کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں!

مودی سرکارنے تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی ایک معتبر صحافی اور لکھاری اروندھتی رائے کے خلاف 14 سال قبل ایک پروگرام کے دوران ان کی اس رائے کے خلاف کہ ”کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں” دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ قائم کر دیا ہے بھارتی میڈیا کے مطابق اروندھتی رائے کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت مودی کے دوست اور بے جی پی کے نئی دہلی کے سینئر رہنما وی کے سکسینا نے دی جو اس وقت لیفٹیننٹ گورنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں گورنر ہائوس کے ترجمان کے مطابق بغاوت کے ا لزامات سے متعلق غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ یو اے پی اے کے ایک سیکشن کے تحت مقدمہ چلانے کی اجازت دی گئی ہے یاد رہے کہ 62 سالہ خاتون صحافی اروندھتی رائے نے چودہ سال قبل نئی دہلی میں کشمیر پر ہونے والے ایک پروگرام میں کہاتھا کہ مقبوضہ کشمیر کبھی انتظامی طور پر بھارت کااٹوٹ انگ نہیں رہا اروندھتی رائے انعام یافتہ ناول نگار ہیں جو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی پالیسی اور قوانین پر کھلے عام تنقید کرتی ہیں اروندھتی رائے کے اس بیانیہ سے واضح ہو گیا ہے کہ جو چپ رہے گی زبان خنجر ، لہو پکارے گا آستیں کا ، اروندھتی رائے کے خلاف جھوٹا مقدمہ بھارتی عدلیہ کے لئے امتحان بن کر عالمی سطح پر بھارت کے عدالتی نظام کی حقیقت دنیا بھر پر آشکارہ کرے گا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوریہ اور انصاف قائم کرنے پر ایمان رکھنے والا ملک ہے اب دیکھتے ہیں کہ عدالت انصاف کے معیار قائم کرنے اور آزادی رائے کے اظہار پر واقعی یقین رکھتا ہے یا پھر ایک تنگ نظر جمہوریت کا داعی ہے۔