ٹرمپ اور بائیڈن کی غلط بیانیاں

صدارتی مباحثہ :ٹرمپ اور بائیڈن کی غلط بیانیاں سامنے آگئیں

ویب ڈیسک: امریکی میڈیا صدارتی مباحثے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کی غلط بیانیاں سامنے لے آیا ۔
صدارتی مباحثے کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 30جھوٹ بولے جبکہ جو بائیڈن نے 9بار غلط بیانیاں کیں، امریکی میڈیا غلط بیانیوں کو سامنے لے آیا ۔
سی این این کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مباحثے کے دوران ابارشن کے معاملے پر جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹ ریاستوں میں پیدائش سے قبل 8ویں یا 9ویں مہینے یا پھر پیدائش کے فوری بعد نومولود بچوں کے قتل سے متعلق تحفظات پر قانونی ماہرین اور عام سطح پر ان سے ابارشن کے حق سے متعلق امریکی سپریم کورٹ کے 1974 کے فیصلیکو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
امریکی نشریاتی ادارے نے ٹرمپ کے اپنے دور صدارت میں دہشتگردی کا واقعہ رونما نہ ہونے، یوکرین کیلئے یورپ کے مقابلے میں زیادہ امریکی امداد دینے اور کیپیٹل ہل حملے میں اسپیکر نینسی پلوسی کی جانب سے 10ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو ہٹانے سے متعلق بیانات کو بھی جھوٹ پر قرار دیا۔
سی این این نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعویٰ کو بھی غلط بیانی قرار دیا جس میں انہوں نے کہاکہ ریٹائرڈ امریکی فوجیوں کیلئے ویٹرن چوائس پروگرام بطور صدر انہوں نے کانگریس میں پیش کیا۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوی کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا گیاکہ موجودہ وقت میں امریکا سب سے بڑے بجٹ خسارے اور چین کے ساتھ تجارتی خسارے کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں معاملات موجودہ وقت میں نہیں بلکہ سابق صدر ٹرمپ کے دور صدارت کے دوران تھے۔
موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی مباحثے کے دوران 9 غلط بیانیاں کیں تھیں۔
رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن نے اپنے میڈی کیئر پالیسیوں کے اعداد و شمار سے متعلق 2جھوٹ بولے اور اپنے دور صدارت میں کسی امریکی فوجی اہلکار کی ہلاک نہ ہونے سے متعلق بھی جھوٹا دعویٰ کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جو بائیڈن نے مباحثے کے دوران بھی ارب پتیوں پر ٹیکس ریٹ سے متعلق گمراہ کن اعداد و شمار پر مبنی غلط بیانی ایک بار پھر دوہرا دی اور جھوٹا دعوی کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سوشل سکیورٹی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں:  پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کو 27 نشستیں ملنے کا امکان