وفاقی بجٹ پر آئی ایم ایف خوش، عوام پر بوجھ بڑھنے لگا

ویب ڈیسک: وفاقی بجٹ برائے مالی سال 25-2024ء میں آئی ایم ایف کی تمام گائیڈ لائن کو فالو کرنے پر عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے اظہار اطمینان کیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں بجلی سمیت تمام ضروریات زندگی کی قیمتوں کو پر لگ گئے۔ حالیہ بجٹ میں بجلی صارفین پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
بجلی صارفین 1952 ارب روپے کی خطیر رقم بطور کیپیسٹی چارجز ادا کریں گے جو اگلے مالی سال کے لیے 30.88 روپے فی یونٹ بجلی کی نئی قیمت خرید میں 18.39 روپے فی یونٹ کا حصہ ڈالے گی۔
ذرائع نے کہا کہ بجلی کی قیمت خرید میں صارفین 30 جون 2024 تک 17.02 روپے فی یونٹ ادا کررہے ہیں۔
نیپرا کی رپورٹ کے مطابق آفیشل ورکنگ میں ڈسکوز کی بجلی کی خریداری کی قیمت مالی سال 24ء میں 26.02 روپے سے مالی سال 25کے لیے 4.86 روپے فی یونٹ بڑھ کر 30.88 روپے فی یونٹ ہوگئی ہے۔
صارفین مالی سال 25ء میں 153.755 ارب روپے ادا کریں گے جس میں ڈسکوز کی پاور پرچیز پرائسز میں 1.54 روپے فی یونٹ کا حصہ ڈالا جائے گا۔
حالیہ وفاقی بجٹ میں سخت فیصلوں کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خوش آئند قرار دے دیا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس چھوٹ محدود کرنا لائق تحسین قرار دیدیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کے وفد کا نئے قرض پروگرام کے حوالے سے بات چیت کرنے جلد پاکستان آنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس منعقد ہوا۔
سینیٹ اجلاس میں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر ہر چیز پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ شاید ہی ان سے گورکن اور قبریں بھِ بچ پائیں۔
قائمہ کمیٹی اجلاس میں سینیٹر اخونزاداہ چٹان نے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ ان علاقوں کو انڈسٹری دیں تاکہ سرمایہ دار ترقی کریں۔

مزید پڑھیں:  7 ارب ڈالر بیل آؤٹ پیکج، آئی ایم ایف اجلاس جلد متوقع