جنگلات کی بیخ کنی؟

صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی عاید کرتے ہوئے اب تک کٹائی کے عمل کی نگرانی شروع کرنے کا حکم دیا ہے ، صوبائی وزیر جنگلات کی جانب سے سیکرٹری جنگلات کو ارسال کردہ ایک مراسلہ میں کہاگیا ہے کہ صوبے میں جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے بے چینی پائی جاتی ہے جس کا تدارک ضروری ہے لہٰذا صوبے بھر میں جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی عاید کی جائے ، صوبہ خیبر پختونخوا کو اللہ تعالیٰ نے جنگلات کے ذخائر سے مالا مال کر رکھا ہے جو نہ صرف موسمی تغیر و تبدل میں اہم کردار ادا کرے ہیں ، بلکہ دریائوں کے رخ کا تعین کرتے ہوئے زمین کے کٹائو کو روکنے ، جنگلی حیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ جنگلات سے حاصل ہونے والی قیمتی لکڑی سے صوبے کی آمدن میں اضافہ کرنے کا باعث بھی بنتے ہیں مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان قیمتی جنگلات کو ٹمبر مافیا اور متعلقہ اداروں اور محکموں کے افسران سے لے کر نیچے ایک عام چھوٹی سطح کے ملازمین نے مبینہ طور پر جس طرح تاراج کررکھا ہے اور ملی بھگت سے ایکڑوں کے ا یکڑ اراضی پر اگے ہوئے درختوں کی غیرقانونی کٹائی کرکے اپنی تجوریاں بھرنے کو ایک معمول بنا رکھا ہے جبکہ ایک ایک پرمٹ پر کئی کئی بار مقررہ تعداد سے بھی کئی گنازیادہ درختوں کی کٹائی کرکے جنگلات کوگنجا کردیاگیا ہے ، مستزاد یہ کہ اپنی چوری چھپانے کے لئے باقی کے حصوں کو آگ لگاکر مزید تباہی سے د و چار کر دیا ہے ، اس کی وجہ سے صوبے میں موسموں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں ، یہاں تک کہ بالائی سرد علاقوں میں بھی معمول سے زیادہ گرمی پڑنا شروع ہو گئی ہے اور سردی کے موسم میں بارشوں کا روایتی قدرتی سلسلہ بھی رک گیا ہے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جوپوسٹیں شیئر کی جا رہی ہیں وہ خاصی تشویشناک ہیں اور اس صورتحال کے تدارک کی جانب سنجیدہ توجہ دلا رہی ہیں اگر خبروںکی حد تک محدود رہنے پر ہی اکتفاکیاگیا تو آئندہ چند برس میں صوبہ موسمی تغیر کی وجہ سے ملک کا گرم ترین صوبہ بن جائے گا اس لئے جنگلات کو تباہی اور بربادی کی نذر کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