حد ہوا کرتی ہے ہر چیز کی اے بندہ نواز

عید کے دنوں میں جہاں ایک جانب سورج کی تپش عروج پر رہی قربانی کے جانوروں کی آلائشوں سے پیدا ہونے والی گرمی میں مزید اضافہ ہوا ، وہاں پیسکو کی جانب سے لوڈ شیڈنگ میں بے پناہ اضافے نے عوام کا جینا دو بھر کردیا اور انسانی برداشت کا پارہ بلندی کی طرف پرواز کی وجہ سے جذبات بے قابو ہوکر ایک بار پھر حکومتی ایم پی اے کی قیادت میں بپھرے ہوئے عوام نے رحمن بابا گرڈ سٹیشن پر ”دھاوا” بول کر گرڈ سے منسلک مختلف فیڈرز بند کر دیئے خبروں کے مطابق پیسکو کو 1600 میگا واٹ کی جارہی ہے ادھر وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بھی اس صورتحال پر شدید برہمی کااظہار کیا ہے ، جہاں تک حکومتی جماعت کے ایم پی اے کی قیادت میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران رحمن بابا گرڈ پر ہونے والی دھاوے کاتعلق ہے اصولی اور قانونی طور پر اگرچہ اس قسم کے رویئے کی حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن عوام کے جذبات بھڑک اٹھیں تو ان پر قابوپانے کی کوئی بھی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی ، جس طرح حال ہی میں آزاد کشمیر میں بھی اسی نوع کی صورتحال پیدا ہونے کے بعد وہاں حکومت نے کشمیری عوام کے مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہوئے نہ صرف دیگر مطالبات مان لئے تھے بلکہ بجلی کی قیمت فی یونٹ تین روپے بھی مقرر کر دی کیونکہ ان کا موقف یہ تھا کہ وہ بجلی خود پیدا کرتے ہیں اور ان کے دریائوں پر بنے ڈیمز سے سستی ترین بجلی وہ مہنگے داموں کیوں خریدیں ، آزاد کشمیر کے محولہ احتجاج کے بعد اب خیبر پختونخوا میں بھی عوام کے جذبات بعینہ اسی طرح ابھر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنائے جارہے ہیں جن میں بطور خاص خیبر پختونخوا میں بجلی بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر کچھ ٹیکسوں پر عوام کے اندر شدید تحفظات کے علاوہ بعض علاقوں میں 22 گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ پر بھی اعتراضات کئے جارہے ہیں ، اصولی طور پر سوال تو اٹھتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پانی سے سستی ترین بجلی حاصل کرنے کے بعد انتہائی مہنگے داموں واپس صوبے کے عوام کو فروخت کرنے کااور اس پر بھی فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پرناجائز ٹیکس لگانے کا کیا جواز بنتا ہے پھر قومی گرڈ سے ہر صوبے کا کوٹہ مقرر ہونے کے باوجود اگر مقررہ کردہ کوٹے کے مطابق ہی بجلی فراہم کی جائے توشاید کسی کو اعتراض نہ ہو، مگر 22/22 گھنٹے تک عوام کو بجلی سے محروم رکھنے کی سوچ کسی بھی طور ملکی مفاد میں نہیں ہے ، اور اسی وجہ سے عوام کے اندر غیض و غضب کا ابھرنا فطری امر ہے ، پھر یہ بھی ہے کہ جن علاقوںمیں 18سے 22 گھنٹے کی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ، وہاں کیا سب لوگ ہی ”بجلی چور” ہیں اور ایسا کوئی بھی نہیں جو باقاعدہ بل ادا کرتا ہو؟ تو پھرایسے لوگوں پر بھی اتنی طویل لوڈشیڈنگ تھوپنے کی ناانصافی کا کیا جواز اور جواب ہوسکتا ہے سوشل میڈیا نے اب سب حقیقتیں واضح کر دی ہیں اور ایسی اطلاعات آتی رہتی ہیں کہ بڑے صوبے میں پہلے تو لوڈ شیڈنگ ہوتی ہی نہیں اور اگر ہوتی بھی ہے تو زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے ، جبکہ خیبر پختونخوا میں 22 گھنٹے ، گویا وہاں دو گھنٹے بجلی نہیں ہوتی جبکہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں دو گھنٹے ، بجلی آتی ہے اس صورتحال کی ذمہ داری کس پرعاید ہوتی ہے ؟ اس حوالے سے بھی حقائق کوئی پوشیدہ امرنہیں ہے ، یعنی اس صورتحال کی تمام تر ذمہ داری مبینہ طور پر خود واپڈا اہلکاروں پر ڈالنے کی خبریں عام ہیں جو نہ صرف ملک بھرمیں مفت بجلی سے متمتع ہو رہے ہیں بلکہ بجلی چوروں کو ”سہولت کاری” میں بھی ملوث ہیں ، اس کے علاوہ دیگر مراعات یافتہ طبقات کو جس طرح مفت بجلی کے ہزاروں یونٹ سرکاری اجازت سے پلیٹ میں پیش کرکے مستفید کیا جارہا ہے وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، ان تمام تر تلخ حقائق کے علاوہ حکومتی سطح پر سولر سسٹم سے بجلی پیدا کرنے والوں کی جس طرح حوصلہ شکنی شروع کر دی گئی ہے اور انہیں سولر سسٹم سے بجلی پیدا کرنے سے منع کرنے کے لئے مختلف قدغنیں لگائی جارہی ہیںوہ ایک الگ سے موضوع ہے حالانکہ دنیا پھر میں پرائیویٹ سطح پر سولر انرجی ، ونڈ انرجی اور دیگر متبادل ذرائع کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تاکہ پانی ، گیس اور فیول سے پیدا ہونے والی بجلی سے صنعتیں چلا کر مصنوعات کی قیمتیں اعتدال پر رکھی جائیں ،بلکہ برآمدات بڑھانے میں سرکاری ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کا استعمال کرکے عالمی مارکیٹوں میں مقابلہ کرکے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکے مگر ہمارے ہاں صورتحال بالکل الٹ ہے اور عوام کومجبور کیا جاتا ہے کہ وہ آئی پی پیز سے مہنگی ترین بجلی خریدنے (خواہ بجلی ہو یا نہ ہو) کا پابند کرکے آئی پی پیز کی تجوریاں بھری جا سکیں جب تک یہ سوچ تبدیل نہیں ہو گی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا اور لوگ احتجاج کرتے رہیں گے۔

مزید پڑھیں:  سچ اور جھوٹ کے درمیان