سیاسی مفاہمت کے آثار

وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہ جمعیت علمائے اسلام ( ف) مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کو سیاست کی دنیا میں پیشرفت کے امکانات سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے سیاسی مسائل کے باہمی تعاون سے حل کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ یاد رہے کہ24مئی کو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسد قیصر نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کو ان ہائوس تبدیلی یا نئے الیکشن کے ذریعے ختم کرنے کا آپشن ہے، تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان اب دور نہیں رہ سکتے، مولانا فضل الرحمان اور ہمارا ایجنڈا ایک ہے اور ان کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف جلد تحریک شروع کریں گے۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے 8فروری کو منعقد کئے جانے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ8فروری کے انتخابی نتائج میں ملکی وجوہات کے علاوہ بیرونی اثرات نے بھی اہم کردار ادا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ نے حقیقی مینڈیٹ نہیں دیا۔بہرحال یہ عوامل پنی جگہ وزیراعظم شہباز شریف بجٹ میں پیپلز پارٹی کے تیور دیکھ کر جے یو آئی کے قائد سے ملاقات کے لئے گئے یا پھر یہ سیاسی مفاہمت کی ابتدائی مساعی اس کے سامنے آنے میں شاید زیادہ دیر نہ لگے ہیں جہاں تک پیپلز پارٹی کے موقف کردار اور عمل کا تعلق ہے چونکہ وہ آئینی عہدوں کی صورت میں اپنا حصہ وصول کر چکی ہے ایسے میں ان کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے موقف ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے زمرے میں آتا ہے اور ان کا کردار مذبذبیں کا سا بن گیا ہے کہ وہ نہ حکومت میں ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور نہ ہی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے پر تیار ہے اس طرح کا موقف اور کردار اپنا کر عوام کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا پی پی کو اگر واقعی عوام کا درد ہے اور ہ اس بارے مشوش ہے تو اس کا قولی نہیں عملی طور پر اظہار کرے اوران کو حزب اقتدارو حزب اختلاف کے درمیان پنڈولم کا مصنوعی کردار ادا کرنے کی بجائے کوئی ایک راہ لینی چاہئے بہرحال پیپلز پارٹی اسی تنخواہ پر کام کرے گی اور بجٹ کی منظوری میں حکومت کوکاندھا دینا ان کی مجبوری اس لئے ہے کہ وہ بھی پوری طرح شریک اقتدار ہے جہاں تک وزیر اعظم اور قائد جمعیت کے رابطے اور ملاقات کا سوال ہے اس سے ایک وسیع البنیاد مذاکرات اور سیاسی قیادت کے درمیان بلا مداخلت روابط بڑھانے کے طور پر دیکھنے کی گنجائش ضرور ہے جسے در پردہ مسلم لیگ نون کے قائد اور تحریک انصاف کے اسیر قائد کی حمایت ہونا بعید نہیں ملکی حالات کے پیش نظر سیاستدانوں میں اس سوچ کا اجاگر ہونا فطری امر ہو گا کہ وہ عطار کے لڑکے سے دوا لینے کی بجائے اپنے مسائل و مشکلات کا ادراک خود ہی کرکے اپنے اختلافات کو طے کرنے کے لئے قدم اٹھائیں کیونکہ اب تک ہر حکمران جماعت کا تجربہ تلخ اور تقریباً ایک جیسا ہی رہا ہے جو ان کی سوچ کا دھارا بن جانا عین فطری امر ہے صرف سیاسی قیادت ہی پر موقوف نہیں بلکہ اب تو عوامی سطح پر اس حوالے سے مکمل اجتماع نظر آتا ہے کہ سیاسی قیادت باہمی تنازعات کا حل خود نکالے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے اور آئین و دستور کو عملی طور پر مقدم ثابت کرنے کے لئے مفاہمانہ طرز عمل اختیار کیا جائے تاکہ اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد پر بھروسہ کرکے اقتدار حاصل کرنے کے لئے سیاسی جدوجہد کی جائے اور جس جماعت پرعوام کی اکثریت اعتماد کرے وہی حکومت بنائے اور سول قیادت کی بالادستی و پارلیمان مقتدر ہو اس وقت بھی اگر کوئی جماعت خواہ وہ مقبولیت کے جس درجے پر بھی ہو اگر ان کی سوچ عوام کی سوچ سے ہم آہنگ نہیں ہوتی تو پھر اسے خود اپنی صفوں میں سے اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کرنا مشکل ہوگا۔ سیاسی قیادت خواہ وہ اسیر ہو یا قصر صدارت میں براجمان اور وزیر اعظم ہائوس کے مکین یا پھر جمہوری جدوجہد پرآمادہ قیادت ان کو یکسو ہوکر اب سیاسی وآ ئینی بالا دستی کے لئے باہمی اختلافات کو پس پشت ڈالنا پڑے گا اس کے علاوہ کسی اور راستے کا ا نتخاب منزل سے دور کرنے ہی کا باعث بنے گا علاوہ ازیں کے راستے پر منزل نہ پہلے ملی ہے او رنہ آئندہ ملے گی حکومتی و سیاسی استحکام کا دارومدار مفاہمانہ مساعی اور ان کی کامیابی کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی دوسری کوئی صورت نہیںاس کے بغیر نہ تو حکومت مستحکم ہوسکے گی اور نہ ہی معیشت۔