جیو اور جینے دو

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے۔کہ عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت جاری ہے۔ہمیں میدان میں ڈٹنا چاہئے اور اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔جلد یہ مداخلت ختم ہوگی۔اس سے پہلے بھی عدالت عالیہ اور عدالت عظمی کے کئی معزز جج صاحبان اس مداخلت کے خلاف آواز بلند کر چکے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کا اس مداخلت کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھنا ہماری قومی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔اگر خدا نخواستہ مقتدرہ اور عدلیہ آپس میں ٹکرا گئیں۔اور سیاسی قوتوں نے بھی پلٹ کر عدلیہ کا ساتھ دیا تو پھر کیا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیوں عدلیہ میں مداخلت کرکے اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ؟ –
1۔ اپنے مبینہ گروہی اور مالی مفادات کے لئے ؟
2-فرد واحد کی ضد اور انا کی تسکین کے لئے ؟
3۔ نام نہاد قومی مفاد کیلئے اور اس مقصد کی خاطر عمران خان سمیت ملک کی ساری سیاسی جماعتوں کو کچلنا ضروری ہے تاکہ مستقبل قریب تو کیا مستقبل بعید میں بھی کوئی سیاسی شخصیت چیلنج بن کر سامنے نہ آسکے۔۔
مجھے90فیصد یقین ہے کہ الزام نمبرایک غلط ہے۔پاک فوج کے مجاہد محض گروہی اور مالی مفادات کے لئے ملک و قوم کو مسلسل 104 درجے بخار میں مبتلا نہیں رکھ سکتے کیونکہ یہ غازیوں اور شہیدوں کی فوج ہے۔اس کا نعرہ ایمان ،تقوی، جہاد فی سبیل اللہ ہے اور یہ سبز ہلالی پرچم تلے پاک سرزمین شاد باد کے ترانے گاتی ہوئی جوان ہوئی ہے۔فرنگیوں کے پروردہ فوجی کب کے مر کھپ چکے۔ ایک آدھ کالی بھیڑ ہر جگہ ہوتی ہے۔جس کو قومی اتحاد اور ایک منتخب مضبوط پارلیمنٹ کے ذریعے اپنی صفوں سے دور پھینکا جا سکتا ہے۔
الزام نمبردومیں کچھ نہ کچھ وزن موجود ہے کیونکہ عمران خان نے کچھ ٹرانسفر پوسٹنگ میں اپنا آئینی اختیار استعمال کیا تھا جو کچھ نازک جبینوں پر گراں گزری۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اب پلوں کے نیچے اتنا پانی بہہ چکا ہے کہ متاثرہ فریق کی انا کی تسکین ہو چکی ہوگی۔ اور اب اگر کوئی غصہ باقی بھی ہے تو ملک و وقوم کے وسیع تر مفاد میں اسے تھوک کر جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل کا وقت آ گیا ہے۔
اب رہا الزام نمبرتین تو اس میں کافی وزن ہے ۔ملکی مقتدرہ کی یہ خبط ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ محب وطن ہے ۔دوسروں سے زیادہ ذہین ہے اور دوسروں سے زیادہ ملک کی خدمت کرسکتی ہے۔ اوراسی خوش فہمی کا شکار ہو کر ملک کے ہر معاملے کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتی ہے اور اپنے سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو ملیا میٹ کرنے کی پختہ عزم کئے ہوئے ہے۔ پی پی پی اور (ن) لیگ کو فتح کرنے کے بعد اب عمران خان کو بھی فتح کر لیا جائے اور ملک میں کوئی ایسی طاقت نہ رہنے دی جائے جو مقتدرہ کے عزائم میں رکاوٹ بن سکے ۔تو کیا یہ سوچ حقیقت پر مبنی ہے ،کیا یہ سوچ انصاف پر مبنی ہے،کیا یہ سوچ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اخلاقیات کے مطابق ہے،کیا یہ سوچ مہذب دنیا کے انسانی اور جمہوری حقوق کے مطابق ہے،کیا ایک منتخب پارلیمنٹ کی مجموعی دانش کے مقابلے میں ایک فوجی آمر کی عقل و دانش زیادہ ہوتی ہے ،کیا یہ حقیقت نہیں کہ اداروں میں جتنی بھی بولنے اور اپنی رائے دینے کا کلچر ہو لیکن فیصلہ صرف فرد واحد ہی کرتا ہے ماضی میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔مشرف نے افغانستان پر 62ہزار حملے کرانے کیلئے امریکہ کو اڈے دیئے توکوئی اس کو روک سکا۔ افسوس اس دوران مسلم امہ کی باہمی اخوت کی درخشاں تاریخ ڈوب گئی ،کیا کوئی یحییٰ خان کو روکنے والا تھاجو مشرقی پاکستان میں اپنے کلمہ گو بھائیوں کیخلاف فوج کشی کا آرڈر دے کر لاکھوں بے گناہوں کی شہادت کا باعث بنا ،کیا ایک منتخب پارلیمنٹ کی مجموعی دانش کے مقابلے میں جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی دانائی کچھ زیادہ رہی ۔جو افغابستان کی پرائی جنگوں میں کود کر کچھ ڈالر اور کچھ پٹاخے لینے میں تو کامیاب ہوئے لیکن لاکھوں مسلمانوں کی شہادت کے ذمہ دار بنے اور ان کی مہم جوئیوں کا آخری نتیجہ ایک نظریاتی طور پر منتشر اور مالی طور پر دیوالیہ پاکستان ہے۔ جس کے مغربی اور مشرقی دونوں بارڈرز پر مہیب خطرات منڈلا رہے ہیں۔
نام نہاد قومی مفاد کی خاطر بے سمت اچھل کود اور دھما چوکڑی اب آدھا ملک ڈبو نے کے بعد بقایا آدھا ملک زلزلے کی طرح ہلا رہی ہے ۔قومی مفاد کی چورن اور نہیں بکنی کیونکہ یہ مضر صحت ثابت ہو چکی ہے، یہ دکان اب بند کرنی پڑیگی، قوم نے اسی نام نہاد قومی مفاد کے چکر میں1971ء میں اپنے مشرقی پاکستانی بھائیوں پر فوج کشی پر خاموشی اختیار کی نتیجہ ڈھاکہ ڈوب گیا، ڈھاکہ ڈوبنے کی رات جب لاہور کے غیور عوام نے روتے چلاتے ہوئے لاہور کے گورنر ہائوس کو گھیرے میں لے لیا اور گورنر ہائوس کی پتھریلی دیواروں سے سر ٹکرانے لگے تو گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمان نے یحییٰ خان کو فون کیا اور صورت حال کی اطلاع دی۔یحییٰ خان نے پوچھا یہ لوگ کیا چاہتے ہیںگورنر نے جواب دیا یہ تمہارا سر چاہتے ہیں یحییٰ خان نے فون بند کردیا۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ جنرل مشرف کو اس کی غلط کاریوں سے روکنے والا کوئی نہیں کیونکہ باقی فوج اپنے ڈسپلن کی وجہ سے خاموش رہتی ہے اور آمر ملک ڈبو دیتا ہے۔ آمر فوجی ہو یاغیر فوجی دونوں خطرناک ہوتے ہیںاختیارات کی تقسیم ضروری ،ہٹلر اور مسولینی کی مثالیں سامنے ہیں جو حب الوطنی کی پگڑیاں سر پر رکھ کر اپنے ہی ہم نسلوں پر چڑھ دوڑے اور آخری انجام کم از کم چار کروڑ انسانوں کی ہلاکت اور کئی ملکوں کی تباہی نکلا۔ جرمن اور اٹالینز اپنے سکولوں کے بچوں کو پڑھائی جانے والی نصاب پڑھاتے ہوئے آج بھی اس مخمصے کا شکار ہوتے ہیں کہ بچوں کو اپنے بڑوں کی کرتوت کا کیا جواز پیش کریں ۔جیسے کہ ہم 1971کے سانحے کے کرداروں کو اپنے سکولوں کے بچوں سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ۔ فرانسیسی مدبر اور دوسری جنگ عظیم کے دوران وزیر اعظم رہنے والے جارج کلیمنشیو نے بالکل صحیح کہا تھا کہ جنگ ایک ایسا سنجیدہ کام ہے۔جسے صرف جرنیلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا ، فوجی آمر تو اپنی جان اور کرسی بچانے کیلئے بین الاقوامی مافیا کی اطاعت کی آخری حد تک چلا جاتا ہے اور مزید انکار پر آم کی پیٹیاں ہوا میں پھٹ جاتی ہیں۔ملک نظریاتی طور پر تقسیم اور اقتصادی طور پر دیوالیہ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر 2019ء ہی میں مودی ہڑپ کر گیا ہے۔
مغربی بارڈر پر فساد پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے اور غزہ کے35ہزار مظلوموں کی شہادت پر امریکی ناراضگی کے ڈر سے سب مہر بہ لب رہے۔اب یہ سب نہیں چل سکتا جسکے لئے ضروری ہو گا کہ کم از کم پچیس سال تک منتخب حکومتوں کو چلنے دیا جائے تاکہ عوامی نمائندے ملک و قوم کا کوئی رخ متعین کر سکیں۔

مزید پڑھیں:  سابق وزراء کے اعترافی بیانات