجوزہ اقدامات اور کسی شعبے کو خاطر خواہ رعایت کی تلاش مشکل ہے حکومت کو اس کا دعویٰ بھی شاید ہو نیز عوام کا طویل مشاہدہ اور تجربہ بھی یہی رہا ہے کہ ہر نئے مالی سال کا آنے والا بجٹ ان پر اضافی معاشی بوجھ ڈالنے اور زندگی کی مشکلات کوبڑھانے کی صورت ہی میں آتا ہے جن مالی حالات سے ملک دوچار ہے اور معیشت برآمدات ، تجارتی توازن کا روبار اور صنعت وحرفت کی جو صورتحال ہے جہاں معیشت کا پہیہ جام اور ملک سیاسی عدم استحکام سے دو چار ہو اور مزید کے خدشات ہوں وہاں عوام دوست بجٹ کی توقع ہی عبث ہوتاہے ۔ زیادہ تفصیلات میں جائے بغیر اگر بجٹ کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو ہر شعبے پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ اور بوجھ ہی پڑتا نظر آتا ہے چند ایک قابل گنجائش شعبوں پر ٹیکس کے نفاذ کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن بجٹ کی منظوری تک بااثر افراد کا دبائو کامیابی سے برداشت کیا گیا تبھی ا سے روبہ عمل لایا جاسکے گا بجٹ خسارہ ساڑھے آٹھ کھرب اور ٹیکسوں کی وصولی نہیں بلکہ اس کا ہدف بارہ ہزار ارب ہوبجٹ کا بہت بڑا حصہ عوام کی فلاح کی بجائے دفاع اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہو تو عوام کے حصے میں کیا آسکتی ہے اس کااندزہ زیادہ مشکل نہیں پٹرول ، ڈیزل پر لیوی بڑھا کر 80 روپے کرنے کے فوری نتائج بجٹ کی منظوری اور نفاذ سے پہلے ہی ظاہر ہونے سے قبل از بجٹ ہی مہنگائی کی لہر چلے گی دیگر جن جن شعبوں میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے اس کے اثرات بھی شدید مہنگائی ہی کا سندیسہ لئے ظاہر ہوں گی کس مد میں کتنا بوجھ پڑے گا اور کہاں کہاں الفاظ کی شعبدہ بازی کی گئی ہے اس کے اثرات جلد سامنے آئیں گے سادہ طریقے اور احتصار کے ساتھ صورتحال کو سمجھنے کے لئے یہ بریفینگ کافی ہے جس میں چیئرمین ایف بی آرنے کہا ہے سیلزٹیکس اور کسٹم میں چھوٹ ختم کی گئی ہے۔ پوسٹ بجٹ بریفنگ دیتے ہوئے بتایاگیا ہے کہ آئندہ مالی سال کیلئے 3800 ارب زائد اضافی ہدف حاصل کرنا ہوگا، پالیسی اور انفورسمنٹ کے ذریعے 1800 ارب روپے کے ٹیکسز جمع کئے جائیں گے۔ چیئرمین ایف بی آراس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ400 سے 450ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 150 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی، تنخواہ دار طبقہ پر 75 ارب روپے کا ٹیکس بوجھ ڈالا گیا ہے، غیر تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکسوں کا بوجھ 150 ارب روپے کا ہوگا۔ غیر منقولہ جائیداد پر5فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے، پلاٹس اور کمرشل پراپرٹیز پر بھی ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے، ایکسپورٹس کو نارمل ٹیکس رجیم میں لایا جا رہا ہے۔ ریٹیلرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو بڑھایا گیا ہے۔دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق اگلے مالی سال کے نئے بجٹ میں کچھ پر عزم اہداف رکھے گئے ہیں – آئی ایم ایف کے مطالبات کے مطابق پاکستان کو ایک بڑے اور طویل بیل آئوٹ کے لیے اپنے کیس کو مضبوط کرنے میں مدد کرنے کے لیے تاکہ وہ اپنے نئے معاشی استحکام کو لنگر انداز کر سکے۔ جس کے لئے اس سال.مجموعی طور پر، بجٹ حکومت کے ٹیکس ریونیو کو 40 فیصد سے زیادہ بڑھا کر 12.97 ٹریلین روپے تک بڑھانے کی کوشش کرنا ہے جو کہ اہم ٹیکس اقدامات کے ذریعے ختم ہونے والے سال کے دوران 9.25 ٹریلین روپے کی متوقع وصولی ہے۔گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ٹیکس وصولی میں اوسطا سالانہ اضافہ تقریبا 20 فیصد رہا ہے اور اس سال یہ30فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔جی ڈی پی کے 1.8فیصدبجٹ جہاںاضافی ٹیکس اقدامات، ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے، تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد پر موجودہ ذاتی ٹیکس کے بوجھ کو نمایاں طور پر بڑھانے، مختلف شعبوں کے لیے ٹیکس چھوٹ کو ختم کرنے کی بات کی گئی ہے وہاں معیشت، کچھ غیر ٹیکس والی آمدنی کو نیٹ میں لانے، نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کابھی عندیہ دیا گیا ہے اضافی ٹیکس اقدامات اور پٹرولیم لیوی میں مجوزہ اضافے سے اگلے سال کے لیے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب اس سال کے اندازے کے مطابق 9.6 فیصد سے بڑھ کر معیشت کے حجم کا تخمینہ 11.5 فیصد ہو جائے گا۔ بجٹ کا ایک اور بڑا ہدف معیشت کے حجم کا ایک فیصد کا بنیادی سرپلس پیدا کرنا ہے تاکہ اس کے مالیاتی خسارے کو قرض کی پائیداری کے لیے6.8فیصد تک رکھا جا سکے اورخسارہ مزید کم کر کے 5.9 فیصد کر دیا جائے بشرطیکہ صوبے بھی بجٹ میں تجویز کردہ 1.2 کھرب روپے سرپلس کرسکیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی طرف سے اعلان کردہ وہ اقدامات درست سمت میں ایک قدم ہیںجس میں مقدس گایوںجیسے کہ رئیل اسٹیٹ کے سرمایہ کاروں، اسٹاک سرمایہ کاروں، برآمدکا عندیہ دیا گیا ہے جس میں پالیسی تبدیلیاں”، اور معیشت کی دستاویزات کی طرف بڑھتے ہوئے اقدامات کی نمائندگی کا عندیہ ملتا ہے ایک مشکل امر یہ ہے کہ ملک کے سیاسی حالات حکومت کے لیے سازگار نہیں ہیں کہ وہ معیشت کو فروغ دینے کی طرف بڑی چھلانگ لگانے کے لیے درکار بنیادی اقدامات پر عمل درآمد کر سکے۔ اگرچہ ٹیکس اور خسارے کے اہداف بلند نظری ضرور ہیں، لیکن ان کو ختم کرنا ناممکن نہیں ہے۔اس کے باوجود نئے اقدامات کو مکمل طور پر نافذ کرنے اور زیادہ سے زیادہ تعمیل کو یقینی بنانے کی حکام کی صلاحیت کے بارے میں شکوک و شبہات باقی ہیں۔ جب کہ حکومت نے مالیاتی فرق کو کم کرنے کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف بڑھایا ہے، بجٹ اخراجات کو کم کرنے کی بہت کم کوشش کرتا ہے۔اگرچہ، اپنی بجٹ تقریر میں، وزیر خزانہ نے کو ‘رائٹ سائزنگ’ کرنے کی بات کی، لیکن انھوں نے اس سمت میں کسی ٹھوس پالیسی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ کل موجودہ اخراجات میں 21 فیصد اضافے سے 17.2 ٹریلین روپے ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، بجلی اور دیگر سبسڈیز 1.4 ٹریلین روپے اور دفاعی اخراجات 14 فیصد اضافے کے ساتھ 2.1 ٹریلین روپے تک پہنچ جائیں گے۔ اسی طرح، مرکز اور صوبوں کے مجموعی ترقیاتی اخراجات میں 58 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو کر تقریبا 3.8 ٹریلین روپے ہو گیا ہے حکومت نئی سرمایہ کاری کی خواہش کی عدم موجودگی میں بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر اپنے اخراجات کے ذریعے اعتدال پسند اقتصادی ترقی کو شروع کرنے کی امید رکھتی ہے۔ نجی شعبے میں.آئی ایم ایف کے فنڈز تک رسائی کے علاوہ، نئے بجٹ کا دوسرا بڑا مقصد اس استحکام کو بڑھانا ہے جس کا انتظام اس نے پچھلے ایک سال میں کیا۔ اگرچہ بجٹ میں مالی استحکام کے حصول کی سعی نظر آتی ہے لیکن پائیدار اقتصادی بحالی کا انحصار کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں پربھی منحصر ہے بین الاقوامی ذخائر کو بڑھانے کے لیے جن کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہدف پورا کر سکیں۔اگرچہ حکام کو امید ہے کہ آئی ایم ایف کی نئی ڈیل ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر بنانے میں مدد دے گی، جس سے وہ تجارتی قرضوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے لیکن اس حوالے سے یقینی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ آئی ایم ایف کا معاہدہ کثیر الجہتی فنڈز کو کھولنے میں مددگار ثابت توہوگا، لیکن یہ دو طرفہ یا تجارتی قرض دہندگان یا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یقین دلانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ نئے بجٹ میں اس حوالے سے کچھ زیاد ہ اقدامات نظر نہیں آتے۔