اثاثے اور لائی بے لی ٹیز

دنیا کے اور پاکستان کے لوگوں میں جو بنیادی فرق ہے اس کا تعین عموماً لوگ نہیں کرپاتے ۔ دنیا میں ہر کام اور مسئلہ کو اس کے حقیقی بنیادوں کے ساتھ دیکھا اور مانا جاتا ہے اور اس پر بحث بھی مروجہ اصولوں اور قوانین کی روشنی میں کی جاتی ہے ۔جبکہ پاکستان میں ہر بندے کے پاس اپنے اصول اور توجیحات ہیں ۔ اس کام کو سیاسی ، علاقائی ، مذہبی ، لسانی ، گروہی اور مفاداتی دلچسپی اور ضرورت نے اور شدت بخشی ہے ۔ اس لیے یہاں کسی پنجابی کا بیانیہ کسی پشتون ، کسی پشتون کا کسی بلوچی اور کسی سندھی کا کسی سرائیکی سے مطابقت نہیں رکھتا یہی حال مختلف سیاسی سوچ رکھنے والوں کی ہے اور کچھ یہی صورتحال مختلف مسالک کے لوگوں کی بھی ہے ۔دنیا کے تمام ممالک پاکستان اور چند ممالک کو چھوڑ کر اپنی معیشت اور انتظام کو حقیقی معنوں میں ملک کی بہتری کے لیے ترتیب دیتے ہیں ۔ جس سے ان کے معاشی مسائل ختم ہوجاتے ہیں اور ان کے شہریوں کو ایک اچھے انتظامی سلسلے میں زندگی گزارنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ پاکستان میں اس کے الٹ ہورہا ہے ۔ یہاں معیشت کو بہتر کرنے کے لیے کوئی کام نہیںکیا جاتا بلکہ معیشت کو خراب کرنے کے تمام کام تواتر کے ساتھ ہورہے ہیں ۔ انتظامیہ کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ جس کام کے لیے متعین ہیں اس کی انجام دہی کریں گے اور اس میں بہتری پیدا کریں گے ۔ مگر پاکستان میں علمی سروے اٹھا کر دیکھیں جو محکمہ جس کام کے لیے بنایا گیا ہے یا جو اہلکار جس کام کے لیے تعینات کیے گئے ہیں ۔ وہی اسے سب سے زیادہ خراب کرنے یا کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں ۔ محکموں کی کرپشن کا انڈکس اٹھا کر دیکھیں ۔ آپ کو اس میں وہ سارے محکمے سرفہرست نظر آئیں گے جن کو کرپشن ختم کرنے یا قابو میں کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ خرابی دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔ جو دوسرے ملکوں میں اثاثہ ہیں ہمارے ہاںبوجھ بنتے جارہے ہیں ۔ سٹیل مل سے لیکر پی آئی اے تک ایک لمبی فہرست ہے ۔ جو گزشتہ ستر برسوں میں پہلے اثاثے بنے پھر بوجھ بن گئے ۔ اور یہ بات اب ہر محکمہ کے متعلق کہی جاسکتی ہے کہ وہ ملک اور اس کی معیشت پر بوجھ بن رہا ہے ۔ یہی صورتحال نائیجیریا ، سوڈان ، ایتھوپیا، لیبیا، شام اور دیگر تباہ حال ملکوں میں ہے ۔ ہمارے ملک کے سارے محکمے بدحالی کا شکار ہیں لیکن ان کو چلانے والے اتنے خوشحال ہیں کہ پوری دنیا میں اس کی مثال نہیںملتی ۔پاکستان سے باہر جائیدادیں بنانے اور اپنے بچوں کو مستقل رہائش دلانے والے لاکھوں پاکستانی وہ ہیں جن کو ان اداروں میں خدمات دینے کے عوض تنخواہ پر رکھا گیا اور ان کی کل ملازمتی زندگی کی تنخواہ جمع کی جائے تو اس سے ایک دس مرلے کا گھر نہیں بن سکتا مگر وہ سب متحدہ عرب امارت ، پرتگال ، سپین ، انگلینڈ ، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں اربوں روپے کے گھروں کے مالک ہیں اور ان کے بچوں ان کی دس برس کی تنخواہ کے برابر پیسے ایک ماہ میں خرچ کرتے ہیں ۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان سب نے مل کر اس ملک کے اثاثے تباہ کرڈالے اور انہیں بوجھ بنا کر اپنی خانگی زندگی بہتر کی اور ملک کی ننانوے فیصد آبادی کو اب ان کا بوجھ اٹھا نا پڑ رہا ہے ۔ آپ زراعت کے محکمے میں جاکر ٹریکٹروں کی تعداد دیکھیں اور ان کے انتظام سنبھالنے والوں کی عیاشی کے لیے خریدے گئے پرتعیش گاڑیوں کی کی تعداد دیکھ لیں اور پھر جو وہاں ٹریکٹروں کا حال ہے وہ دیکھیں اور جو عیاشی کے لیے گاڑیاں لے کردی گئی ہیں ان کا حال دیکھیں ۔یہ کچھ زراعت کے ایک محکمے پر موقوف نہیں ہے ہر ادارے پر اتنے اضافی بوجھ ڈالے گئے ہیں کہ اس کا تصور امریکہ اور چین بھی نہیں کرسکتے ۔ صرف اسلام آباد میں ملک کو اس حال تک پہنچانے اور مزید خراب کرنے والے بابوؤں کے لیے ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ گاڑیاں سرکاری خزانے سے خریدی گئی ہیں اور یہ عمل مسلسل جاری وساری ہے ۔ ان گاڑیوں کے لیے تیل ،مرمت ، ڈرائیور ۔ ٹوکن ، کی مد میں سالانہ ڈھائی سو ارب روپے سے زیادہ کا خرچہ ہوتا ہے ۔اسی طرح دیگر مراعات پر سالانہ چار سو ارب روپے کا خرچہ اٹھتا ہے ۔ صرف ایک شہر کا یہ اضافی خرچہ جس کی مثال دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ملتی کو ختم کردیا جائے تو سالانہ سات سو ارب کی بچت ہوسکتی ہے اور ان گاڑیوں کی فروخت سے کھربوں روپے مل سکتے ہیں جن کو استعمال کرکے ایک چھوٹا ڈیم بنایا جاسکتا ہے جس سے کسی ایک بڑے شہر کے لاکھوں باسیوں کو پانی اور اسی شہر کو سستی ترین بجلی مل سکتی ہے ۔ مگر ایسا اس لیے نہیں کیا جاتا کہ ڈیم ایک اثاثہ ہوگا اور یہ قوم تو بوجھ بنانے کے لیے پیدا ہوئی ہے ۔ اس ملک میں جن جن کے ذمے مالی معاملات کو درست رکھنے کا کام تھا وہ سب کمال مہارت سے اس اختیار کا استعمال اپنے ذاتی فائدے اور ملک کے نقصان کے لیے کررہے ہیں ۔ جنہیں تنخواہوں اور مراعات کو ملکی معاشی صحت کے مطابق رکھنے کا کام سونپا گیا ہے وہ خود تنخواہ سے چار سو گنا زیادہ مراعات لے رہے ہیں اور سیاست دان ان کو خوش کرنے کے لیے بونس پر بونس دئیے جارہے ہیں ۔اور اس کا سار ا بوجھ ملک کے غریبوں پر ڈال دیتے ہیں ۔ ٹیکس لگانے والے جن سے ٹیکس لینا چاہئیے ان کو چھوڑ کر جن پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا چاہئیے ان پر ٹیکس لادے جارہے ہیں ۔ ہر ادارہ خدمات دینے کی فکر میں نہیں ہے بلکہ مراعات کی تگ و دو میں ہے ۔ اسمبلی کے ممبران ، کابینہ کے ارکان ،عدالتوں کے جج صاحبان ، انتظامی عہدہ دارن ، اور جو جو جہاں جہاں کسی بھی منصب پر بیٹھا ہے اس کا پہلے اور آخری کام یہ ہے کہ وہ اپنے مراعات میں اضافہ کرے ۔ ان سے کوئی پوچھنے کی زحمت نہیں کرسکتا کہ صاحب آپ کے ذمہ یہ کام بھی تھا ۔ جو کہ نہیں ہورہا اور اس سے معاشرے میں خرابی پیدا ہورہی ہے ، ملک معاشی طور پر گنگال ہورہا ہے ، پاکستان کو گروی رکھا جارہا ہے ۔ اس کے اثاثوں کو پہلے بوجھ بنا دیا جاتا ہے پھر اونے پونے اپنے فرنٹ مینوں کو فروخت کردیا جاتا ہے ۔ بجلی اور گیس کا بحران پیدا کیا جاتا ہے اور پھر اس آڑ میں غریبوں کو لوٹ کر کھربوں روپے کمائے جاتے ہیں ۔ چینی ، گندم اور دیگر اجناس کی مصنوعی قلت پیدا کرکے مافیاز کھربوں لوٹ لیتے ہیں اور ان کو روکنے والے ان کا ساتھ دے کر اربوں کے حصہ دار بنتے ہیں ۔ اس ملک میں جس د ن اثاثے محفوظ ہوجائیں گے اور ان کو بوجھ بنانے والوں کا احتساب ہوگا یہ ملک ترقی کرے گا ۔ یہی دوسرے ملکوں نے کیا ہے ۔ وہ دن کب آئے گا اس کا علم تو نہیں ہے مگر اس وقت سب یزید کے صف میں ہیں ۔اس صف سے تاریخ گواہ ہے کہ لوگ صرف اس وقت نکلتے ہیں جب سب کچھ تباہ ہوچکا ہوتا ہے ۔ تاریخ کو بدلا بھی جاسکتا ہے ۔اہل فرانس نے آج سے ڈھائی سو برس پہلے ثابت کردیا تھا ۔ جب ایک ہی دن میں سارے بوجھ ختم کرکے اثاثے بحال کردئیے گئے تھے ۔