امریکی صدارتی انتخاب

امریکی صدارتی انتخاب، ٹرمپ اور بائیڈن آمنے سامنے

ویب ڈیسک: 5 نومبر کو ہونیوالے امریکی صدارتی انتخاب کیلئِے مباحثوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ ٹرمپ اور بائیڈن کے مابین مباحثوں کا آغاز ہو گیا.
ریاست جارجیا میں امریکی صدارتی انتخاب کیلئے پہلے مباحثہ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے اُمیدوار جو بائیڈن اور ری پبلیکن پارٹی کے ڈونلڈ ٹرمپ آمنے سامنے آ گئے۔
اس پہلے ہی مباحثے میں دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔
اس موقع پر جہاں امریکی معیشت زیر بحث رہی وہیں یوکرین جنگ سمیت دیگر موضوعات پر بھی تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ جب میں نے صدارت سنبھالی تو معیشت ڈانواڈول تھی۔ میری کوشش ہوگی کہ اس بات کو یقینی بناؤں کہ ملازمتوں میں اضافہ ہو اور لوگوں کو گھروں کی خریداری میں آسانی رہے۔
بائیڈن نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ ٹرمپ امریکی تاریخ کے واحد صدر تھے جن کے دور میں ملازمتوں میں کمی ہوئی، ٹرمپ کے ٹیکس چھوٹ سے صرف امیروں کو ہی فائدہ پہنچا۔
سابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میرے دور میں امریکی معیشت کی دنیا معترف رہی ہے۔ کوویڈ کو ہم نے جیسے ہیڈل کیا ہمیں اُس کا کریڈٹ نہیں دیا گیا۔
ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخاب کے مباحثے میں کہا کہ امر یکا آنے والے ہزاروں تارکین وطن سے سوشل سیکورٹی کا نظام برباد ہو جائے گا۔
انہوں نے بائیڈن کی ملٹری پالیسیاں احمقانہ قرار دیدیں، میں بھی افغانستان سے انخلاء کر رہا تھا لیکن جس طرح بائیڈن نے کیا وہ شرمناک ہے۔
ٹیکس چھوٹ کے سوال پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کمپنیوں اور امیروں کو ٹیکس چھوٹ دینے سے مزید نوکریاں پیدا ہوں گی جس کا فائدہ نچلے طبقے کو ہو گا۔
سابق امریکی صدر نے کہا کہ بائیڈن کے زیرِ صدارت امریکا کو دنیا میں کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا، ہم تیسری دنیا کا ملک بن گئے ہیں، بائیڈن صدر منتخب ہوئے تو امریکا نہیں بچے گا۔

مزید پڑھیں:  9مئی مقدمات میں عمران خان کا 10روزہ جسمانی ریمانڈ منظور