اس کی کسر رہ گئی تھی

نئے مالی سال کی وفاقی بجٹ میں فلاحی ہسپتالوںکیلئے ٹیکس کی رعایت ختم کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے یکم جولائی سے خیبرپختونخوا میں قائم تمام فلاحی ہسپتالوں پر بھی نیا ٹیکس عائد کیا جائے گا اس سلسلے میں جاری تفصیل کے مطابق مجوزہ وفاقی بجٹ میں 50 بستروں پر مشتمل فلاحی ہسپتالوں کیلئے سپلائی ہونے والی تمام چیزوں پر ٹیکس کا استثنیٰ ختم کیا گیا ہے اس طرح2سو بستروں کے تدریسی فلاحی ہسپتالوں پر بھی سیلز ٹیکس عائد کیا گیا اور فلاحی ہسپتالوں کیلئے مختلف کٹس اور ٹیوب مہنگے کر دئیے گئے ہیں اور ان پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ فلاحی ہسپتالوں میں میڈیکل دستانے اور ماسک پر بھی18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ قبل ازیں فلاحی ہسپتالوں کی مشینری اور دوسری لازمی اشیاء پر کوئی ٹیکس نہیں تھا اس ٹیکس سے ان ہسپتالوں میں تمام فیسوں اور ٹیسٹوں کے لئے نئی شرح کے ساتھ قیمتیں مقرر کی جائیں گی اور زیادہ تر چھوٹے ہسپتال تقریبا بند ہوجائیں گے یا پھر ان ہسپتالوں میں بھی نجی اور سرکاری ہسپتالوں کی طرز پر علاج مہنگا کر دیا جائے گا۔بجٹ میںکوئی ایسا شعبہ نہیں بچا ہو گا جس میں عوام پر بجلیاں نہ گرائی گئی ہوں۔ فلاحی ہسپتالوں کو ملنے والی رعایت کاایک پہلو تو یہ ہے کہ اب علاج صحت کارڈ پرہونے کے بعد ان کی ضرورت کم ہوئی ہے لیکن خدانخواستہ بڑی اور پیچیدہ بیماریوں کا علاج یا تو سرکاری ہسپتالوں میں ممکن ہی نہیں یا پھر صحت کارڈ کے لئے مختص رقم میں ان کا علاج ہی ممکن نہیں ایسے میں فلاحی ہسپتال ہی عام آدمی کی آخری امید بنتے ہیں جن کو حکومت کی طرف سے ملنے والی رعایت کا خاتمہ علاج کی راہ میں رکاوٹ اور فلاحی ہسپتالوں کے قیام کی حوصلہ شکنی ہوگی جن ہسپتالوں میں اس سہولت کے ناجائزاستعمال کا احتمال تھا اس کا تدارک کیا جاتا لیکن ان ہسپتالوں اور نجی ہسپتالوں کے برابر لانے کاکوئی جواز نہیںتھا توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت بیمار ا نسانیت کی مشکلات میں اضافہ ہونے کے پیش نظر اس فیصلے پر نظر ثانی کرے گی اور بیماروں کو سہولت دینے والے مراکزعلاج کوملنے والی رعایت بحال کرے گی۔