خیبرپختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں‌تشویشناک اضافہ

ویب ڈیسک: خیبرپخونخوا کے ضلع صوابی میں تعلیمی ایمرجنسی کے حوالے سے ہونے والے ایک فورم میں شرکاء کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 2 کروڑ 62 لاکھ جبکہ خیبرپختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد 36 لاکھ سے متجاوز ہے۔
فورم شرکاء نے مزید بتایا کہ ان طلبا کو تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے وفاقی اور صوبائی تعلیمی بجٹ نمک میں آٹے کے برابر بھی نہیں۔ تعلیمی ایمرجنسی کے ثمرات حاصل کرنے کے لیے تعلیمی بجٹ میں 100 فیصد اضافہ کرنا ہوگا۔
شرکاء نے بتایا کہ صوبہ بھر میں سکول سے باہر بچوں میں‌ 74 ہزار سے زائد خصوصی بچے اور 20 ہزار کمسن خواجہ سراء بھی شامل ہیں۔
مبمر صوبائی اسمبلی مرتضی خان نے اس موقع پر کہا کہ سرسری تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو انہی تعلیمی اداروں میں کمپیوٹر اور ٹیکنیکل تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کلیکٹیو ایکشن اینڈ ایفیکٹیو فنانسنگ کے لیے ضروری ہے کہ پرنسپلز اور اساتذہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ سکول سے باہر بچوں کی بڑھتی تعداد قابو کرنے کیلئے پیرنٹ ٹیچر کونسل کو بااختیار بنایا جائے تب ہی ہم اپنے مقاصد کو باآسانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
مبمر صوبائی اسمبلی نے مزید بتایا کہ تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کو حل کرنا بھی اولین ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ آج اکیسویں صدی میں تعلیمی اداروں کے اندر فرنیچر اور صاف پانی کی کمی ہے۔

مزید پڑھیں:  صنم جاوید کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا فیصلہ چیلنج