مٹی کے گھروندے بنانے اور ڈھانے کا عمل

اخباری اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں سرکاری جامعات کی تعداد کم کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے مالی طور پر غیر مستحکم اور ایسی جامعات جہاں داخلہ کی شرح انتہائی کم ہے انہیں ختم کرنے کی تجویز پر کام کیا جارہا ہے محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا ذرائع کے مطابق اس وقت صوبے میں 34 سرکاری جامعات ہیں ان میں 25سے زائد ایسی ہیں جو مالی بحران کی شکار ہیں اور اپنی اخراجات پورے کرنے سے بھی قاصر ہیں ان جامعات کی مالی صورتحال اور وہاں شروع کئے گئے پروگرامز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق ایسی جامعات جن میں طلبہ کے داخلے کا رجحان کم ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے ان ہیں ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ ایسی جامعات جہاں مالی طور پر مشکلات ہیں تاہم اس کے جاری رکھنے کا راستہ نکالا جا سکتا ہے واضح رہے کہ صوبے کے کئی اضلاع سوات، ڈی آئی خان، پشاور، مردان، صوابی اور دیگر میں ایک سے زائد جامعات ہیں ۔خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے نام پر جس طرح بغیر منصوبہ بندی کے سرکاری جامعات اور میڈیکل کالجوں کا تھوک کے حساب سے قیام کرکے سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر عملہ بھرتی کرکے جوفصل بوئی گئی تھی اس کا نتیجہ بالاخر یہی سامنے آنا تھا جواس وقت درپیش ہے جس طورتحال کو مدنظررکھ کر اس حوالے سے اقدامات پر غور کیا جارہا ہے اس کی مخالفت کی تو گنجائش نہیں لیکن ملازمین کو بہرحال کہیں نہ کہیں کھپانے کا راستہ نکالاجائے گا۔ مشکل امر یہ ہے کہ صوبے کی جامعات میں انتظامی افسران اور اہلکار تو مستقل بنیادوں پر لئے گئے ہیں لیکن فیکلٹی غیر مستقل اور دیہاڑی دار تعینات کرکے ایک ٹریفک کی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے جس کے باعث وقفے وقفے سے اچھا موقع ملنے پر فیکلٹی ممبران کام چھوڑ جاتے ہیں اس عمل سے سرکاری جامعات جہاں ایک جانب بیگا ر کیمپ بن چکی ہیں وہاں دوسری جانب تعلیم وتعلم کا کوئی معیار بلکہ ماحول ہی نہیں بن پارہا ایسے میں طلبہ کاداخلوں کے لئے تقریباً مساوی فیس دے کر سرکاری جامعات کی بجائے رجحان نجی جامعات کی طرف ہونا فطری امر ہے جن امور پر غور کیا جا رہا ہے وہ ناگزیر ہیں اس کے ساتھ ساتھ جب تک جامعات یاپھر کیمپسز میں دانش کی قدر نہیں ہوگی اور تدریسی عملہ مستقل بنیادوں پر نہیںلیا جائے گا داخلوں کی شرح میں کمی کارجحان برقرار رہے گاصورتحال کاتقاضاغلطی سدھارنا ہی نہیں بلکہ ان کا آئندہ کے لئے سدباب بھی ہے۔