وزیراعظم کا قوم سے خطاب

یہ روایت ہمارے ہاں کب شروع ہوئی کہ نئی منتخب حکومت کی جانب سے 100 دن مکمل ہونے کے بعد وزیراعظم اپنی حکومت کی کارکردگی کے خدوخال مستقبل کے حوالے سے قوم کے سامنے واضح کرتے ہوئے آنے والے دنوں کے پروگرام پر قوم کو اعتماد میں لیتا ہے ،یہ سلسلہ غالبا ًحکومت کے اہداف کی نشاندہی اور ان کے حصول کیلئے حکومتی ” کردار” پر میڈیا کو دی جانے والی ” ہدایت” کی وجہ سے سوروز تک محولہ سابقہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے سے احتراز، بلکہ صرف مثبت پہلو اجاگر کرنے پر توجہ دی جائے، ملکی حالات کس نہج پر پہنچے اور حالات نے کیا کروٹ لی کہ صرف سو روز تک تمام تر حالات( مثبت و منفی) سے آنکھیں بند کر کے میڈیا کے لب بند کروانے کے اس” حکم نامے” نے آگے بھی زبان کھولنے سے احتراز کی شکل اختیار کر کے متعلقہ حکمرانوں کو جس ” بے فکری” اور مخالفانہ بات نہ سننے کی عادت میں مبتلا کیا، اس کا خمیازہ آج تک قوم بھگت رہی ہے، اس کے بعد آنے والی ہر حکومت نے خواہ وہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں قائم ہوئی یا پھر عام انتخابات سے پہلے قائم ہونے والی نگران حکومتیں، سب اس روایت پر عمل کرتے ہوئے پہلے 100 روز کی کارکردگی کے حوالے سے حقائق قوم کے سامنے رکھنے اور ان پر بحث مباحثے کے در کھولنے پر مجبور ہوئیں، اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے موجودہ منتخب حکومت کے سربراہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز قوم سے اپنے خطاب میں جن نکات پر روشنی ڈالی ان میں سب سے اہم تو قوم کو یہ” خوشخبری” دینا ہے کہ آئی ایم ایف کا موجودہ پروگرام آخری ہوگا کیونکہ بقول ان کے معاشی اہداف حاصل کرنے کیلئے پوری طرح کمرکس لی ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ترقی کی دوڑ میں اپنے ہمسائے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیں گے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب بھی ترقی کا سفر شروع ہوا تو کوئی نہ کوئی حادثہ ہوا، وزیراعظم شہباز شریف کے ان دعوؤں میں اگرچہ ماضی کے حوالے سے کچھ نہ کچھ حقائق تو ضرور موجود ہیں یعنی جب ملک میں میاں نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی تو انہوں نے آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا تھا مگر پھر پراسرار طور پر پانامہ آیا اور باوجود یہ کہ اس میں میاںنواز شریف کا کہیں دور دور تک ذکر نہیں تھا جبکہ پانامہ میں لگ بھگ 400 افراد کے نام شامل ہونے کے باوجود گھیرا صرف ایک شخص کے گرد تنگ کر کے اسے جو” سزا ”دی گئی اس کا اصل ہدف” پاکستان” تھا اور اب یہ سب حقائق ایک ایک کر کے سامنے آرہے ہیں جبکہ اس مبینہ سازش میں کون کون شامل رہے ہیں اس بارے میں بھی قوم اچھی طرح آگاہ ہو چکی ہے، بہرحال قطع نظر اس کے وزیراعظم کی یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس آئندہ نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے ،تاہم یہ وعدہ تب پورا ہو سکے گا کہ واقعی اخراجات پر قابو کر کے سادگی کو اڑھنا بچھونا بنایا جائے، وزیراعظم کی یہ بات بھی باعث اطمینان ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں وہاں قرضے لینے کی بجائے سرمایہ کاری لانے کی بات کرتے ہیں، اصولی طور پر بھی پاکستان کے معاشی مسائل کا حل کشکول لے کر امداد مانگنے یا قرض حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ سرمایہ کاری لا کر ملک کو خود کفالت کے راستے پر گامزن کر کے ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر آگے بڑھانا چاہیے ،دنیا میں امداد یا قرضوں کیلئے منتیں ترلے کرنے والے ممالک کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا جبکہ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ 70 سال سے زیادہ عرصے کے دوران دیگر ممالک کے مقابلے میں (جو ایک دو بار ہی آئی ایم ایف کے پاس جا کر سنبھل گئے) بقول وزیراعظم 25 بارآئی ایم ایف کے پاس جانے کے باوجود ترقی کی منزل طے نہیں کر سکا اور اس کا کارن قومی وسائل سے استفادہ تو ایک طرف الٹا بیرونی قرضوں پر ”مراعات یافتہ جملہ طبقات ” کی عیاشیوں سے تمام وسائل کی لوٹ کھسوٹ ہی قرار دیا جا سکتا ہے، وزیراعظم نے اپنے خطاب میں قوم سے جو وعدے کئے ہیں خدا کرے کہ ان کی حکومت ان وعدوں پر صدق دل سے عمل پیرا ہو کر وہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے جس کا نتیجہ معاشی خود مختاری کی صورت نکل سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو جس بری طرح ہماری معیشت آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑی ہوئی نظر آتی ہے اس سے چھٹکارا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور نظر آتا ہے اور مقرر کردہ اہداف کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ قوم کو سادگی کی راہ پر ڈالا جائے، قومی وسائل کی ممکنہ لوٹ مار کی راہ کھوئی کرنے کیلئے تمام ترصلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے، ماضی میں مراعات یافتہ طبقات اربوںکھربوں کے قرضے حاصل کر کے اپنے اثر رسوخ کے بل پر انہیں معاف کروا کر ڈکار لئے بغیر ہضم کرتے رہے ہیں ،یہاں تک کہ تحریک انصاف حکومت کے اخری دنوں میں اربوں ڈالر کے بلا سود قرضے اپنے منظور نظر افراد میں” بندر بانٹ” کی طرز پر دیئے ہیں جن کی نہ تو اب تک واپسی ہوئی نہ ہی ان کی تفصیل قوم کے سامنے ا سکی، یہ اور دیگر کھربوں کے قرضے جو بینکوں سے لے کر ہڑپ کر دیئے گئے ہیں ان کی بلا تخصیص واپسی کیلئے اقدامات کئے جائیں یہ قوم کا پیسہ ہے جس کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں:  وہ اپنی خو ْ نہ چھوڑیں گے،،،،،