کینیا کے سبق آموز حالات

افریقی ملک کینیا میں ٹیکسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہوگیا۔ ان ہنگاموں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے۔ کینیا کے عوامی احتجاج کی شدت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت پر دھاوا بول دیا اور اندر گھس کر عمارت کے مختلف حصوں کو آگ لگادی، گورنر ہائوس بھی جلادیا، سپریم کورٹ میں کھڑی گاڑیوں کو نذر آتش کردیا، مظاہرین سینیٹ میں گھس گئے، یہاں تک کہ ٹیکس بڑھانے کی تجویز دینے والے رکن پارلیمنٹ کی سپر مارکیٹ کو بھی آگ لگادی گئی۔ اراکین پارلیمنٹ کو زیر زمین سرنگوں کے ذریعے باہر نکالا گیا۔ کینیا کے عوام بڑھتی مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کے بوجھ سے مشتعل ہوگئے۔ پولیس نے بھی مشتعل مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے 10 افراد ہلاک ہوگئے۔ کینیا کی صورت حال بھی ایشیا افریقا کے ان ممالک کی ہے جن کے حکمرانوں نے اپنے ملک کے عوام کو آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی ادارے کے قرضوں میں جکڑ لیا ہے اور خود جائز اور ناجائز ذرائع سے اپنے لیے دولت کے انبار کھڑے کردیے ہیں۔ حال ہی میں کینیا کی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول کی سطح پر معاہدے ہونے ہیں، کینیا کی معیشت کا بھی وہی حال ہے جو پاکستان سمیت دیگر ملکوں کا ہے یعنی کینیا کی آمدنی کا 37 فی صد یعنی ایک تہائی صرف قرضوں کے سود کی مد میں خرچ ہوتا ہے، اس لیے فنانس بل میں 27 ارب ڈالر کے نئے ٹیکس لگائے گئے، جن کا مقصد معیشت پر قرضوں کے بوجھ کو کم کرنا ہے۔ بھاری ٹیکسوں کے قانون کو پارلیمان نے منظور کرلیا اس لیے شہریوں کا احتجاج کا رخ پارلیمان کی طرف ہوگیا ایسے ہی کچھ مناظر ہم نے ایک برس قبل سری لنکا میں دیکھے تھے جو حکمرانوں کی کرپشن اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے ڈیفالٹ کرگیا تھا۔ جن ممالک میں سیاسی قیادت کمزور ہوتی ہے اور منظم پرامن جدوجہد میں ناکام ہوجاتی ہے وہاں ایسے پرتشدد ردعمل سامنے آتے ہیں جس کا تازہ تماشا کینیا میں نظر آیا۔ پاکستان کے حکمرانوں، سیاست دانوں اور عوام کو اس واقعے سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اس لیے کہ پاکستان کے حالات کینیا سے بھی زیادہ سنگین ہیں، حالات کو بدلنے کے لیے اگر کوئی پرامن اور منظم تحریک نہ چلائی گئی تو لاوا یہاں بھی پھٹ سکتا ہے، حکمرانوں کا خیال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر عوامی احتجاج کو دبایا جاسکتا ہے، یہ ان کی خام خیالی ہے۔اس سے پہلے سری لنکا میں معاشی حالات سے تنگ آکر حکمرانوں کے محلات پر ہلہ بول دیا تھا اور وزرا کو گاڑیوں سمیت ندی میں بہاد یا تھا ۔جن معاشروں میں امیر اور غریب کا فرق بڑھ جائے اور دونوں کے حالات میں زمین اور آسمان کے فاصلے حائل ہو جائیں وہاں عوام کا آمادہ تشدد ہونا چنداں عجیب نہیں ہوتا ۔بھوکے اور بپھرے ہوئے عوام امیروں کے منہ کا نوالہ چھیننے کے لئے تگ ودو کرتے ہیں ۔معاشی اعتبار سے پاکستان کے حالات بھی سری لنکا اور کینیا سے مختلف نہیں فرق صر ف یہ ہے کہ پاکستان کے عوام صابر وشاکر ہیں ۔حکومت کا ہر ٹیکس مقدر کا لکھا ہوا جان کر زہر کا کڑوا گھونٹ پی جاتے ہیں ۔انہیں بخوبی معلوم ہے کہ حکمران ان ٹیکسوں سے خود کو بچائے رکھتے ہیں اور ان کی ساری زد عام آدمی پر پڑتی ہے ۔اس کے باجودعوام ہر جبر ہنس کر سہہ جاتے ہیں ۔پاکستانی عوام کی مثال ناصر کاظمی کے اس شعر کی مانند ہے
