فاٹا و پاٹا

فاٹا و پاٹا میں 6 فیصد ٹیکس ختم کرنیکی تجویز مسترد ، آئی ایم ایف کا ڈومور کا مطالبہ

ویب ڈیسک: آئی ایم ایف سٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد ٹیکس لگانے پر بضد جبکہ فاٹا و پاٹا میں 6 فیصد ٹیکس ختم کرنیکی تجویز کی مخالفت کرنے لگا۔ سیمنٹ و دیگر ٹیکسز کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف نے ڈو مور کا مطالبہ کر دیا۔
آئی ایم ایف نے مجوزہ فنانس بل 25-2024 کے بیشتر آئٹمز پر رعایت دینے سے انکار جبکہ ڈو مور کا مطالبہ بھی کر دیا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے سٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد ٹیکس لگانے اور فاٹا و پاٹا میں 6 فیصد ٹیکس ختم کرنیکی تجویز کی مخالفت کر دی۔
آئی ایم ایف نے تاحال حکومت کی جانب سے ایکسپورٹس پر متعین انکم ٹیکس کا نظام بحال کرنے کی اجازت دینے سے بھِ انکار کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان پر متعین ٹیکس نظام کی بحالی تجویز آگے بڑھانے کا کہا ہے تاکہ آئی ایم ایف سے آمادگی حاصل کی جا سکے۔
یاد رہے کہ آئی ایم ایف تمام اقسام کی آمدن کےساتھ ایک سا سلوک کا تقاضہ کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت فنانس بل قومی اسمبلی کے جاری ہفتے کے دوران پیش کریگا تاہم اس میں 250 ارب روپے کے مالیاتی خلا کو ایڈجسٹ کرنا مسائل پیدا کر رہا ہے۔
اس حوالے سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین ورچوئل مذاکرات گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہیں۔
ان مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف سے حکوتم نے کہا تھا کہ سٹیشنری آئٹمز پر جی ایس ٹی ہٹانے کی اجازت دی جائے۔ اس پر آئی ایم ایف ٹیکسٹ بکس کی حد تک تو رضامند ہوگیا لیکن دیگر تمام آئٹمز پر 18 فیصد جی ایس ٹی برقرار رکھنے پر بضد ہے۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی معظم جتوئی منظرعام پر آگئے