آئی ٹی کے منصوبے پورے نہیں ادھورے

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کلائوڈ فرسٹ پالیسی میں جن منصوبوں کاتذکرہ کیا گیا ہے اور جو پروگرام مرتب کئے گئے ہیں اگر اس کے نصف حصے پر بھی عملدرآمد ممکن بنایا جا سکا اور آدھی کامیابی بھی حاصل کی گئی تو یہ صوبے میں نوجوانوں کے اچھے مستقبل اور آئی ٹی کی ترقی میں نمایاں کارنامہ ہو گا کم از کم اب تک نہ صرف صوبائی حکومت کی طرف سے بلکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی اس شعبے میں نہ ہونے کے برابر اور ناکام اقدامات ہی کرنے کا عمل جاری ہے یہاں تک کہ وفاقی اور صوبائی یعنی خیبر پختونخوا کی حکومت دونوں ابھی تک ای گورنمنٹ کے دعوے کو بھی عملی طور پر ادھورے پن کے ساتھ بھی روبہ عمل لاے میں تساہل کا شکار ہیں اور اس جانب کسی پیشرفت کی بھی توقع کم ہی ہے خیبر پختونخوا میں آئی ٹی کے شعبے میں نوجوانوں کو راغب کرنے اور ان کو حقیقی ہنرمندی کے گر سکھانے کے محض دعوے ہی ہوتے آئے ہیں اس ضمن میں جن تربیتی پروگرامات کاانعقاد بھی کیا گیا ہے اولاً نوجوانوں کو سکھانے والوں کا انتخاب میرٹ پرنہ ہونے اور متعلقہ حکام کی ازخود ناواقفیت سب سے بڑامسئلہ ہے دوم جن نوجوانوں کو سفارش یا پھر میرٹ ہی پر کیوں نہ لیا گیا ہو وہ عدم رجحان اور عدم دلچسپی کے باعث خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکے اس شعبے میں اصل کامیابی ان نوجوانوں ہی کو حاصل ہو رہی ہے جو از خود سیکھنے کی سعی کرتے ہیں اس طرح کے نوجوانوں کے لئے بین الاقوامی طور پر کورسز اور ڈپلومہ کے کھلے مواقع ہیں کم از کم ان مفت کورسز ہی سے نوجوان استفادہ کریں تو ان کے لئے ابتدائے روزگار کی راہیں کھل سکتی ہیں بہرحال توقع کی جانی چاہئے کہ محولہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا اور حکومتی مساعی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

مزید پڑھیں:  ریڈیوپاکستان کے پنشنرز کے ساتھ ناروا سلوک