حالات حاضرہ کو کئی سال ہو گئے

قومی گرڈ کو بجلی کی فراہمی بند کرنے کی یہ کوئی پہلی ”دھمکی” نہیں ہے جو گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کو دی ہے اس سے پہلے بھی لگ بھگ 75/74 برس پہلے اس وقت کے وزیر اعلیٰ خان عبدالقیوم خان نے بھی لیاقت علی خان کی حکومت کو اسی طرح کی دھمکی دی تھی ، تاہم دونوں دھمکیوں کے پس منظر ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ صورتحال میں زمین آسمان کا فرق تھا اور ہے کیونکہ تب لوڈ شیڈنگ کامسئلہ تھا نہ ہی بجلی کے خالص منافع پرکوئی جھگڑا ہوتا تھا یعنی پن بجلی منافع کے حوالے سے تب رائیلٹی کے ضمن میں کوئی مقدمے بازی میں وفاق اور صوبائی حکومت کے بیچ تصفیہ کے لئے کسی اے جی این قاضی فارمولے پر بحث و تمحیص اور عدالتی موشگافیوں میں دونوں بلکہ تینوں فریق الجھے ہوئے نہیں تھے۔ تیسرا فریق ہی دراصل وہ فریق تھا جس نے بعد میں صوبہ سرحد کی رائیلٹی کی ادائیگی میں مسلسل روڑے اٹکا رکھے تھے ، یعنی واپڈا ، ایک بات البتہ ضرور تھی کہ جس طرح آج کل خیبر پختونخوا کے چھوٹے بڑے ڈیمز اورپانی کے ذخائر سے بجلی حاصل کرکے قومی گرڈ کو دی جاتی ہے جہاں سے واپس صوبے کو اپنی ضرورت کے مطابق پوری بجلی تو نہیں دی جاتی بلکہ ملک کے تمام صوبوں کے لئے ان کی ضرورت کے مطابق اور پیدا ہونے والی بجلی کی ”گنجائش” کو مد نظر رکھ کر ہر صوبے کاکوٹہ مقرر کیا گیا ہے ، مگر جس طرح آج بھی خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں کولوڈ شیڈنگ کے عذاب سے دو چار کیا جارہا ہے تب بھی مالاکنڈ پن بجلی گھر کے پاور ہائوس سے بجلی حاصل کرنے کی غرض سے پاور ہائوس کی پشت پرموجود پانی کے منابع واقع تھے مگر جن علاقوں سے یہ پانی گزر گاہ کے طور پر آتے ہوئے مالاکنڈپن بجلی گھر کے ٹربائن فعال رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا تھا ان علاقوں میں اندھیرا رہتا تھا اور محولہ بجلی گھر سے عالمی قوانین کے مطابق بھی صرف رات کو ایک ایک بلب فی گھر جتنی بجلی بھی مہیا نہیں کی جاتی تھی ، وہاں کے لوگ عرصہ دراز تک مالا کنڈ پن بجلی گھر سے سینکڑوں فٹ اوپر گھروں میں بیٹھ کر نیچے بجلی گھر کی روشن بتیوں کوحسرت بھری نگاہ سے دیکھنے پر مجبور تھے یعنی بقول علامہ اقبال
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
دہقان کومیسر نہیں مٹی کا دیا بھی
یہ بات راقم کو ایک اخباری انٹرویو کے دوران سابق سپیکر صوبہ سرحد اسمبلی مرحوم حنیف خان نے بتائی تھی آمد برسر مطلب ، تب خان قیوم نے جو دھمکی دی اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ لوگ کنڈے ڈال کر بجلی چوری کر رہے تھے یا بل ادا کرنے سے انکاری تھے نہیں ایسی کوئی بات نہیں تھی بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ جس طرح اب بھی صوبہ پنجاب کے حکمران چھوٹے صوبوں بطور خاص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو گندم اور آٹا ، سوجی ، میدہ وغیرہ وغیرہ سے محروم رکھنے کے لئے ان اشیاء کی فراہمی معطل کر دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں دونوں چھوٹے صوبوں میں آٹے کی قلت پیدا ہو جاتی ہے ایسی ہی صورتحال تب بھی اکثر پیش آجاتی تھی جب پنجاب سے صوبہ سرحد(خیبر