قابل فخر و تقلید

پلاسٹک بیگز کو عالمی سطح پر ماحول اور انسانی صحت کیلئے مضر قرار دیتے ہوئے گزشتہ چند برس سے ناقابل تحلیل شاپنگ بیگز کی تیاری ،فروخت اور استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے مگر ملک بھر میں قائم ہزاروں کارخانے اب بھی دن رات پلاسٹک کے دانے سے مختلف مصنوعات بنانے میں مصروف ہیں اور نہایت دھڑلے سے پورے ملک میں یہ مضرسحت شاپنگ بیگزاستعمال کئے جارہے ہیں،جبکہ استعمال کے بعدیہ بیگزناکارہ قرار دیکر بے پرواہی سے ضائع کر دیتے ہیں جو سڑکوں، گلیوں اور نالیوں میں نکاسی آب کو بری طرح متاثر کرنے کا باعث بنتے ہیں اور گندگی کے ڈھیروں، ڈمپروں میں ماحول کی تباہی اور بربادی کا باعث بنتے ہیں ،ماہر ین ماحولیات کے مطابق ان ناکارہ شاپنگ بیگز کو ری سائیکل کر کے بائی پراڈکٹ کے طور پر سیاہ رنگ کے جو شاپر بنائے جاتے ہیں ان میں خاص طور پر پھل ،فروٹ اور سبزیاں ہی فروخت کی جاتی ہیں جس سے کینسر کے مرض میں اضافہ ہوتا ہے، مگر کسی کو بھی اس ” ظلم” کا نوٹس لینے کی فرصت نہیں ہے ،بہرحال اب کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں انہی ناکارہ شاپنگ بیگز کو” کارآمد” بنا کر ان سے سڑک تعمیر کر دی گئی ہے، ڈی ایچ اے کے فیز 8 خیابان اتحاد میں تجرباتی طور پر 300 میٹر لمبی اور9.3 میٹر چوڑی سڑک تعمیر کرنے میں 2.5 میٹرک ٹن میٹریل استعمال کر کے جو تجربہ کیا گیا ہے اس کے نتائج خاصے سے حوصلہ افزاء ہیں ،اور جو سڑک تعمیر کی گئی ہے وہ معیار کے لحاظ سے ہر طرح قابل اطمینان قرار دی جا رہی ہے، اب کراچی کے مزید علاقوں ڈیفنس و کلفٹن میں بھی پلاسٹک بیگز سے سڑکیں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو یقینا باعث اطمینان امر ہے اور پاکستانی انجینئرز کی صلاحیتوں کا مظہر ہے ،اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو پورے ملک میں اس نئی ” ٹیکنالوجی” کا استعمال کر کے نہ صرف مضبوط ،عمدہ سڑکیں تعمیر کی جائیں بلکہ اس سے ماحول کی آلودگی پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں:  سرتسلیم خم