کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

بادشاہ نے فرمائش کی کہ ایساکچھ تجویز کیا جائے کہ جب وہ مغموم ہوں تو دیکھ کر خوش ہوں اور جب خوش ہوں تو دیکھ کر ملول ہوں ہوشیار درباری نے تحریر لکھ کے دی کہ ”یہ وقت بھی گزر جائے گا” سچ ہے کہ اچھے دن نہیں رہتے توبرے دن بھی گزر ہی جاتے ہیں وہ اچھے وقتوں کا بادشاہ ہے کہ خوشی اور غم کی کیفیت کو محسوس کرتا تھا ہمارے دور کے قصر صدارت اور وزیر اعظم ہائوس کے مکین اگر آج کوئی فرمائش کریں تو ان کوڈالر کی پینٹنگ بناکر دی جائے تو خوش ہوں پینٹنگ بھی ایسی ہونی چاہئے کہ ڈالروں کے بنڈل سے سیڑھی بنائی جائے اور اوپر کہیں اقتدار کی کرسی رکھی جائے پھر ایک ایسا وسیع قلعہ جو ڈالروں ، پائونڈ اور ریال سے بنی فصیل اتنی اونچی ہو کہ عوام کہیں نظر نہ آئیں صرف یہی کافی نہیں سائونڈ پروف بھی ہونا چاہئے کہ کہیں کوئی فریاد کان میں پڑ کر خواہ مخواہ موڈ خراب نہ کرے اس محل کے اندر وہ سب کچھ ہو جو حکمرانوں کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہو مثلاً بینک ، جیولری اور ڈائمنڈ کے انبار یہاں تک کہ کہیں تازہ دودھ صحت مند اور اچھی نسل کی بھینسیں اور مربے کھانے والے گھوڑوں کے اصطبل سبھی کچھ ہوں اور اگر نہ ہو تو رعایا کی فکر اور ان کے مسائل کی خواہ مخواہ کی جھنجھٹ سخت گرمی میں لوڈ شیڈنگ اور سردیوں میں گیس کی ناپیدگی عرض ایسی ہوا کا بھی گز نہ ہو کہ باد صبا ہو یا صر صر یا باد بہاری چلے وہ ان مقامات و عمارتوں سے بالکل بھی ٹکرا کر نہ آئی ہو بلکہ مس بھی نہ ہوئی ہوجہاں عام آدمی اور اس کی سوچ کا گزر ہو میرے جیسے کند ذہن اور عوام میں رہنے والی خاتون کے لئے اس سے زیادہ منظرکشی کی گنجائش نہیں میری دانست میں عوامی سوچ کی کافی عکاسی ہوچکی اس سے زیادہ نازک مزاج شاہان کی مزاج شناسی ممکن نہیں جو تھوڑی بہت بھی شہنشاہی سوچ کی عکاسی کر سکی یہ بھی شنیدہ اور دیدہ ہیں قصر صدارت اور وزیر اعظم ہائوس گورنر ہائوس وزرائے اعلیٰ کی رہائش گایں اور دفاتر بیورو کریسی ارکین پارلیمان کے لاجز فرنٹیئر ہائوس ، پنجاب و سندھ و بلوچستان ہائوس طرح طرح کی وہ سرکاری رہائش گاہیں جہاں دل پشوری کے سارے سامان موجود ہوتے ہیں وہاں سے خود اہل خاندان اور دوستوں کو سرکاری خرچ پر ٹھہرانے یا سہولیات کی فراہمی کے سامان کس کس چیز کا ذکر کیا جائے رائے ونڈ کے محلات جگہ جگہ بنے بلاول ہائوسز اور بنی گالہ یا ملک بھر میں پھیلے دفاعی اداروں کے میس اور محلات کس کس کا تذکرہ ہو اور کس کس سہولت کا ذکر کیا جائے اور اس کا کیا رونا رویا جائے کہ یہ سب عوام کے ٹیکس کے اصل مصارف اور استعمال ہے آج کے دور میں تو ایسا کچھ بھی نہیں باپ کے بعد بیٹا یا بیٹی داماد اور دیگر عزیز و اقارب سیاست کی وراثت منتقل ہوتی ہے اور درباری بس کورنش بجالاتے ہیں ماضی میں ہم کیا جائیں اور ماضی کو ہم کیا