خودی کی تلاش میں

ایک رات خواب میں عجیب منظر دیکھا ۔ بازار میں چند بزرگ جن کے چہرے جانے پہچانے سے تھے ، ایک کھلی جیپ میں بیٹھے مسلسل اعلان کیے جا رہے تھے کہ ” خواتین و حضرات ! ہماری ‘ خودی ‘ کا اتا پتا نہیں مل رہا ، اگر کسی کے ہاں موجود ہو تو ہمیں بتایا جائے ، ہاں اگر خودی ہماری یہ بات سن رہی ہے تو از برائے خدا ہم سے فوری رابطہ کرے ۔” یہ اعلان سنتے ہی نئی نسل بڑی حیران ہوئی کیونکہ وہ پہلی بار خودی کا نام سن رہی تھی، اس سے قبل کسی نے بھی اُنہیں موصوفہ کا کوئی حوالہ نہیں دیا تھا ۔ البتہ بزرگ بڑے سنجیدہ اور معنی خیز انداز میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔
خواب میں سنے ہوئے اس اعلان کی باز گشت نے مجھے کئی دن تک سوچنے پہ مجبور کیا ۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسی قوت جس کا مرکز و منبع انسانی دل ہو ، جس کے ساز سے اُمتوں کے چراغ روشن ہوں اور وہ اچانک غائب ہو جائے ۔ کیا وہ جذبہ اب باقی نہیں رہا جس سے اپنی دُنیا آپ پیدا کی جا سکے اور کیا انسان کے اندر کی وہ کیفیت جاتی رہی جس سے ہم خالق کی قربت حاصل کرتے ہیں ۔ایسا نہیں ہو سکتا اور پھر مَیں اپنے ذاتی اور قومی حالات پر غور کرنے لگا تو یہ یقین ہو چلا کہ خودی کو کسی نے پریشان کیا ہے یا وہ ایسے حادثے کا شکار ہوئی کہ اب اُٹھنے کے بھی قابل نہیں رہی ۔ مَیں نے چشم ِ تصور میں دیکھا ،خودی اعلان سننے کے بعد رات گئے علامہ اقبال کے مزار پہ حاضرہو کر اپنی گمشدگی کے بارے بتاتی ہے ، ” اے حکیم الامت ! تو نے مجھے اس خطہ میں پہچان دی ، تمہارے فلسفہ اور شاعری کی بنیاد بنی ، مجھے راز دروں اور کائنات کی بیداری کا نام دیا ، فرد و ملت کے استحکام کو میری ذات سے وابستہ کیا اور تو نے میرے سرِ نہاں کی تشریح لا الہ الا اللہ میں پائی ۔ مگر مَیں صرف تیرے اشعار میں زندہ رہی اور اب حالت یہ ہے کہ کہ کچھ کہنے میں شرمندگی محسوس کر رہی ہوں ۔ ۔ مجھ سے تو شیطان بہتر رہا کہ جس مخلوق کو سجدہ نہ کیا ، وہی مخلوق اب اس کے حضور سجدہ ریز ہے ۔ تم نے ایک خوابیدہ قوم کے اندر فکری قیادت اور اپنا تشخص پیدا کرنے کا فریضہ مجھے سونپا تا کہ ان کے فلسفہ حیات کی اساس بن جاؤں مگر افسوس صد افسوس کہ پاکستان بننے کے بعد مجھے کسی نے بھی اپنانے کی کوشش نہیں کی ، کسی کے سنگ راہ سے چشمے نہ پھوٹ سکے اور سب مقاصد دھرے کے دھرے رہ گئے ۔ مُلک آزاد ہوتے ہی بابائے قوم چل بسے ، بابا کی جیب میں کھوٹے سکے تھے جو ہمارے کسی کام نہ آسکے ۔ ایسے میں نالائق لوگوں کی ایک کھیپ ” مقابلے کا امتحان ” پاس کر کے اپنا سکہ بٹھانے لگی جبکہ وہ لوگ بھی نہ جانے کس کی شہہ پر آ نکلے جو اپنی چھڑی کے سہارے عوام کو ریوڑکی طرح ہانکنے لگے ۔ ان قابض حکمرانوں نے اپنی کوتاہ اندیشی کے باعث آزادی کے مقاصد اور قوم کے نظریاتی ، جمہوری اور تہذیبی عزائم کو پس پشت ڈال دیا ۔ نتیجہ یہ کہ آج عدم استحکام اور محکومی کے تاریک سائے منڈلا رہے ہیں ۔ مَیں نے درسگاہوں کا رخ بھی کیا جہاں آپ کے کلام کے شارعین اپنے طالب علموں سے میرا غلط سلط تعارف کراتے رہے کیونکہ مجھے بلند مقام دینے سے قاصر تھے ۔ میرے شیخ ! آپ کے نام سے قائم ہونے والی اکیڈمیوں کے کرتا دھرتا محض مجاوری کرتے رہے اور ہر سال جب آپ کا دن منانے کی تقریب میں میرا نام ترنم سے لیتے اور سر دھنتے تو مَیں اپنی خفت مٹانے ہال سے باہر نکل آتی ۔” خودی نے اب رخ بدلا اور قریب ہی شاہی مسجد کے دروازہ کی سیڑھیاں طے کرتے ہوئے مسجد کے صحن میں آگئی ۔ رب کو پکارا ، ” اے خدا ! مَیں کائنات کی روحانی بنیاد ہوں جس نے میرے اسرار و رموز سمجھے ، اس نے گویا آپ کو پا لیا ۔ لیکن دکھ ہے کہ انسانیت کو احساس بھی نہیں ، باہم دست و گریباں ہے۔
مذہبی منافرت ، قومیت ، رنگ و نسل کے امتیازات ، سرمایہ داری کی چالیں اور جنگ و جدل کے ہاتھوں انسانیت تباہ ہو رہی ہے ۔” خودی نے اس کے بعد مینار ِ پاکستان کی اوپری منزل سے اہل وطن کو مخاطب کیا ۔ یہ خطاب ایک احتجاج تھا ، وہ دکھی تھی کہ ہر ایک نے اُسے آزردہ کیا تھا ۔
سرکاری دفاتر میں تو کسی نے گھسنے نہ دیا ، عدالتوں میں اس سے نظریں بچا کر فیصلے ہوتے رہے ، وطن کی خاک چھان ماری مگر کسی نے بھی ساتھ نہ دیا ۔ ادبی مجلہ ” عطا ” کے بانی مدیر عنایت اللہ خان گنڈہ پور نے اپنے ایک اداریہ میں لکھا تھا کہ خودی کے پاس جب یہاں رہنے کا جواز نہ رہا تو وہ پاکستان چھوڑ کر کہیں چلی گئی ہے ۔ لیکن مَیں اتفاق نہیں کرتا کیونکہ خودی پاکستان میں موجود ہے اور اپنی نسل نو سے اُمید لگائے ہوئے ہے کہ جب انہیں شب بھر موبائل پر بات کرنے ، اونچی آواز میں بے ہنگم موسیقی سننے ، فلمیں دیکھنے ، درسگاہوں اور پارکوں میں عشق لڑانے اور سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے سے فرصت ہو گی تو ضرور میری طرف متوجہ ہو گی ۔ شامت اعمال کی سزا پانے سے ممکن ہے کہ قائدین سے لے کر ہر شعبہ زندگی کے فرد کا ضمیر جاگ جائے ۔ قارئین کرام !! خودی کو تلاش کریں یا آپ کا بھی وہی خیال ہے کہ خودی پاکستان چھوڑ گئی ہے ۔