ٹیکسوں میں ردو بدل

ایف بی آر کے مطابق ملک بھر میں 36 لاکھ ریٹیلرز صرف چار سے پانچ ارب سالانہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں جبکہ تنخواہ دار طبقہ 375 ارب روپے ٹیکس ادا کر رہا ہے ادھر حکومت نے مجوزہ ٹیکسوں کی جزوی واپسی کا فیصلہ کرتے ہوئے تنخواہ دار طبقے اور برآمد کنندگان کے لئے انکم ٹیکس شرح میں تبدیلی کے بارے میں مشاورت شروع کر دی ہے اور بچوں کے لئے درآمد شدہ دودھ پر جو 18فیصد سیلز ٹیکس اگلے مالی سال کے بجٹ میں عاید کیا گیا ہے اب اسے مرحلہ وار نافذ کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے مجوزہ ٹیکس کے نفاذ کے بعد دودھ 290 روپے سے 342 روپے فی لیٹر ہو جائے گا ،ایک اعشاریہ پانچ ٹریلین روپے کے مجوزہ ریونیو بڑھانے پر حکومت کو تنقید کا سامنا ہے جبکہ ایف بی آر کے مطابق آئی ایم ایف بھی ٹیکس شرح میں کمی پر رضامند ہوگیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مالی سال کے بجٹ کے بعد عمومی طور پر یہ تاثر پختہ ہو جارہا ہے کہ یہ بجٹ حکومت نے نہیں بلکہ آئی ایم ایف نے تیار کیا ہے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر تو اس بجٹ پر بعض دلچسپ تبصرے بھی عام ہیں بہرحال خود ایف بی آر کے چیئرمین کا یہ اعتراف اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کے لئے کافی ہے کہ صرف تنخواہ دار طبقہ ملک کاواحد طبقہ ہے جوباقاعدگی کے ساتھ ٹیکس ادا کرتا ہے اور یوں ان کی تنخواہوں سے 375 ارب روپے کی کٹوتی ایٹ سو رس ہی کی جاتی ہے کہ اس مظلوم طبقے کے پاس اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں یعنی ہر ماہ ان کی آمدن سے ٹیکس ان کی تنخواہوں سے ایڈوانس ہی میں کاٹ لی جاتی ہے جبکہ ملک بھر میں 36 لاکھ ریٹیلرز سے صرف چار سے پانچ ارب روپے ہی وصول کیا جاتا ہے ظاہر ہے اس حوالے سے کاروبار کودستاویز کی صورت دینے میں ناکامی ہی اسے کم ٹیکس اکٹھا کرنے کی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے رہ گئے بڑے بڑے سرمایہ دار ، کارخانے دار ، صنعتکار وغیرہ تو ان کوٹیکس چوری کے نت نئے طریقے سکھانے کے لئے ماہرین ٹیکس موجود ہیں یہی صورتحال منتخب نمائندگان کی ہے بہرحال جب تک ان سے ان کے حصے کا ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا اس لئے تنخواہ دار طبقے پر بے پناہ ٹیکسوں کا بوجھ ان کے ساتھ زیادتی ہے کیونکہ حالیہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں کئے جانے والے اضافے سے زیادہ ٹیکس کی مجوزہ کٹوتی سے ان کی آمدن میں اضافہ کے برعکس ان کو نقصان کا اندیشہ ہے ۔

مزید پڑھیں:  سابق وزراء کے اعترافی بیانات