رعایا پر بجٹ حملہ

مالی سال دو ہزار چوبیس و پچیس کے وفاقی بجٹ کی تفصیلات پڑھتے وقت احتیاط واجب ہے کیونکہ گرمی بہت شدید ہے عین اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں دوسری منزل پر واقع میری لائبریری میں تپش عروج پر ہے۔ کچھ دیر قبل مہنگائی اور ایک چھوٹے سے فراڈ سے متاثر ہوئی ہماری خاتون خانہ کا غصہ بھی 47 سینٹی گریڈ پر تھا۔ وہ تو شکر ہے کہ ہم اس کی زد میں نہیں آئے۔ ہمارے ہمزاد پیر سید فقیر راحموں بخاری ملتانی پوچھ رہے ہیں کہ اتنا عالی شان و ظالمان بجٹ پیش کرنے پر ادھار پر لائے گئے وزیر خزانہ کو مبارکباد دینی ہے یا شہباز سپیڈ کو؟ فقیر راحموں کے غصے کی وجہ ایک ہو تو بتائوں بھی۔ مہنگائی نے چار دہائیوں کے ساتھی ”ڈن ہل”کی جگہ امریکن برانڈ پائن سگریٹ کی ڈبیا پکڑادی ہے۔ وہ بھی محض چند ماہ میں140روپے سے 220 روپے تک پہنچ گئی۔ چند دن قبل فقیر راحموں نے فیس بک پر اپنا دکھِ سگریٹ بیان کیا تو درجن سوا درجن دوستوں نے اپنے اپنے سگریٹ برانڈز کا نام لے کر کہا فقیر راحموں جی خدا کیلئے یہ برانڈ نہ شروع کردینا کتابیں مہنگی ہورہی ہیں۔ ملتان کا کرایہ بڑھ گیا ہے۔ فقیر اکثر مجھ سے کہتا ہے یار شاہ جی کیا بھلے وقت تھے ملتان سے لاہور کا کرایہ 5روپے اور کراچی کا16 روپے ہوا کرتا تھااب تو23سو روپے ہے، ظلم خدا کا۔ اس کے غصے کی ایک وجہ اور بھی ہے وہ یہ کہ فقیر راحموں اپنی امڑی حضور کے شہر میں جس ہوٹل میں قیام کرتا ہے اس کا کرایہ بھی چند برسوں میں 2ہزار روپے سے 4 ہزار 5 سو روپے ہوگیا ہے۔ سگریٹ، کتاب، ملتان یاترا سب کچھ مہنگا ہی ہوگیا ہے بندہ کرے تو کیا کرے۔ معاف کیجئے گا بجٹ تفصیلات پر لکھنے کیلئے بیٹھا تھا باتاں اور ہونے لگیں۔ وجہ گرمی مہنگائی اور بجٹ ہے۔ میں کچھ دیر قبل پیاز 2سو روپے اور ٹماٹر 150روپے کلو خرید کرلایا ہوں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مہنگائی میں گیارہ فیصد کمی کے دعوے ہماری کالونی میں داخل ہونے کی بجائے غالبا گرمی کے مارے نہر میں نہانے کیلئے کود گئے ہیں؟ خیر ہم اصل موضوع پر آتے ہیں ہمارے ایک مہربان ہیں سرفراز صاحب، انہوں نے ڈیفنس پنشن پر لکھی پوسٹ پر سوال کیا چند برس قبل تک آپ لوگ دعوی کرتے تھے دفاعی بجٹ کل بجٹ کا70 فیصد ہوتا ہے۔ بخدا میں نے کبھی70فیصد والے دفاعی بجٹ کی بات نہیں کی میں تو ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ملکی و بیرونی قرضوں کی قسطوں اور سود کے ساتھ مجموعی ڈیفنس بجٹ بمعہ پنشن ملاکر بجٹ کا بڑا حصہ کھاجاتا ہے۔ مجموعی دفاعی بجٹ میں ظاہر ہے ایٹمی پروگرام و میزائل پروگرام کے اخراجات بھی شامل نہیں اور دو دہائیوں سے دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ کے خرچے بھی۔ آپ دیکھ لیجئے کہ سول انتظامیہ کیلئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 839 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے اور ڈیفنس پنشن 662 ارب روپے ہے۔ میں چونکہ اب بوڑھا ہوگیا ہوں اس لئے مختلف دفاعی و جاسوسی کی مدوں میں انڈر دی ٹیبل دی جانے والی سالانہ رقم کے حساب سے ہی بھاگتا ہوں جوانی میں تو تفصیلات لکھ دیا کرتا تھا کالم یا اداریہ میں، خیرجوانی دیوانی ہوتی ہے تب آپ پہاڑ سے بھی ٹکراجاتے ہیں بوڑھاپے میں لاٹھی ٹیک کے چلتے آدمی پر احتیاط واجب ہے۔ بہرطور خواتین و حضرات 18877ارب روپے کے بجٹ کا مجموعی خسارہ 8500ارب روپے ہے ۔ دفاعی بجٹ 2122 ارب روپے ہے اس میں 662 ارب روپے کی دفاعی پنشن شامل نہیں نہ ہی دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ کے اخراجات شامل ہیں۔ بدقسمت تنخواہ دار طبقے پر صرف 75ارب روپے کے نئے ٹیکسوں (اضافی شدہ کہہ لیجئے)کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ فقیر راحموں کا جگرم مارکہ دوست مدثر بھارا کہتا ہے "گریڈ 16سے اوپر کے ملازمین کیساتھ جو حکومت نے کیا وہ تو فرعون صاحب مصر کی عوام سے بھی نہیں کرتے تھے”۔ چلئے آگے بڑھتے ہیں۔ نیوز پرنٹ سمیت کاغذ کے تمام برانڈز پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی ہے۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ نیشنل میڈیا مالکان نیوز پرنٹ مہنگا ہونے پر شور مچارہے ہیں حالانکہ یہ اس قدر ظالم ہیں کہ ایک جانب ملازمین کو ویج بورڈ ایوارڈ کے مطابق تنخواہیں نہیں دیتے دوسری طرف چند پرنٹنگ سٹیشنوں پر 6صفحات کا اخبار 30روپے میں فروخت کر رہے ہیں جوکہ اخباری صفحات کیلئے طے شدہ قیمت کیخلاف ورزی ہے ۔ وفاقی بجٹ میں کم از کم اجرت 37 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل حکومت کو چیلنج ہے کہ اس پر صرف سرکاری محکموں میں عمل کراکے دکھا دے ہمہ قسم کے نجی اداروں اور اخبارات و جرائد کو تو رہنے ہی دیجئے۔ نان فائلر کیلئے دنیا تنگ کرنے والے اس بجٹ کے منشیوں سے کوئی پوچھے کہ اوسط 15ہزار روپے ماہوار کمانے والا شخص بھی ماچس، آٹے، دالوں، ڈبے کے دودھ وغیرہ پر ٹیکس دیتا ہے۔ بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کے نام پر بھتے لئے جاتے ہیں، ٹیلیفون اور سوئی گیس کے بلوں میں بھی ٹیکس شامل ہیں۔ یوٹیلٹی بلز ادا کرنے والے صارف ( شہری)کو اور کتنا ذبح کرنا ہے اور اس پر ٹیکس چور کی پھبتی کسنی ہے؟ امریکی پہلے ہی فقیر راحموں کو ویزا نہیں دیتے تھے اب تو خیر نان فائلر کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگادی گئی ہے۔ فقیر راحموں نے ایک انقلابی مشورہ دیا ہے وہ کہہ رہا ہے کہ حکومت ملک کے تمام نان فائلرز کو صحرائے تھل یا چولستان وغیرہ میں جمع کرکے ان پر ایٹم بم مار دے۔ اس طرح ایک تو ایٹم بم ٹیسٹ ہوجائیگا اور آبادی میں کمی بھی ہو جائیگی ۔ معیشت پر بوجھ بنے نان فائلرز کا یہی علاج ہے خزانے اور ملک کے حالات جتنے خراب ہیں مجھے ڈر ہے کہ حکومت فقیر راحموں کا یہ زریں مشورہ مان ہی نہ لے۔ ہائبرڈ اور الیکٹرانک گاڑیاں ، موبائل فون تو مہنگے ہوں گے ہی یہ ادویات، چینی، دودھ کے علاوہ زرعی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی ٹریکٹر مہنگے کرنے کا مشورہ کس کم بخت نے دیا تھا؟ بجلی، گیس اور دیگر شعبوں کیلئے سبسڈی کی رقم 1363 ارب روپے ہے۔پٹرولیم مصنوعات پر20 روپے فی لٹر لیوی بڑھانے کی تجویز ہے۔ سگریٹ دشمن حکومت نے سمگل شدہ سگریٹ فروخت کرنے پر کاروبار سیل کرنے اور سزا و جرمانے کی تجویز بھی دی ہے۔ یہ ایک طرح سے پھر ہمارے ہمزاد پیر فقیر راحموں پر حملہ ہے چاچے فورمین کی حکومت کا۔ دو جمع دو کے حساب سے یہ بجٹ قاتل بجٹ ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اسے رعایا پر خودکش حملہ کہہ لیجئے۔ صحافیوں کو مکھن لگانے کے پروگرام کے تحت 5ہزار صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہیلتھ انشورنس کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ صحافی آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہیں کیا کبھی انہیں کالونیاں بناکر دو اور کبھی مزید مراعات، صحافیوں سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو سرکاری اشتہارات کو ویج بورڈ ایوارڈ سے منسلک کردیا جائے جو ادارے کم از کم 6ماہ ویج بورڈ کے مطابق تنخواہیں نہ دیں انہیں سرکاری تحویل میں لے لیا جائے۔ بار دیگر کم از کم اجرت کے حوالے سے عرض کروں اس پر کبھی عمل نہیں ہوتا، کیوں؟ اس کی وجہ میں اور آپ سب جانتے ہیں۔ مالکان ضرورت مند افراد کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چند زندہ مثالوں میں سے ایک مثال (یہ تحریر نویس )خود ہے ۔ کام کرنے پر اس لئے مجبور ہوں کہ زندہ انسان ہوں ضرورتیں ہیں۔ خیر اس ذاتی دکھ کو اٹھارکھتا ہوں۔ عرض یہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پنشن اور تنخواہوں میں ہوا اضافہ دم توڑتی قوت خرید کو بہتر بنانے میں مدد اس لئے نہیں دے گا کہ مہنگائی کے مقابلہ میں یہ اضافہ80فیصد کم ہے۔

حرف آخر یہ ہے کہ بجٹ خودکش حملے کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے حکومت کے لئے سیاسی مشکلات بڑھیں گی۔ رعایا کی گردنوں پر شکنجہ مزید سخت ہوگا۔ دیکھتے ہیں کتنے سخت جان اگلے بجٹ تک بچ رہتے ہیں۔