گدھوں کے”مقدار”میں اضافہ

اللہ جانے یہ صورتحال باعث تشویش امر کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں کیونکہ اس کے کئی پہلو ہیں ،نظر بہ ظاہر تو اس پرافسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ ملک میں گدھوں کی تعداد میں ایک کا اضافہ ہو گیا ہے یعنی گدھوں کی تعداد میں اضافہ کوئی خو ش آئند صورتحال نہیں ہونی چاہئے ، اس لئے کہ ایک روایت کے مطابق کسی گدھے کے ہاں بچہ (ظاہر ہے گدھا ہی ہوگا) پیدا ہو اور کسی نے اسے یہ خوشخبری پہنچائی تو گدھے نے جواب دیا ، مجھے کیا فائدہ ؟ یہ اپنا بوجھ اٹھائے گا اور میں اپنا ، ایک استاد شاعر رامپوری (پورا نام کیا تھا معلوم نہیں) نے کیا خوب کہا ہے کہ
ہم گدھے کوگدھا سمجھتے ہیں
وہ ہمیں جانے کیا سمجھتے ہیں
ہمارے سکول کے زمانے کی ایک کہانی درسی کتب میں یوں درج تھی کہ ایک سادہ لوح دیہاتی (کہانیوں میں دیہاتی ہمیشہ سادہ لوح ظاہر کئے جاتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ایسا ہر گز نہیں) کسی کام سے شہر آیا ہوا تھا اس کا گدھا بھی اس کے ساتھ تھا یا وہ اپنے گدھے کوبھی ساتھ لایا تھا کہ سوداسلف گھر تک لے جانے اور سواری کے لئے اسے استعمال کیا جا سکے گھومتے گھومتے وہ ایک ایسے علاقے سے گزرا جہاں ایک استاد ، مدرسے میں بچوں کوپڑھا رہا تھا ایک کند ذہن طالب علم کو سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے استاد ڈانٹ رہا تھا اور غصے میں یہ الفاظ ادا کئے کہ اگر تمہاری جگہ کسی گدھے کو بھی اتنی مدت پڑھاتا تو اب تک وہ انسان بن چکا ہوتا یہ سننا تھا کہ دیہاتی استادکی خدمت میں پیش ہوا اور اس کی منت سماجت کرنے لگا کہ استاد جی میری کوئی اولاد نہیں ہے اگر میرے اس گدھے کوآپ لکھا پڑھا کر انسان بنا دیں تو میری آخری عمر سنور جائے گی استاد نے دیہاتی کو لاکھ سمجھایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا مگر دیہاتی بضد تھا کہ خدارا میرے گدھے کو پڑھا کر انسان بنا دے ، استاد نے اسے گدھا مدرسے کے باہر باندھ کر اگلے سال آنے کو کہا اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ”اصلی گدھا” کون ہے ؟ اسے یہ بھی فکر لاحق تھی کہ وہ گدھے کو کھلائے گا کہاں سے ؟ پھر اسے ایک ترکیب سوجھی اور اس نے گدھا بیچ کر اس سے جان چھڑائی کہ سال بعد جو بھی ہو گا دیکھا جائے گا اس دوران میں وہ سوچتا اور جب دیہاتی اگلے سال ا ستاد کے پاس آکر اپنے گدھے کے بارے میں استفسار کرنے لگا تو استاد نے اسے بتایا کہ گدھا شہر کے ایک اہم عہدے پرفائز ہو چکا ہے اور لوگوں کے مقدمات کے فیصلے کرتا ہے دیہاتی خوش ہو کرسیدھا محولہ افسر کی عدالت میں جاپہنچا اور ایک طرف کھڑا ہو کر تماشا کرنے کے ساتھ ساتھ ”صاحب بہادر” کو اشارے کرنے لگا گویا وہ اس کا وہی پرانا گدھا ہے اس کے عجیب و غریب اشارہ بازی سے وہ بے چارہ حیران ہوگیا مگر خاموش رہا مقدموں سے فارغ ہو کر اس نے دیہاتی کو بلوا کر صورتحال جاننے کی کوشش کی تو دیہاتی نے سارا ماجرا بیان کردیا صاحب بہادر نے مدرس کو بلوا کر حقیقت جاننا چاہی تو اس نے ہاتھ جوڑ کر اس دیہاتی کی سادہ لوحی کے بارے میں بتایا اور کہا حضور میں کیاکرتا میں سمجھا یہ واپس آئے گا ہی نہیں مگر اس نے آکر اپنے گدھے کو انسان کی شکل میں دیکھنے کی ضد کی تو میں نے جان چھڑانے کے لئے اسے آپ کی عدالت میں بھیج دیا صاحب بہادر ، رحمدل آدمی تھا اس نے دیہاتی کو اپنی جیب سے بہت سا سامان خرید کر اور نقدرقم دے کر رخصت کر دیا اور استاد کو آئندہ اس قسم کا سنگین مذاق نہ کرے کی تلقین کی۔ دراصل سادہ لوح دیہاتی کے دور میں شاید علامہ اقبال بھی نہیں ہوا کرتے ہونگے کہ یہ کہانی نہ جانے کس دور سے نہ صرف اردو بلکہ انگریزی کی درسی کتب میں موجود رہی ہے ورنہ وہ دیہاتی علامہ کا یہ شعر سن کر ہی کچھ سمجھ جاتا کہ
