بلاول

نیب اور پاکستان کی معیشت ساتھ نہیں چل سکتے ،بلاول

ویب ڈیسک: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیب اور پاکستان کی معیشت ساتھ نہیں چل سکتے ہم نے نیب کو ختم کرنا ہے،مل کر بجٹ بناتے تو اچھا ہوتا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی نے حکومت کی حمایت کی تو ایک معاہدہ کیا جس کے تحت حکومت کو بجٹ اور پی ایس ڈی پی ہمارے ساتھ مل کر بنانا تھا مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
حکومت کو بجٹ پر اپوزیشن سے بھی بات کرکے ان کی تجاویز لینی چاہیے تھی، اس سے اچھا تاثر جاتا، شہباز شریف نے چارٹر آف اکانومی کی بات کی تھی، پاکستان کا لانگ ٹرم مسئلہ اس کے بغیر حل نہیں ہوگا، یہ چارٹر سب کے مشورے سے بنانا ہوگا، کہیں سے ڈکٹیٹ نہیں ہوگا۔
بلاول کا کہنا تھا کہ سیاست آگے بڑھانے کے لیے ایک دوسرے کو جیل بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت میں باجوہ ڈاکٹرائن کے نام پر اپوزیشن نشانے پر تھی، 18 ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی سازش کی گئی۔
چیئرمین پی پی نے مزید کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حجم میں 27 فیصد اضافے پر حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اس منصوبے کو آئینی تحفظ دینا چاہیے جب کہ اس ملک کے لوگوں کا مسئلہ سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت ہے، دودھ پر18فیصد ٹیکس لگانا کسی سیاستدان کا نہیں بابو کا فیصلہ ہوگا، حکومت اب تک مہنگائی کو قدرے کم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، نگران حکومت کے فیصلے سے کسانوں کو نقصان ہوا تھا۔
چیئرمین پی پی نے اشیا پر سیلز ٹیکس جمع کرنے کا اختیار صوبوں کو دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے ہدف حاصل نہیں کرتے تو اپنے بجٹ سے ہدف پورا کریں گے، سرپلس سیلزٹیکس کی صورت میں صوبے اضافی ریونیو اپنے پاس رکھیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب اور پاکستان کی معیشت ساتھ نہیں چل سکتے، بیوروکریٹ نیب کی وجہ سے کام کرنا نہیں چاہتا، ہم نے نیب کو ختم کرنا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو نیب سے ایس آئی ایف سی کی طرح مستثنی کرادیں،نیب کے سب سے بڑے حامی بھی شاید آج کل نیب کے خاتمے کی حمایت کریں۔

مزید پڑھیں:  فوجی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل، عدالت کاغیر انسانی برتاو نہ کرنیکا حکم