وقف قبرستان کا احسن منصوبہ

پشاور میں مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے کامصرعہ ہر اس میت اور اس کے لواحقین کی مشکلات پرحرف بحرف صادق آتا ہے جن کو دفن کے لئے سات آٹھ فٹ کی زمین میسر نہیں ہوتی یہ ایک ایسا المیاتی امر ہے جس سے ایک طرف کسی قریبی عزیز کی موت کا صدمہ اوردوسری جانب ان کودفن کرنے کے لئے قبر کی جگہ نہ ملنے کی صورت میں درپیش ہونا ہے نجانے کتنے لوگ اب تک اس مشکل سے گزرے ہوں گے اور انہوں نے اس کاکیا حل نکالا ہو گا صوبائی دارالحکومت میں یہ مسئلہ صرف قبرستانوں میں گنجائش باقی نہ ہونے اور قبرستانوں کی اراضی پر مافیا کے قابض ہونے کے بعد روز بروز شدید سے شدید تر ہونے والا سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس کا صحیح ادراک اس مشکل کا شکار افراد ہی کو ہو گا اس مشکل کاعرصے سے اظہار کوئی نئی بات نہیں تھی مگر اس طرف توجہ دینے کی زحمت کم ہی کی گئی تاہم اب اطلاعات کے مطابق پشاور میں قبرستانوں میں تدفین کے لئے گنجائش ختم ہونے کے باعث صوبائی حکومت نے ورسک روڈ پر نیا وقف قبرستان بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے،اس سلسلے میں ابتدائی طور پر ورسک روڈ پر7ہزار 200مرلے یعنی360کنال اراضی مختص کرتے ہوئے منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے ۔صوبائی حکومت نے اب ورسک روڈ پر نیا قبرستان وقف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے سیکرٹری بلدیات کو ٹاسک حوالہ کردیاہے جو خوش آئند امر ہے کہ بالاخر حکومت کو عوامی مسئلے کا ادراک تکو ہوا وقف قبرستان میں قبریں پختہ کرنے پر پابندی لگائی جائے اور ایک خاص مدت کے بعد شرعی طور پر قبرستان کی کم ہوتی گنجائش کے مسئلے میں کسی حد تک کمی آسکے گی۔ صوبائی حکومت کا یہ اقدام عوام کی سخت مشکل اور لاینحل مسئلے کا ادراک ہے جس کاتقاضا ہے کہ اس منصوبے پر جتنا ممکن ہوسکے کام مکمل کیا جائے تاکہ بعد مرگ تو کم از کم قبر کے لئے دو گز زمین میسر آسکے۔