عزم استحکام آپریشن کی مخالفت

قومی وطن پارٹی نے بھی عزم استحکام آپریشن کی مخالفت کردی

ویب ڈیسک: قومی وطن پارٹی نے بھی عزم استحکام آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا ۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا ہے کہ عزم آپریشن کی کیوں ضرورت پڑ گئی ، وزیراعظم کی جانب سے کیا جارہا کہ یہ اٹنیلی جنس بیسڈ آپریشن ہے وہ تو پہلے ہی ہورہے ہیں ۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤکا کہنا تھا کہ یہ کونسا آپریشن ہے جس کے خدو خال ابھی تک ظاہر نہیں کئے جارہے ،جب تک آپریشن کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا مخالفت کرتے رہیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ توقع تھی کہ عام انتخابات کے بعد سیاسی استحکام آئے گا اور معیشت بہتر ہوگی لیکن انتخابات کے بعد سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہواالیکشن کمیشن کا کرادر انتہائی ناقص رہاہے ، الیکشن کمشنر کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کی حالت اس حد تک آگئی کہ قومی اسمبلی میں کوئی بات ہی نہیں کرسکتا۔
آفتاب شیرپاؤ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے انتخابات کو متنازعہ قرار دینے کی قرارداد پورے ملک کیلئے باعث تشویش ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابات کی جانچ پڑتال کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایاجائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت مرکزی حکومت بے ساکھیوں پر چل رہی ہے اس سے جمہوریت اور معیشت کو نقصان پہنچے گا ،پی ٹی آئی کا یہ بیان کہ موجودہ وفاقی حکومت مکمل بے اختیار ہے سیاسی عدم استحکام کا باعث بن رہاہے ۔
پریس کانفرنس کے دوران بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے آفتاب شیرپائو کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ابتدائی طور پر 1500 ارب ٹیکس کو بڑھا کر 1700 ارب کردیئے گئے ،حکومت نے اخراجات میں کمی کی بجائے مزید 32 فیصد اضافہ کیا ۔
آفتاب شیرپاؤنے کہا کہ جب پارلیمنٹ نہ چلے اور باقی ادارے بھی کام نہ کرے تو جمہوریت کو نقصان ہوگا، وفاقی حکومت بذاتِ خود کمزور ہے،فیصلے کا اختیار نہیں بجٹ سے لوگوں کی توقعات ہوتی کہ انہیں ریلیف ملے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔
انہوں نے کہا کہ عوام پر 200بلین کا اضافے ٹیکس لگایا گیا ، افغانستان سے آنے والی سبزیوں اور پھلوں پر بھی 18 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لئے ہر سال 100 بلین کا اعلان کیا گیا ہے لیکن آج تک نہ ملے ۔

مزید پڑھیں:  نواز شریف اور مریم نواز کیمپ شہباز شریف کا دھڑن تختہ چاہتے ہیں،بیرسٹر سیف