ایک اور سکینڈل میں پشاور بدنام

جعلی پاسپورٹ اور جعلی شناختی کارڈ سکینڈل کے بعد جعلی ڈرائیونگ لائسنس کا سکینڈل سامنے آنا اچھنبے کی بات اس لئے نہیں کہ متعلقہ اداروں کے اہلکار ہی اس میں پوری طرح ملوث ہوتے ہیں جن کی ملی بھگت سے منظم طریقے سے یہ دھندا ہو رہا ہوتا ہے ماضی میںڈرائیونگ لائسنس سکینڈل میں ایک بڑے پولیس افسر کابھی نام آیا تھا اس کی تحقیقات بھی زور و شور ہوئیں مگر معاملہ حسب دستور داخل دفتر ہوا اس مرتبہ محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کی جانب سے مبینہ طور پر بیرون ملک مقیم افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کی جعلی تصدیق کا سکینڈل سامنے آیا ہے ہانگ کانگ حکومت کی جانب سے حکومت پاکستان سے متعلق باضابطہ رابطہ کرلیا گیا ہے جبکہ آسٹریلیا میں بھی ایسی بھی جعل سازی رپورٹ کی گئی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں جعلی بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں منظم گروہ ملوث رہا ہے اور اس دھندے کی سالوں سے جاری ہونے کی شنید ہے اس ے قطع نظر المیہ یہ ہے کہ یہاں تک کہ یہ لائسنس بیٹھے بٹھائے بھاری رقم دے کر حاصل ہوتی رہی ہیں معلوم نہیں اس میں ٹریفک پولیس اورمحکمہ ٹرانسپورٹ کا عملہ کس حد تک ملوث تھا یہ دھندہ ان کی ملی بھگت سے ہو رہا تھا یا پھر لائسنس چھاپ کر دینے کا کوئی منظم دھندہ جاری تھا کیونکہ جن کو یہ لائسنس دیئے گئے ان کو تاکید ہوتی رہی ہے کہ وہ اس لائسنس کو بیرون ملک جا کر ہی استعمال میں لائیں یہاں کسی کو نہ دکھانے تک کی تاکید کی شنید ہے ہر جعلی دھندے کا سراصوبائی دارالحکومت پشاور سے ملنے کا عمل ایف آئی اے ، پاسپورٹ اور نادرا سبھی اداروں کے ساتھ ساتھ حساس اداروں کی کارکردگی اور نگرانی کے عملی پر بھی سوالات کاباعث ہے یہ بین الاقوامی طور پر ملک کی بدنامی کے ساتھ ساتھ اس شہر اور اس صوبے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے بار بار کے واقعات کے باوجود اس کے انسداد کی کوئی کارگر سعی نہیں کی جاتی بلکہ سکینڈل کا انکشاف بیرون ملک ہونے کے بعد عقدہ کھلتا ہے کہ پشاور کس قسم اور سطح کے جعلسازوں کا مرکز ہے بدقسمتی سے ماضی وحال میں سامنے آنے والے سکینڈلزکے ذمہ داروں کابچ نکلنا ہی اس طرح کے دھندے کی حوصلہ افزائی اور ذمہ داروں کے تحفظ کاباعث بن رہا ہے کیا حکومت صوبے میں بڑے پیمانے پر ٹریول ایجنٹوں اوراورسیز ا یمپلائمنٹ کے نام پر اس طرح کے دھندے میں ملوث اور انسانی سمگلنگ کے منظم دھندے کا اب بھی سختی سے نوٹس لے گی اور ایف آئی اے پاسپورٹ و امیگریشن اور محکمہ ٹرانسپورٹ و ٹریفک پولیس کے دفاتر کی خفیہ نگرانی اور اس دھندے کے مراکز میں بیٹھے ایجنٹوں کو اس غیر قانونی کام سے روک پائے گی نیز ریکارڈ قبضے میں لے کر اس مکروہ دھندے میں ملوث عناصر کو بے نقاب کر پائے گی جامع تحقیقات ہوں تو اس نیٹ ورک میں ملوث وفاقی صوبائی محکموںمیں موجود ایجنٹوں اور ان کے سرپرستوں کو کٹہرے میں لانا کوئی مشکل کام نہیں مگر کرے کون؟۔