قبائلی امن جرگہ

پی ٹی آئی کےقبائلی امن جرگہ میں عزم استحکام آپریشن کیخلاف قراردادمنظور

ویب ڈیسک: پی ٹی آئی کے قبائلی امن جرگہ نے عزم استحکام آپریشن کے مخالفت کے حوالے سے قرار داد منظور کرلی ۔
قبائلی امن جرگہ میں منظور کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ عزم استحکام آپریشن سے متعلق فیصلے میں قبائلیوں کو بھی شامل کیا جائے۔
قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ تجارت میں جتنی بھی رکاوٹیں ہیں ان کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں اور ان کو حل کرکے افعانستان کیساتھ تمام تجارتی راستے کھول دیئے جائیں۔
قرارداد میں پاک افغان تجارت کھولنے کیلئے اس وقت جتنے بھی دھرنے اور احتجاج جس میں چمن ،انگوراڈا ،گورسل،تورخم،غلام خان لماور خرلاچی جاری ہیں ان کے سب جائز مطالبات فی الفور تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ قبائلیوں کے ساتھ نقصانات کو پورے کرنے کے لیے جتنے بھی وعدے کئے گئے ہیں چاہے وہ کسی بھی قبائلی ضلع میں ہوں فی الفور پورے کیے جائیں۔
قرار داد میں کہاگیا کہ امن جرگہ عزم استحکام آپریشن کی مکمل مخالفت کرتا ہے اور اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ اگر حکومت ایسا کوئی آپریشن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جائے اور اس پر تفصیلی بحث کروائی جائے اور اس کے بارے میں قوم کو آگاہ کیا جائے جبکہ قبائلی مشران کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔
قرارداداد میں شرکاء نے کہا کہ امن جرگہ ملک میں جاری لاقانونیت غیر آئینی اقدامات،انسانی حقوق کی پامالی کی پرزورمذمت کرتا ہے،یہ جرگہ مطالبہ کرتا ہے کہ تمام سیاسی اسیران باشمول بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر جو سیاسی مقدمات درج کیے گئے ان کو فوری ختم کیا جائے اور ان کی رہائی میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جائے۔
قبائلی جرگہ نے مطالبہ کیا کہ جنوبی پختونخوا سے لے کر خیبر پختونخوا میں جتنے قدرتی وسائل ہیں ان پر وہاں کے مقامی آبادی کا حق تسلیم کیا جائے اور اس بات کی آئینی گارنٹی دی جائے۔
قرارداد کے متن میں کہاگیا ہے کہ ضم اضلاع کے ساتھ کیے گئے وعدوں جس میں NFC ایوارڈ میں 3 فیصد حصہ اور سالانہ 100 ارب بھی بقایا جات ادا کیے جائیں۔
افغانستان اور پاکستان کے بارڈر کو اکنامک کوریڈور کا پالیسی بنائی جائے اور بارڈر کو FBR کی سہولت دی جائے اور کاروبار میں سہولت دی جائے۔
اس موقع پر امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ فاٹا میں امن قائم نہیں ہوسکتا تو ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا،اسمبلی میں فاٹا سے متعلق بھرپور آواز اٹھائی ۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کیساتھ تجارت تقریباًختم ہو چکی ہے ،وفاق کی ضم اضلاع سے کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ 50سال سے اس دھرتی پر جنگ ہورہی ہے،ہم نے دیکھا کہ لڑائی مخصوص مقاصد کے لئے ہوئی،ہمارا روزگار ختم کردیا گیا،ہمیں کیا دیا گیا؟کسی آپریشن کا سوچا تو ہماری نعشوں پر سے گزرنا پڑے گا ۔
انہوں نے کہا کہ کل اس معاملے پر بات کریں گےآپریشن سے متعلق واضح اعلان کیا جائے کسی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کی جائے گی،ایک آپریشن دکھائے جس کے نتائج اچھے آئے ہوں ،آپ نے لوگوں کو گھروں سے نکالا،آپ نے ہم نے امن چھینا،ملک کی خاطر شکوہ نہیں کررہے،آج قبائل کو یقین دہانی کرانے آئیں ہیں کہ وہ اکیلے نہیں،اس جنگ میں عوام کے ساتھ ہوں گے ۔
اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ اامن کی بحالی کے لئے سب کو اعتماد میں لینا ہوگا،پی ٹی آئی قبائلیوں کو مایوس نہیں کرے گی۔
اس موقع پر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہ ہے کہ پختون ہر بات بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اتحاد بنایا ہے،آج بھی مولانا فضل الرحمان سے تفصیلی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ آج کل ہماری تقاریر بھی سنسر ہورہی ہیں ،آج مولانا فضل الرحمن تقریر بھی سنسر ہوئی۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی پرپابندی کامعاملہ،خیبر پختونخواحکومت کافریق نہ بننےکا فیصلہ