خود کو بدلیں

آزادی کے کئی رنگ ہوتے ہیں۔ اسکے ہر ایک رنگ کی اپنی کہانی ہوا کرتی ہے اور ذرا کان لگا کر سنیں تو یہ کہانی سرگوشیوں میں اپنے آپ کو دہراتی سنائی دیتی ہے۔ یہ نہیں کہ ہر بار خوشی کی ہی گیت سنائی دیں ، کئی بار بڑی سنجیدگی سے بھر پور فلسفے کے ساتھ یہ سبق آموز باتیں کہتی ہے ۔ کئی بار اس کی کہانی میں خوف ہوتا ہے اس کی زبان کی لڑکھڑاہٹ میں اسکے حواس باختہ ہونے کی دلیل پوشیدہ ہوتی ہے اور کئی بار غصہ اس کے لب ولہجے پر حاوی ہوتا ہے کون جانے کب کیسی بات سنائی دے جائے کیونکہ آزادی کے کئی رنگ ہوتے ہیں اور اس کی کہانیاں بس وہی سن سکتے ہیں جو سننا چاہتے ہیں۔ جن کے لئے اس آزادی کی بات سننا اہم ہے ۔ بات بس یہیں پر ختم نہیں ہوتی ۔ آزادی کی طرح غلامی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے، کتنے سارے رنگ ہوتے ہیں۔ کہانیاں ہوتی ہیں لیکن ان کہانیوں کو کوئی کبھی اس وقت نہیں سنتا جب ان کے سنے جانے کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے، جب ایک ڈرا سہما گھبرایا ہوا لہجہ بار بار کہتا ہے ذرا دیکھنا، ذرا بچنا ، کہیں غلامی کا طوق نہ اپنے گلے میں ڈال لینا اس کا پتا نہیں چلتا، کچھ محسوس نہیں ہوتا ، کئی بار تو اس کے سراب اتنے تیقن کو جنم دیتے ہیں کہ منہ میں ریت بھر لینے کے باوجود بھی پتا نہیں چلتا کہ یہ پانی نہیں ہے دیکھنا یہ غلامی بہت ظالم ہے ، انسان کے اوسان یوں خطا کرتی ہے کہ اسے سامنے کھلا دروازہ دکھائی نہیں دیتا کسی نوبت کے بجنے کی آواز نہیں آتی انسان الجھتا چلا جاتا ہے ، زندگی کے رنگ آہستہ آہستہ اڑنے لگتے ہیں کوئی کان میں بولتا رہتا ہے ، کوئی بات نہیں ، اگلے موڑ تک آنکھیں موند لو پھر جاگ جانا، کچھ دیر اور غفلت کی نیند سہی ، ابھی صبح ہوتے میں دیر بھی تو ہے اور وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے ۔ یہ عجیب سی کیفیت ہے ، کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ جیسے نشے میں ہوں کہ اپنے بھلے کی کوئی فکر ہیں نہیں اور خوش اتنے ہیں گویا ہفت اقلیم کے مالک ہوں یہ باتیں یوں ہی دل کاغبار نہیں ان میں حقیقت کی کئی کہانیاں پنہاں ہیں جا بجا کبھی لوگ باتیں کرتے ہیں اور کبھی کوئی اس خدشے کا اظہار کرتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل اب محفوظ نہیں تومانو دل گویا مٹھی میں آجاتا ہے ۔ سیاست دانوں کی حقیقت جان لینے کے بعد اوراس ملک میں قانون کی دھجیاں اڑتے دیکھنا آسان نہیں ہے ۔ اس حقیقت پر مہر ثبت ہوجانا کہ ہم اپنے ہی ملک میں آزاد نہیں بھی ایک اندوہناک واقعہ ہے اور اس درد کامداوا ابھی کئی سال نہیں ہونا اور اب جبکہ ملک میں سارے سیاست دان مل کر چین کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت سیاسی حکومت کو وہ استحکام میسر ہے جوسی پیک کے لئے لازم وملزوم ہے تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے ۔ گزشتہ وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کہتے ہیں کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ اس ملک و قوم کویقین دلاتے ہیںکہ حکومت کی 100 دن کی کارکردگی نہایت اطمینان بخش ہے ، اور پاک چین سی پیک مشاورتی اجلاس میں تمام سیاسی پارٹیاں شرکت کرتی ہیں۔ چین اپنے خدشات کااظہار کرتا ہے بلکہ اسے یقین دلایا جاتا ہے کہ حالات اب ایسے دگرگوں نہیں توجانے کیوں میرا اور میرے جیسے کتنے ہی لوگوں کا دل خدشات سے بھر جاتا ہے سی پیک اس ملک کی ترقی کے خواب کی صورت ہم دیکھ رہے ہیں لیکن کون جانے کہ اس سب میں کیاپوشیدہ ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں جانتے ، ہم اس منصوبے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن کیا بحیثیت قوم اس کے لئے تیار بھی ہیں ؟ کیا ہم تیار ہیں کہ ہم محنت کریں ۔ اس ملک کو اپنی محنت کاپھل کھلائیں ، اس ملک کا ہاتھ تھا میں اوراس کو یہ یقین دلائیں کہ ہم اپنے ملک کی فلاح اور بہتری کے لئے تیار ہیں۔ یہ لوگ جو اس ملک کے بہتر مستقبل کے وعدے کر رہے ہیں جو سی پیک سے ترقی کے خواب جوڑ رہے ہیں ، جن کے لئے سی پیک میں ہی ساری بہتری کے رازپنہاں ہیںان لوگوں کی کسی بات پر اعتبار کرنے کو دل ہی نہیں چاہتا ۔
یہ جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں ، ان کے لئے اس ملک کی کوئی اہمیت نہیں ، یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اس ملک کو کسی قسم کی زبوں حالی کا سامنا ہوتا ہے تو یہ دبئی سے لے کر یورپ تک اور امریکہ کے مختلف شہروں میں موجود اپنی سرمایہ کاری کی چھتریوں کے سائے تلے استراحت کر رہے ہوتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے گرمی میں جھلستے عوام اور بھوک سے کلتے لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں یہ لوگ اس ملک کے لوگوں کو بس ووٹ کے ڈبوں میں پڑے کاغذ کے ٹکڑے سمجھتے ہیں ۔ سی پیک اس ملک کی ضرورت ہو گا لیکن اس سے کہیں زیادہ اس محنت کی ضرورت ہے جسے ہم لوگ بھول چکے ہیں ۔ اس محبت کی ضرورت ہے جس کے بغیر ہم اس ملک کے مستقبل کے لئے ، اپنے بہتر مستقبل کے لئے کوئی قربانی نہیں دے سکتے جب تک ہم خود کو تبدیل نہ کریں گے اس وقت تک ایسا کچھ بھی ہونا ممکن نہیں ۔ یہ سیاست دان جھوٹ کے پلندے ہیں لیکن ہم ، عوام بھی تو ٹھیک نہیں ، کب تک ہم کسی مسیحا کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے ۔ ہمیں خود اپنی حالت کو بدلنے کا احساس کب ہو گا۔ کب تک ہم بھکاری رہیں گے ، کب تک ہم صرف شعبدہ بازوں کی بازیگری کو حقیقت سمجھنا چاہیں ہیں کبھی تو خود اپنا بھی خیال کریں ، اپنی ہی عادت بدلیں ، آج اپنے لئے فیصلہ کریں کہ ہمیں اپنے لئے ، اس ملک کے لئے محنت کرنے کی عادت ڈالنا ہوگی ورنہ ہم مٹ جائیں گے ، آزادی اور غلامی کافرق مٹ جائے گا کیونکہ قبریں کبھی آزاد یاغلام نہیں ہوتیں ۔

مزید پڑھیں:  پشاور کا نوحہ