ایک نیا تجربہ

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے اربوں ڈالرز کی سمگلنگ کی روک تھام کے معاملے پر وفاقی حکومت نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر نظرثانی کے لئے کام شروع کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے سمگلنگ کی روک تھام کے لئے بارڈر کنٹرول اتھارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے وزارت داخلہ کو بارڈر کنٹرول اتھارٹی کے قیام سے متعلق ٹاسک سونپ دیا گیا۔ وزارت داخلہ بارڈر کنٹرول اتھارٹی کے قیام کیلئے وزارت قانون اور ایف بی آر سے مشاورت کرے گی، بارڈر کنٹرول اتھارٹی کے ذریعے سمگلنگ کی روک تھام کے لئے تمام ادارے مشترکہ رسپانس دیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت تجارت کو افغان ٹرنزاٹ ٹریڈ معاہدے پر نظرثانی کی تجاویز تیار کرنے اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر نظرثانی کے لئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ وزارت تجارت افغانستان کی حقیقی امپورٹ ضروریات سے آگاہ کرے۔ کھاد چینی سمیت اشیاء ضروریہ کی اسمگلنگ روکنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے وزارت تحارت سے ایک ماہ میں رپورٹدے گی۔تقریباً2679کلو میٹر پاک افغان سرحد کے بڑے اور اہم سرحدی علاقوں پر باڑ لگائی جا چکی ہے اور نگرانی کا مسلسل عمل بھی جاری ہے لیکن اس کے باوجود سمگلنگ کی روک تھام نہ ہوسکی دیکھا جائے تو یہ عمل چوری چھپے راستوں سے ضرور ہوتا ہے لیکن جوسمگلنگ سڑکوں کے ذریعے ہو رہی ہوتی ہے اس کی روک تھام کے انتظامات اور نظام دونوں موجود ہونے کے باوجود اس کا جاری رہنا باعث حیرت امر ہے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر نظر ثانی اس کے غلط استعمال کی روک تھام کے بعد اسے باضابطہ بنانے کے اقدامات کی ضرورت سے انکار کی گنجائش نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جہاں سرکاری سرپرستی میں سمگلنگ ہو رہی ہو اس کی روک تھام کے لئے کوئی اتھارٹی بنانے سے کیا ہو گا اصل کام حکومتی عملداری اور قوانین کا موثر نفاذ ہے جس کی کھلی آنکھوں سے خلاف ورزی دیکھ کر بھی روکنے پر کوئی تیار نہیں بلکہ ہر کوئی اپنا حصہ وصول کرنے اور اوپر تک حصہ پہنچانے کے بعد بے دھڑک اس عمل کاحصہ دار اور سہولت کار ہے جب تک اس سلسلے میں عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا لاکھ ادارے بنائے جائیں اور لاکھ انتظامات کے دعوے کئے جائیں تضیع اوقات کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کاغلط استعمال اور سمگلنگ کے لئے اسے سہولت بنانے کا عمل اب مزید برداشت کرنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے پاکستان نے یہ معاہدہ ہمسایہ ملک کی سہولت اور تجارت کے فروغ کے لئے کیاتھا مگر اس کا جس طرح سے غلط اور ناجائز فائدہ اٹھایاگیا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاہدے ہی پر نظرثانی اور نئی شرائط کے ساتھ معاہدہ پر غور ہونا چاہئے جس میں اس کا غلط استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت لی جائے نیزاس کے غلط استعمال کے تدارک کے لئے اس کی مسلسل مانیٹرنگ ہونی چاہئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کاغلط استعمال صرف سرحد پار ہی نہیں ہوتا بلکہ خود ہمارے کسٹم حکام اور بعض طاقتور عناصر بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ہیں جس کا ملک و قوم کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا بنابریں جہاں افغانستان پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہاں خود ہماری حکومت کو بھی اس بارے سخت اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری بھی ادا کرنی چاہئے ۔ایک اندازے کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور پٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ سے پاکستان کو سالانہ تین سو ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے کیونکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت درآمد کی گئی بیشتر مصنوعات پاکستان میں ہی فروخت کی جارہی ہیں غیر ملکی اشیا سے بھری مارکیٹیں کسی سے پوشیدہ نہیں ایسے میں بجائے اس کے کہ افغانستان سے اس معاہدے کے غلط استعمال پر بات کی جائے زیادہ بہتریہ ہوگا کہ پاکستان کی حکومت ادارے اور حکام سب سے پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت کا فروغ اور سہولیات احسن امور ہیں تجارت کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں لیکن افغانستان کے ساتھ تجارت سمگلنگ اورسیکورٹی خطرات میں اضافے کا باعث بن گئی ہے پاکستان میں اب بھی لاکھوں افغانی مقیم ہیں اور پانچ ملین سے زائد افغان شہریوں کا پاکستان سے افغانستان آنا جانالگا رہتا ہے یہی لوگ تجارتی معاہدے کی پاسداری سے گریزاں ہیں اور ملی بھگت سے غیرقانونی تجارت اور سمگلنگ کا راستہ کھولنے کاباعث بن رہے ہوتے ہیں جس کے باعث سیکورٹی کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں افغانستان کو ابھی تک اس امر کا احساس نہیں کہ انہیں تجارتی روابط کے لئے پاکستان ہی کی سرزمین کی ضرورت ہے دوسری جانب پاکستان افغانستان کے راستے ہی وسطی ایشیائی ممالک کی منڈیو ں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے المیہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت تجارت پر بھی اثر انداز ہورہی ہے جس کے اثرات سے سرحدی تجارت کبھی بند اورکبھی محدود ہو جاتی ہے جس کا دونوں ممالک کو نقصان پہنچ رہا ہے دونوں ممالک کوجب تک اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہ ہوگا اور وہ باہم تعاون پر آمادہ نہ ہوں گے نقصان ہی میں رہیں گے۔

مزید پڑھیں:  قابل تقلید اقدام