پاک بھارت ہائی وولٹیج ٹاکرا

نیویارک کین ساوسٹیڈیم میں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے نئے تعمیر شدہ سٹیڈیم میں موجود چونتیس لاکھ تماشائیوں کے علاوہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس میچ کو تقریبا چار سو ملین یا چالیس کروڑ لوگوں نے اپنے گھروں میں ٹیلی ویژن اور بازاروں اور پارکوں میں لگی بڑی سکرینوں پر دیکھا۔ پاکستان میں شائقین کرکٹ کی نظریں کھیل کے دوران ہر بال پر جمی رہی اور لمہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال سے اپنے روایتی حریف کے ساتھ میچ سے اس امید کے ساتھ محظوظ ہوتے رہے کہ جیت کی صورت میں مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے گرداب میں پھنسے عوام کو کہیں سے ایک اچھی خبر تو مل سکے گی۔ میڈیا میں اس میچ کو لے کر اتنا بڑا ہایپ بنایا گیا تھا جیسے پاکستانی شاہین بھارتی سورماوں پر چڑھ دوڑنے کیلئے اپنا لہو اس حد تک گرماچکے ہیں کہ میدان میں اترتے ہی وہ روایتی حریف ٹیم کو چاروں شانے چھت کردینگے لیکن جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ پاکسانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے کیا اس نے پاکستانی عوام کو انتہائی مایوس کیا۔
میچ شروع ہوا تو بھارت کی پوری ٹیم صرف ایک سو بیس رنز بناکر بناسکی۔ ایک لمحے کیلئے ایسا لگا جیسے پاکستان یہ میچ بڑی آسانی سے جیت جائگا لیکن اسکے برعکس پاکستان کی پوری ٹیم ایک سو بیس رنز کے تعاقب میں یک سو بارہ رنز پر ڈھیر ہوگئی اور کوئی ایک کھلاڑی بھی جم کر نہیں کھیل سکا۔ محمد رضوان اکتیس رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے۔ تین کھلاڑی صرف تیرہ تیرہ رنز بناسکے جبکہ عماد وسیم کو پندرہ رنز سکورکرنے کے لئے بالوں کا سہارا لینا پڑا۔ یاد رہے کہ یہ اس میچ میں پاکستان کی پہلی شکست نہیں تھی۔ اس سے پہلے پاکستان کو امریکہ کی نسبتاً ایک نئی ابھرتی ہوئی ٹیم کے ہاتھوں ایک اور شکست سے بھی دوچار ہونا پڑا تھا۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی اس بدترین شکست کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب شاید ہی ہم ڈھونڈ پائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت بد ترین گروہ بندی کا شکار ہے۔ ایک طرف موجودہ کپتان بابر اعظم کا گروپ ہے تو دوسری طرف سابق کپتان اور فاسٹ باولر شاہین آفریدی کا دھڑہ ہے جبکہ ایک گروپ کی نمائندگی سابق پاکستانی فاسٹ باولر اور پاکستان کرکٹ ٹیم کیچیف سیلیکٹر وہاب ریاض کررہے ہیں۔ ظاہر ہے جہاں ٹیم کے اندر ایسی گروہ بندیاں ہونگی وہاں پر ٹیم سپرٹ، اور سوچ وفکر کی ہم آہنگی کے فقدان کے باعث مخالف ٹیم کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کیسے طے ہوسکے گی جس کا لازمی نتیجہ ٹیم کی خراب کارکردگی کی صورت میں نکلے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین محسن نقوی نے ٹیم کی بدترین شکست پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو خبردار کیا ہے کہ ٹیم کو ایسے کھلاریوں سے صاف کیا جائیگا جو کارکردگی نہیں دکھاسکے ہیں۔ خراب کارکردگی کا سارا الزام کھلاڑیوں پر ڈال کر چیرمین پی سی بی نے اپنے آپ کو اس پوری صورتحال سے بری الذمہ تو کردیا ہے لیکن ساتھ ہی موصوف نے یہ بھی فرمادیا ہے کہ ٹیم میں جو کچھ چل رہا تھا اسے اسکا علم ہے۔ اگراتنی ذمہ دار منصب پر بیٹھے ہوئے موصوف ان سارے معاملات سے باخبر تھے تو پھر بروقت کوئی کاروائی کیوں عمل میں نہیں لائی گئی۔ ساتھ ہی موصوف کو اس بات کا بھی مکمل ادراک ہونا چاہئے تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب ٹیم نے کوالیفائینگ راونڈ کیلئے اپنے بقیہ میچز کھیلنے ہیں، چیرمین کی اس قسم کے بیانات سے کھلاڑیوں کے مورال اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر کیا اثرات پڑینگے؟۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کھلاڑی بھی اپنے ذاتی مفادات کو ٹیم یا قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں، اس کھلاڑی کا ٹیم میں کھیلنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے اور ایسے کھلاڑی خواہ کسی بھی کیڈر کے ہوں، اسے قومی ٹیم میں کھیلنے کا کوئی حق نہیں لیکن ساتھ ہی چیرمین پی سی بی کو کوئی بتائے کہ چیف سلیکٹر تو آپ ہی کا لگایا ہوا پودا ہے۔ آپ نے ہی پنجاب میں اپنے کابینہ میں اس کو وزارت کھیل کا قلمدان سونپا تھا اور پھر آپ ہی نے اس کو چیف سلیکٹر کے عہدے پر بٹھایا ہوا ہے۔ اس سے سوال کون کرے گا؟ سوال تو کھلاڑیوں کے علاوہ لاکھوں میں تنخواہ لینے والے ان کوچز، ڈائریکٹرز اور کمیٹیوں کے ممبران سے بھی ہونا چاہئے جو اپنے بال بچوں اور رشتہ داروں کے ساتھ غریب عوام کے پیسوں پر باہر ملکوں کے سرکاری دوروں کے دوران فائیو سٹار ہوٹلوں میں عیاشیاں کرتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا یہ حال اب سے نہیں ہے۔ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی دونوں فارمیٹس میں عالمی چیمپین پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس حال میں لانے کا ذمہ دار کون ہے؟ چیرمین پی سی بی نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اعلی اور ذمہ دار افسر ہیں بلکہ اس وقت ملک کے وزیر داخلہ بھی ہیں۔ اگر آپ بھی عوام کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کوئی قدم لینے سے گریزاں ہیں تو پھر پاکستان کرکٹ کا خدا ہی حافط۔ !