جنوبی وزیرستان، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کا عملہ 8 ماہ سے تنخواہوں سے محروم

ویب ڈیسک: جنوبی وزیرستان میں عید قرباں آگئی لیکن تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال مولے خان سرائے کا عملہ پھر بھی بغیر تنخواہ کے گزارنے پر مجبور ہیں۔
حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں بلند و بانگ دعوے ہوا ہو گئے۔
ضلع جنوبی وزیرستان میں واحد فعال پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال مولے خان سرائے کا سٹاف 8 ماہ سے تنخوائوں سے محروم ہے۔
اس حوالے سے ہسپتال کے سٹاف نے احتجاجا او پی ڈی سروس بند کردی لیکن ایمرجنسی سروس جاری ہے۔
جنوبی وزیرستان کو 2022 میں 2 اضلاع ضلع جنوبی وزیرستان اپر اور لوئر میں تقسیم کیا گیا۔ اس دوران ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا، ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں آ گیا۔
اس کے بعد سے ضلع جنوبی وزیرستان اپر میں ہیڈکوارٹر ہسپتال ہے نہ ہی باقی تحصیلوں میں سول ہسپتال فعال ہیں۔ سراروغہ ہسپتال جوکہ کسی حد تک فعال تھا اس کی بلڈنگ پر پولیس نے قبضے کر رکھا ہے۔
اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ 30 ملازمین نوکریاں چھوڑ گئے جبکہ اب ہم 70 سٹاف ممبران رہ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سے جتنا ممکن ہوسکا تعاون کیا اور اب حالت یہ ہے کہ سٹاف ممبران کے پاس ہسپتال آنے جانے کا کرایہ تک نہیں تو ان حالات میں ان کے گھروں کی کیا حالت ہوگی، ان کے گھروں کے چولہے کیسے جلیں گے۔
احتجاج کرتے ہسپتال سٹاف کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں تنخوائیں نہ ملیں تو ہم ہسپتال گیٹ بند کر کے احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔

مزید پڑھیں:  تھانہ یکہ توت کی حدود رشید گڑھی میں فائرنگ، 3 افراد جاں بحق، 5 زخمی