ارون دھتی رائے بہانہ شیخ شوکت نشانہ؟

بھارت کی معروف ناول نگار ،مصنف اورسرگرم سماجی کارکن باسٹھ سالہ اروندھتی رائے پر غداری کے مقدمے کی منظوری دیدی گئی ہے ۔اب بھارت کا موجودہ سسٹم اور اس کے وسائل” دی گاڈ آف سمال تھنگز” اور کشمیر دی کیس آف فریڈم نامی بیسٹ سیلر ناولوں اور دوسری کتابوںکی مصنفہ اور عالمی ایوارڈ یافتہ شخصیت کو غدار ثابت کرنے کے لئے وقف رہیں گے ۔اس کی وجہ کشمیر پر ان کے خیالات ہوں گے۔وہ خیالات اور الفاظ جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی انداز میں بھارت کے قومی مشاہیر اور آزادی کے ہیروز نے وقتاََ فوقتاََ دہرائے ہیں ۔ارون دھتی رائے نے 2010میں کشمیر کے سیاسی قیدیوں کے حوالے سے ایک ایسے سیمینار سے خطاب کیا تھا جس سے سید علی گیلانی اور پروفیسرڈاکٹر شیخ شوکت حسین نے بھی خطاب کیا تھا ۔اس ڈائس کے پس منظر میں” آزادی واحد راستہ ”کے الفاظ پر مشتمل بینر آویزاں تھا ۔اس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ارون دھتی رائے کے الفاظ یوں تھے”کشمیر کا علاقہ جس پر ہندوستان اور پاکستان دونوں کا مکمل طور پر دعویٰ ہے اور جزوی طور پر دونوں کے زیر انتظام ہے کبھی ہندوستان کا اٹوٹ حصہ نہیں رہا”۔ارون دھتی رائے کا تعلق جنوبی بھارت کی ریاست آسام سے ہے اور وہ ان کے خیالات متنازعہ اور غیر مبہم رہے ہیں ۔کشمیر جیسے مسئلے پر جو بھارت میں حددرجہ حساس بنادیا گیا ہے ان کے جرات مندانہ خیالات اسی رویے کا اظہار ہیں۔بھارت کی ریاست ایک شہرہ آفاق بھارتی ناول نگار اور جانی پہچانی شخصیت پر غداری کا مقدمہ چلا نے میں کس حدتک کامیاب ہوتی ہے اور کیا وہ اس معاملے میں سنجیدہ بھی ہے؟ ان سوالوں سے قطع نظر یہاں بھی برق ایک کشمیری دانشور اور شہ دماغ پروفیسر شیخ شوکت حسین پر گرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے شیخ شوکت حسین سری نگر یونیورسٹی کے سابق پروفیسراور آزادی پسندلگیسی کے بہترین دماغوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔وہ کشمیر کے ایک سیاسی تجریہ نگار ،قانون بین الاقوم کے ماہر،حقوق انسانی کے سرگرم وکیل اور تنازعہ کشمیر پرکشمیر ساگا،کشمیر پروفائلز ،فیسنٹس آف ری سرجنٹ کشمیر اور اسلام اینڈ ہیومن رائٹس سمیت کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جواپنے تصورات کو اپنے رنگ وآہنگ کے ساتھ اگلی نسل تک منتقل کرتے ہیں ۔اس لئے ارون دھتی رائے اس وار سے بچ پاتی ہیں یا نہیں مگر شوکت حسین جیسے کرداروں کو نشان ِ عبرت بنانا بھارتی ریاست کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔یوں بھی جب کوئی سامراج کسی قوم میں شعور کی لہروں کو روکنا چاہتا ہے تو اس کا اصل نشانہ اہل دانش اور بینش ہی بنتے ہیں کیونکہ یہ اپنی آنے والی نسلوں کو خواب دیکھنے ،خواب بیچنے اور خواب دکھانے والے لوگ ہوتے ہیں ارون دھتی رائے کہ یہ سوچ بھارت کے شہریوں کے لئے ایک خوش خبری ہو سکتی ہے کہ بھارت میں فاشسٹ رویوں کو یورس گیئر لگ گیا ہے مگر کشمیریوں کے لئے اس میں امید کا کوئی پہلو نہیں ۔بھارت جب خالص جمہوری ملک بھی تھا تب بھی کہا جاتا تھا کہ اس کی جمہوریت کی حد لکھن پور یعنی جموں وکشمیر اور بھارت کی سرحد پر ختم ہوتی ہے اور اب اگر بھارت میں فاشسٹ رویوں کی کمزور ی بھی ہوتی ہے تو یہ ضعف اور کمزور ی صرف لکھن پور پہنچ کر ٹھہر جائے گی اس سے آگے جموں وکشمیر کے عوام کے لئے بھارت کا دوسرا پیمانہ ہی رائج رہے گا کیونکہ بھارت کے فیصلہ ساز کشمیر کو سیکورٹی کے زاویے سے دیکھتے چلے آرہے ہیں ۔ان کے خیالات اس خوف میں ڈھل کر رہ گئے ہیں کہ اگر انہوں نے کشمیر کو جمہوریت اور شہری آزادیوں کے فریم میں رکھ دیا تو اس سے کشمیر پر بھارت کی گرفت ڈھیلی پڑے گی اور چین یا پاکستان اس کمزور کا فائدہ اُٹھا کر کشمیر کو اس کے ہاتھ سے اُچک لیں گے ۔بھارت کو یہ اطمینان ہونا چاہئے تھا کہ جب تک اسے امریکہ کی سرپرستی حاصل ہے اور پاکستان امریکہ کے شکنجے میں ہے کوئی بھی کشمیر کو اس کے ہاتھ سے اُچک لینے کی جرات نہیں کر سکتا ۔وگرنہ 1962کی ہند چین جنگ تو اس کا بہترین موقع تھا جب چین نے بھارت کی فوج کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا اور پاکستان کو کشمیر میں فوجی پیش قدمی کا مشورہ دیا تھا مگر امریکہ نے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے وعدۂ فردا کے تحت پاکستان کو کسی مہم جوئی سے روک دیا تھا ۔اس لئے ارون دھتی رائے اور شیخ شوکت حسین کے مقدمات دوالگ رویوں اور ذہنوں سے لڑے جائیں گے تو اس میں کوئی اچنبھا نہیں ہونا چاہئے ۔یوں ریاست کے ان دونوں ملزموں کو کیرالہ اور کشمیر کے دو الگ خانوں میں رکھا جا سکتا ہے۔ارون دھتی رائے کا مقدمہ اور اس کی بنیاد بننے والے خیالات بہرحال مسئلہ کشمیر کی ایک حقیقت اور اس کے وجود کا اظہار ہوں گے اور دنیا کو ایک بار پھر اندازہ ہوگاکہ کشمیر نام سے جو یونین ٹیریٹری اس وقت موجود ہے وہ حقیقت میں ایک تاریخی تنازعہ کا دوسرا نام ہے اور یہ بات ارون دھتی رائے جیسے ثقہ دانشور عالمی ایوارڈ یافتہ مصنف،فلم ساز اور تاریخ کے طالب علم بھی تسلیم کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  فریاد کچھ تو ہو!