گریزار طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو
کہ ازمغز دو صدخر فکر انسانی نمی آئی
خیر جانے دیں اور کالم کے آغاز میں ہم نے پاکستان میںگدھوں کی تعداد امسال ایک لاکھ گدھوں کے اضافے کے سوال اٹھایا تھا کہ یہ باعث تشویش امر ہے یا اس پر اظہار اطمینان کرنا چاہئے چند سال پہلے جب پرویز خٹک صوبے میں وزیر اعلیٰ تھے تو غالباً ان کی حکومت اور چین کی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت صوبے میں ”گدھوں” کے فارم بنا کر ان میںگدھوں کی نسل کشی یعنی ”پرداخت” کرکے یہ گدھے چین کو برآمد کرنے تھے خدا جانے اس معاہدے کابعد میں کیا بنا؟ اس سے پہلے ہوتا یہ تھا کہ گدھوں کی کھالوں کوزیادہ تر چین کو برآمد کرنے کا کام کیا جاتا تھا اس لئے ان دنوں ملک کے اکثر علاقوں میںدوسرے حلال جانوروں کے ساتھ ساتھ گدھوں کے گوشت کی فروخت کے حوالے سے بھی خبریں گردش کرتی تھیں اوراخبارات میں اکثر ایسے قصابوں پر چھاپے مارنے اور ان کی دکانوں سے گدھوں کے گوشت کی برآمدگی کی خبریں شائع ہوتی تھیں اللہ جانے اس حرام گوشت سے کس کس صوبے ، شہر ، علاقوں کے عوام ”مستفید” ہوتے رہے ہیں خود پشاور میں ایک ایسے علاقے سے بھی جوبندوبستی اور قبائلی علاقے کے سنگم پرواقع ہے گدھے کے گوشت کے فروخت ہونے کی اطلاعات آتی رہیں ، جس کی تفصیل میں جا کر ہم خواہ مخواہ یہ حرام گوشت کھانے والوں کو بے مزہ نہیں کرنا چاہتے تاہم ہمیں یہ فکر ضرور لاحق ہے کہ اگر یہ ایک لاکھ گدھے جو اضافی پیدا ہوگئے ہیں اگر ان کو چین یا کسی دوسرے ملک برآمد کرنے کا انتظام نہ ہوسکا تو کہیں ایک بار پھرملک میں قصائیوں کو انہیں ٹھکانے لگانے کا موقع نہ مل سکے اسی لئے ہم نے کالم کی سرخی میں تعداد کی جگہ ”مقدار” کا حوالہ دیا ہے کیونکہ اگر گدھوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ چین کے ساتھ گدھوں کے فارم بنانے اور وہاں پیدا ہونے والے گدھوں کو برآمد کرنے کا معاہدہ ہوا تھا کہیں سی پیک کو مبینہ طور پر رورل بیک کرنے والوں نے وہ معاہدہ بھی تو منسوخ نہیں کر دیا تھا؟ چین گدھوں کی پاکستان سے درآمد کرنے میں اس لئے دلچسپی لیتا تھا کہ گدھوں کے چمڑے سے مختلف لوشن ، کریم اور دیگر ایسی مصنوعات بنائی جاتی ہیں جو ”حسن اور جلد کی تازگی” برقرار رکھنے میں استعمال کی جاتی ہیں اور وہاں کی کاسمیٹکس انڈسٹری دنیا بھرمیں خواتین کے لئے ایسی مصنوعات بنانے میں سب سے آگے ہیں جن کا مقصد ”خوبصورتی” میں اضافہ کرنا ہے اس حوالے سے تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو کہتے ہیں کہ ملکہ قلوپطرہ اپنی جوانی برقرار رکھنے کے لئے ہر صبح گدھی کے دودھ سے نہایا کرتی تھی سچ کیا اور کتنا ہے اللہ ہی جانتا ہے ویسے امریکا کی دو بڑی جماعتوں ڈیموکریٹس کا انتخابی نشان بھی گدھا جبکہ ری پبلکنز کا انتخابی نشان ہاتھی ہے ، گدھا چونکہ اہل مغرب کے ہاں مقدس اور ذہانت کا سمبل ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں نے گدھے کو بطور سواری استعمال کیا ہے اس لئے وہ اس کی قدر کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں معاملہ اس کے الٹ ہے پھر بھی گدھے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر ہمارے ہاں بھی تاریخ میں ایک گدھے کی قدر و قیمت کا اندازہ اس امر سے لگایاجا سکتا کہ جب شاہ اسماعیل شہید اور سید احمد شہید نے ہزارہ میں سکھوں کے خلاف جہاد کیا تھا تو ایک گدھے کو پیغامات پہنچانے کے لئے استعمال کیا گیا تھا جسے بعد میں جہاں سکھوں نے گولی ماری تھی اس مقام پراسی گدھے کی قبر یادگار کے طور پر بنا کر امر کر دیا تھا وہ جگہ اب بھی”کھوتا قبر” کے نام سے مشہور ہے ۔ بقول جوہر میر
نہ ہوا کام جو درندوںسے
آدمی کی درندگی سے ہوا