پختونخوا) کوگندم اور آٹے سے محروم رکھا جاتا تھا اور جب یہاں گندم اور آٹے کی قلت کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت کے وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد خان عبد القیوم نے دھمکی دی کہ اگر دو دن میں گندم اور آٹے کی فراہمی پر سے پابندی نہیں ہٹائی گئی تو صوبہ سرحد سے بجلی کی فراہمی بند کر دی جائے گی اس دھمکی کا یہ اثر ہوا کہ اگلے ہی روز گندم اور آٹے کی سپلائی شروع کر دی گئی یعنی بقول مرزا غالب
دھمکی میں مرگیا جو نہ باب نبرد تھا
عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
یہ وہی دور تھا جب آٹے کی قلت کے تماشے ہر بازار ، ہر گلی میں لوگ دیکھا کرتے تھے اور عوام نانبائیوں کی دکانوں کے آگے لمبی قطاریں باندھ کر روٹیاں حاصل کرنے پر مجبور تھے تب مرزا محمود سرحدی نے کہا تھا
کرم اے شہ عرب و عجم
ہے وہ روٹیوں کا پرابلم
کھڑے ہم ہیں ایسے قطارمیں
کہ کھڑے ہوں جیسے نماز میں
بات کچھ بہت ہی زیادہ پیچھے چلی گئی حالانکہ تب اور اب کی دھمکیوں میں جیسا کہ گزارش کی جا چکی ہے زمین آسمان کا فرق ہے تب آٹے گندم کامسئلہ تھا آج (کبھی کبھار گندم آٹے کا مسئلہ کھڑا بھی ہوجائے تو بجلی بند کرنے کی دھمکی کوئی نہیں دیتا) البتہ مسئلہ ہے تو لوڈ شیڈنگ کااس حوالے سے واپڈا سے بہت اوپر کی سطح پر وزارت توانائی کی جانب سے خیبر پختونخوا کے عوام کو ”بجلی چور” کے طعنے سننے پڑتے ہیں اگرچہ اس الزام تراشی پر دو رائے بھی ہوسکتی ہیں یعنی ہر شخص توبجلی چور نہیں ہے اور اگرعوامی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو جن مراعات یافتہ طبقات کو ہزاروں یونٹ تک مفت بجلی دی جاتی ہے اگراسے بھی بہ الفاظ دیگر ”بجلی چوری” کہاجائے تو کیا غلط ہو گا؟ اگرنہیں تو ایسی سوچ رکھنے والوں کواپنے موقف سے رجوع کرلینا چاہئے مگر لوگ آخر بجلی چوری کیوں کرتے ہیں؟ صرف اس لئے کہ گزشتہ چند برسوں سے عوام پر جس طرح مہنگائی مسلط کی جارہی ہے خواہ وہ آئی ایم ایف کی ہدایات کے تحت ہو یا دوسرے عوامل کی وجہ سے مستزاد جس طرح ”بھانت بھانت” کے ٹیکس بجلی کی اصل قیمت پر لاگو کرکے اور اب ہر دوسرے تیسرے مہینے بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافہ کرکے عوام کی چیخیں نکالی جارہی ہیں ان سے تنگ آکر اگر غریب ، نادار اور بے روزگاری کے عفریت سے تنگ آئے ہوئے کچھ لوگ کنڈہ کلچر کو فروغ دے رہے ہیں تو اس کے عوامل پر بھی غور کیا جانا چاہئے ۔ آزاد کشمیر میں ”دھمکی” کا اثرفی یونٹ تین روپے پر آسکتا ہے توملک کے دیگر حصوں کے عوام اتنی مہنگی ترین بجلی خریدنے پر مجبور کئے جانے پرمعترض نہیں ہوں گے تو کیا کریں گے ؟ اورایسی صورت میں کچھ علاقوں میں 22 گھنٹوں تک لوڈشیڈنگ کاجوازسمجھ سے بالاتر ہے تو پھر وزیراعلیٰ اگردھمکیاں دینے پر اترآئے ہیں تو مسئلے کو ان کے ساتھ گفت و شنید کرکے افہام و تفہیم سے حل کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں اگرچہ شنید ہے کہ موصوف کو ایک پیغام کے ذریعے ”سمجھانے” کی کوشش کی گئی ہے جس کے بعد شاید پھر گرڈ سٹیشنوں پر دھاوے والی صورتحال پیدا نہ ہو اور حالات معمول پر آجائیں کہ بقول دلاور فگار
حالات حاضرہ نہیں گو مستقل مگر
حالات حاضرہ کوکئی سال ہو گئے