خیبر پختونخوا کی مسلسل حق تلفی

وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کے جاری اخراجات کیلئے 66ارب روپے کی گرانٹ نے صوبائی حکومت کیلئے بڑی مشکل کھڑی کردی ہے مذکورہ گرانٹ سے قبائلی اضلاع کے 6ماہ کے اخراجات ہی پورے کئے جا سکیں گے جبکہ باقی 6ماہ کیلئے صوبائی حکومت کو اپنے فنڈز منتقل کرنا پڑیں گے۔ وفاقی حکومت نے بجٹ میں قبائلی اضلاع کے جاری اخراجات کیلئے 66ارب روپے مختص کئے ہیں جو قبائلی اضلاع کے جاری اخراجات کیلئے ناکافی ہیں۔محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق آئندہ مالی سال میں قبائلی اضلاع کے جاری اخراجات کیلئے کم سے کم 120سے 125ارب روپے درکار ہیں ایسے میں صرف 66ارب روپے مختص کرنے سے صوبائی حکومت کو کم سے کم 55ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ضم قبائلی ا ضلاع کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری لینے سے قبل ان اضلاع کے حصے کی رقم کی ادائیگی کویقینی بنانے کے عمل میں تساہل کا خمیازہ صوبائی حکومت اور عوام دونوں بھگت رہی ہیں اور نجانے کب تک ایسا ہوتا رہے گا صوبے کیلئے یہ ایک مستقل درد سر بن چکا ہے کہ ان اضلاع کے انتظام و انصرام پربھاری وسائل خرچ کئے جائیں اس ضمن میں این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حصہ بڑھانے کا معاملہ بھی موافق اور مخالف دونوں حکومتوں میں حل نہ ہوسکا جو صورتحال ہے اس میں تو اس بات کاقطعی امکان نظر نہیں آتا اور نہ ہی آئندہ اس پر اتفاق کی کوئی صورت نظرآتی ہے ایسے میں صوبے میں احساس محرومی کی نئی لہر آسکتی ہے اور مرکز سے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں مگر اس کی صوبائی اور مرکزی حکومت دونوں کو پرواہ نہیں اگر ایسا ہوتا تو نہ توصوبے کا بجٹ عجلت میں وفاق سے پہلے پیش کیا جاتا اور نہ مرکزی حکومت صوبے پر بلاوجہ کا اس قدر بھاری رقم کا بوجھ ڈالتی ، کہنے کو تو یہ صوبے کے عوام کا حق ہے اور صوبائی و وفاقی ہر دوحکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں ظاہر ہے اس ضمن میں وفاق کا کردار غاصبانہ ہے مگر صوبائی حکومت بھی اس بنا پر بری الذمہ نہیں کہ وہ وفاق سے ان معاملات پر بات کرنے پر سیاسی مخاصمت کو نبھانے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