جانیں ہمیں تو آخر کار دور حاضر کا ہی رونا رونا ہے عوام کی بات کرنی ہے ہمیں یہ بتانا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور صوبے کو قومی وسائل میں سے حصہ سے لے کر ضم اضلاع کے اضافی آبادی کو حقوق دینے کی جدوجہد میں صوبے کے بجٹ سے ہی وسائل کی فراہمی کے ایک ایسے چکر میں الجھایا گیا ہے کہ ہم اس سے کسی بھی دور حکومت میں نکل نہیں سکتے ان دنوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں بلکہ تکنیکی بہانہ بنا کر صوبے کے عوام کو جن مصائب کا شکار بنایا جارہا ہے اس کا رونا رونا ہے ہمیں صوبے میں پیدا ہونے والی سستی بجلی مہنگے داموں بھی واپس فروخت نہ کرنے کا ملال ہے پھر بدعنوانی خراب حکمرانی نااہل بیورو کریسی سرکاری مشینری کی عدم فعالیت غرض کس کس مسئلے کا ذکر کرکے خود اپنے زخموں پر نمک پاشی کی جائے مہنگائی ، غربت روز کم ہوتی آمدن اور بڑھتے اخراجات نے تو لوگوں سے خوشی توکیا جینے کی امنگ تک چھین لی ہے مگر ہمارے حکمران اور سیاستدان میوزیکل چیئر کے کھیل میں ایسے مصروف ہیں کہ ان کو فرصت ہی نہیں مخالفین کو ہر قیمت پر جیل میں ہونا چاہئے اس سے کسی کو سروکار نہیں کہ ملک پر اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے ۔ ہمیں چینی وزیر اعظم کی آواز دوست کابھی پاس نہیں وہ ہمیں ایک صلاح دے گئے تو ہم نے دوسرا محاذ کھول لیا اور خیبر پختونخوا میں وہ محاذ گرم ہونے لگا ہے محاذ گرمانے کو مسائل کا حل جاننے کی یہ منطق کس شہ دماغ کے سوچ کی پیداوار ہے خدا جانے مگر آخر کب تک؟ خیبر پختونخوا میں خون کی ہولی بہت کھیلی گئی بلوچستان ہے ہی عدم استحکام اور بدامنی کا شکار صوبہ لے دے کے راج کماری کا صوبہ بچتا ہے جہاں ان کے چچا اپنے اقتدار کے دور میں ادائیگی کے بدلے امن حاصل کرتے رہے ہیں سندھ بھی ایک عرصے تک ایم کیو ایم کو بھگت چکا ہے جہاں اب جا کر حالات کچھ اچھے ہوئے مگر خیبر پختونخوا تو انوری کا گھر ہے جس کا راستہ جب سے بلائوں نے دیکھ رکھا ہے واپسی کا نام ہی نہیں لیتے حکمرانوں کی سوچ اور فیصلے ہیں کہ بدلتے ہی نہیں وہ کسی فیصلے اور حکمت عملی کی ناکامی کے اعتراف اور اس میں تبدیلی لانے پرآمادہ ہی نہیں ہوتے وہی مرغی کی ایک ٹانگ اور انتہا درجے کی تریاہٹ صوبہ ، صوبے کی بنیادی اساس کی تباہی و بری طرح متاثر ہونے سے لگتا ہے کسی کو کوئی سروکار نہیں ایسے میں جو منظر کشی سطور بالا میں کی گئی اور حکمرانوں و مقتدرہ کا جو چہرہ دکھایا گیاکیا وہ حالات کی عکاسی یا پھر تخیل خود ہی فیصلہ کریں مجھے تو اس ملک و قوم کا دکھ درد اور قوم کے بچوں کا مستقبل ہر وقت بے چین کئے رکھتا ہے سوچ سوچ کر عقل مائوف ہونے لگتا ہے کہ کوئی ایسی روزن کب کھلے گی جہاں سے امید کی کرنیں نظر آئیں اور ناامیدی و مایوسی کے تاریک بادل چھٹتے دکھائی دیں اور بس۔

مزید پڑھیں:  ہماری بلی ہمیں سے میائوں