”زما لویہ گناہ دادہ چہ پختون یم”

اکنامک سروے آف پاکستان 2024ء کی رپورٹ شائع ہوچکی ہے اور اس میں جہاں بہت سی اور باتیں لکھیں ہیں ان میں سب سے اہم ہے کہ پاکستان میں گدھوں کی تعدادمیں نمایاں طور پر اضافہ ہواہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اگر پچھلی چند رپورٹیں دیکھیں تو یہ ترقی مسلسل کئی سالوں سے ہے۔ 2022-23 کی نسبت اس دفعہ نو لاکھ گدھوں کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی رپورٹوں پر ہمیں کم کم ہی یقین آتا ہے لیکن اس رپورٹ کی تصدیق بہت جلد ہی اس بات سے ہوگئی کہ گزشتہ دنوں ٹی 20کرکٹ ورلڈکپ کے ایک میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سابق کرکٹر اعجاز احمدنے پختون کھلاڑیوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔یقین جانئے سروے رپورٹ میں ان جیسے گدھوں کو نہیں گنا گیا وگرنہ رپورٹ اور بھی اچھی آتی۔ ٹی 20کرکٹ ورلڈکپ اب کی بار سپر پاور امریکہ میں ہورہے ہیں شاید اسی لئے پاکستانی ٹیم ان سے ہار بھی گئی ہے ہاری تو وہ انڈیا سے بھی ہے مگر انڈیا سے ہم کوئی پہلی دفعہ نہیں ہارے ہیں ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم اس ٹورنامنٹ سے باہر ہوچکی ہے اور ہمیں اس کا ذرہ برابر بھی ملال یا دکھ نہیں ہے لیکن دکھ اس بات پر بہت ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ایک سابق کھلاڑی نے پختونوں کے بارے میں جو ہرزہ سرائی کی ہے۔ میں پختون نہیں ہوں تاہم میں پشاور شہر میں رہنے کے ناطے پشاوری یا خارے یا شہری کہلاتاہوں لیکن پختون کلچر کے بہت قریب ہوں اور سب کے سب دوست الحمدللہ پختون ہیں۔ میرے 90 فیصد اساتذہ پختون رہے ہیں تو اسی طرح شاگرد بھی پختون ہیں۔ 90 فیصد افسربھی پختون ہیں اور ماتحت بھی پختون ہیں۔ پانچ دھائیوں سے زائد کی عمر میں کبھی پختون کے ساتھ مقابلہ بھی ہوا اور کئی دفعہ ٹیم کی سلیکشن میں پختوں اور غیر پختون کوانتخاب بھی کیا اور بڑے فخر سے کہہ رہا ہوں کہ پختون ہمیشہ میرٹ پر منتخب ہوتے رہے ہیں۔
گزشتہ پانچ دہائیوں میں میرے پختون کئی دوست جذبات میں اس بات کا گلہ کرتے ہیں کہ ذہنی صلاحیت ہونے کے باوجود پاکستان میں ہمیں وہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ”زما لویا گناہ دادا چہ پختون یم ” ان کااکثر گلہ پنجابیوں سے ہی رہتاہے میں نے ہر دفعہ ان کی بات کی نفی کی کہ پاکستان میں ایسا نہیں لیکن اعجاز احمد کے تبصرے نے مجھے بھی جھوٹا قرار دے دیا۔ میں اب بھی پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ سارے پنجابی ایسا نہیں سوچتے اسی لئے تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم حقیقت میں پورے پاکستان کی ٹیم ہے۔ بہت اچھی بات ہے کہ اب پختون ہر میدان میں اپنا لوہا منواچکے ہیں اور خالصتاً میرٹ پر پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں بھی جگہ بنائی اورثابت بھی کیا کہ ان کی سلیکشن قابل فخر ہے۔ اس سابق کھلاڑی نے ہرزہ سرائی کی تاہم یہ اس کی ذاتی رائے ہے اور میں پورے یقین سے کہہ رہاہوں کہ اس کی اس بات کو کوئی بھی پسند نہیں کرے گا تعصب بھری اس بات پر اب تو ساراپاکستان اسے لعن طعن کررہاہے۔ بلکہ جس ٹی وی چینل پر بیٹھ کر اس نے کہا اس چینل کے سی ای او نے کھلاڑی کے بیان سے بروقت لا تعلقی کا اظہار کردیاہے۔ اس سلسلہ میں مختلف لوگوں سے رائے لی جارہی ہے اور شاہد آفریدی نے کہا کہ اس طرح کے سینئیر کھلاڑی کو اس طرح کی بات زیب نہیں دیتی اور جہاں تک سلیکشن کی بات ہے تو پختونوں میں ٹیلنٹ ہے تو وہ ٹیم کا حصہ بن رہے ہیں کیونکہ سلیکشن کمیٹی میں تو سارے کے سارے غیر پختون بیٹھے ہیں۔ پختون کھلاڑیوں کا ذکر کریں تو سب سے پہلے نام آتا ہے آل رائونڈر شاہد آفریدی کا ان کے بارے میں انٹرنیشنل کرکٹ کے لوگوں کی ماہرانہ رائے ہے کہ اس جیسا کھلاڑی کبھی آیا ہے اور نہ آئندہ آنے کے کو امکانات ہیں۔ مردان سے تعلق رکھنے والے یونس خان کو 2009ء ٹی ٹوینٹی ورلڈکپ جیتنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کی کپتانی کا اعزاز حاصل ہے ۔بھارت کے خلاف بھارت میںہی مشہور ڈبل سینچری بنانے والے یونس خان پختون ہیں۔ عمر گل ایک اور مشہور پختون تیز ترین بائولر اور یارکر سپیشلسٹ۔ نسیم شاہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مردان سے ہے اور اس کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بالخصوص افغانستان کے خلاف میچ میں نسیم شاہ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی لاج رکھ لی تھی وگرنہ ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔ میں یہاں ان کا سرسری ذر کررہا ہوں جہاں تک ان کے ٹیلنٹ کی بات ہے تو گوگل پر جاکر دیکھ لیں وہاں پر ان کی ایک ایک ٹیکنیکال ادا اور کارکردگی کے بارے میں پورے تفصیل سے لکھا ہے اسی لئے تو صرف پاکستان نہیں بلکہ ساری دنیامیں ان کے ہنر کا ڈنکا بجتاہے۔