پی جا ایام کی تلخی کو بھی ہنس کر ناصر
غم کو سہنے میں بھی قدرت نے مزہ رکھا ہے
مگر سری لنکا اور کینیا کے عوام کی حالت بھی ناصر کاظمی کے بقول اب یہ ہے کہ سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے ۔پاکستان میں بھی صبر وشکر کے یہ زمزمے تادیر یونہی نہیں بہہ سکتے اور غم کو سہنے کاسلسلہ تادیر جاری نہیں رہ سکتا کبھی نہ کبھی تو عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہوسکتا ہے اور پھر پاکستان کے عوام اپنی سڑکوں اور گلیوں کو سری لنکااور کینیا کے مناظر سے آشنا کر سکتے ہیں ۔اس وقت سے پہلے معاملات کو سدھارنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔آزادکشمیر کے عوام کا صبرو شکر کا پیمانہ ہلکا سا چھلک پڑا تھا تو حکمرانوں کے ہاتھ پاوں پھول گئے تھے ۔معیشت کی ہر بیماری کا علاج ٹیکس بڑھانے میں نہیں ۔ٹیکس دینے والے وہی لوگ ہیں جو پہلے ہی اپنی کھال اتار کر قرضوں کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔اب تو یوں لگتا ہے کہ نئے ٹیکسوں کی ادائیگی اوران کا بوجھ سہنے کے لئے مریخ سے ٹیکس دہندگان کی کوئی مخلوق اور انسانوں کی کوئی نئی کھیپ ہی درآمد کرنا ہوگی۔حاضر موجود انسانوں کی قوت برداشت تو اب جواب دیتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔اس لئے پہلے سے ٹیکس دینے والوں یا دوسرے لفظوں میں مہنگائی کا بوجھ سہنے والوں کی کمر کو زمین سے لگا کر ملک کو کس طرح معاشی خوشحالی دی جا سکتی ہے؟معیشت کو متبادل سہار ا دینے والے بڑے اقدامات پاکستان کے لئے جادونگری اور نوگو ایرایاز بنا دئیے گئے ہیں دیومالائی کہانیوں کی طرح جن پر صاف لکھا ہے اس راہ پر آگیقدم بڑ ھایا تو پتھر بن کر رہ جاوگے۔پاک ایران گیس پائپ لائن ،روس کا سستا تیل ،افغانستان کے راستے وسط ایشیا سے تجارتی روابط ،اپنے پوشیدہ معدنی ذخائر کی دریافت اور استفادہ ایسے ہی نوگو ایریاز ہیں جن میں پاکستان کا قدم رکھنا ممنوع ہے اوپر سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور آپریشنوں کا ڈھول بھی اس ریاست کے گلے میں لٹکایا جا رہا ہے جس کی آواز دور سے ہی سن کر سرمایہ کار اور سیاح بھاگ نکلتے ہیں ۔جس ملک میں سرمایہ کار اور سیاح نہ آئیں وہاں معاشی بدحالی بال کھولے اپنے ڈیرے ڈالے رکھتی ہے ۔لے دے کر سارا انحصار آئی ایم ایف کے قرض اور اس کے بعد ملنے والے کچھ مخیر دوست ملکوں کی امداد پر ہے۔گویاکہ پاکستان کو پیراسائٹ سٹیٹ بنا دیا گیا ہے جو صرف آئی ایم ایف کے مستعار خون پر اپنے دن گزار رہی ہے۔پاکستان کے عوام اپنے معاشی مسائل کا حل چاہتے ہیں تو انہیں جنگوں اور آپریشنوں کا تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:  پشاور کا نوحہ