تیس برس میں مکمل نہ ہونے والی سڑک

چترال جو دو ضلعوں پر مشتمل ہے یعنی اپر اور لوئرجس میں چھ تحصیل ہیں ۔ان دونوں ضلعوں کی آبادی لگ بھگ چھ لاکھ افراد پر مشتمل ہے ۔ یہ ضلعے رقبے کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے ضلع ہیں ۔ چترال کی اہمیت اس حوالے سے بھی ہے کہ یہ سرحدی ضلعے ہیں ۔ یہ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہیں ، پن بجلی کی پیداوار کے لیے دنیا کا موزوں ترین علاقہ ہے ۔ یہ ضلعے دو اطراف سے میلوں طویل گلیشیروں سے ڈھکے ہوئے ہیں ، پینے کے صاف پانی کا پاکستان کا سب سے بڑا قدرتی ذخیرہ بھی ان اضلاع کے پہاڑی سلسلوں میں سے ہوکر آتا ہے ۔ لیکن یہ اضلاع ہمیشہ سے حکومتی توجہ سے محروم رہے ہیں ۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بنیاد ی انسانی سہولیات موجود ہیں لیکن چترال کے ان دو ضلعوں میں بیشتر آبادی کو یہ سہولیات میسر نہیں ہیں ۔ سردی کے موسم میں اپر چترال کی بیشترکی آبادی باقی دنیا سے کٹ کر زندگی گزرتی ہے ۔ اس دور میں بھی دور دراز کے علاقوں تک روڈ کے ذریعہ رسائی نہیں ہے ۔ اپر چترال کے دو بڑے تحصیلوںتورکھو اور موڑ کھو کے لیے آج سے تین دہائی پہلے ایک روڈ بنانے کا کام شروع کیا گیا تھا ۔ جو آج بھی نامکمل ہے ۔ اس روڈ کے ٹھیکے کئی بار دئیے گئے ۔ اس روڈ کے حوالے سے کرپشن کی ہوش رُبا داستانیں سننے میں آئیں ۔ برسوں تک اس روڈ کی ناگفتہ بہ صورتحال کی وجہ سے اس کی ساری آبادی متاثر ہوتی رہی ۔ اس پر حادثات سے درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ۔ مگر پاکستان کا نظام اپنے ان شہریوں کو یہ بنیادی سہولت تاحال دینے میں ناکام ہے ۔ پاکستان میں کرپشن تو شہروں میں بھی ہوتی ہے مگر چونکہ شہروں میں کسی حد تک کام بھی کیا جاتا ہے مگر دور دراز کے دیہی علاقوں میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے کاموں میں اور سڑکیں اور دیگر انفرسٹرکچر بنانے والے اداروں نے جو کرپشن کی ہے اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی ۔ ان علاقوں میں چونکہ پہاڑی سلسلے ہیں اس لیے ٹھیکہ دار محکمے کی ملی بھگت سے کٹائی کا کام تو رغبت سے کرتے ہیں اس لیے کہ عقل کے اندھوں نے ایسے قوانین بنائے ہوئے ہیں کہ اس سے ٹھیکہ دار کو بے تحاشا فائدہ ہوتا ہے ۔ مگر دیگر کاموں میں پیسے کم ملتے ہیں اس لیے دیگر کام دہائیوں تک پڑے رہتے ہیں ۔ یہ سب کچھ تورکھو بوزند روڈ کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔ ہر برس اس روڈ کے لیے کروڑوں روپے منظور ہوتے ہیں اور روڈ پر کام نہیں ہوتا ۔ اب بھی بے تحاشا پیسے خرچ ہونے کے بعد یہ روڈ ساٹھ فیصد بھی مکمل نہیں ہے ۔ اب پھر جون کا مہینہ گزر گیا ہے گیارہ کروڑ سے زیادہ کے پیسے ریلیز ہوئے ہیں ۔ چند دنوں میں یہ پیسے بھی خرچ ہوجائیں گے ۔ اور اس علاقے کے غریب و مظلوم عوام پھر سے مشکلات کا شکار ہوں گے اور احتجاج کرتے رہیں گے۔ پھر اگلے برس کا جون آئے گا پھر کروڑو ں روپے ریلیز ہوں گے ۔ اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا ۔ کبھی صوبائی ، وفاقی حکومتوں اور کرپشن روکنے والے اداروں نے کسی ادارے کو تفتیش کے لیے نہیں بلایا کہ جس کام کا جو تخمینہ انہوں نے لگایا تھا وہ اس میں مکمل کیوں نہیں ہوا ۔ اور جو پیسے آئے تھے وہ اس مد میں کہاں خرچ ہوئے ۔ اگر تخمینہ غلط لگایا گیا تھا تو اس سرکاری ذمہ دار ملازم کو اس کی کیا سزا دی گئی ۔ ہمارے ملک میں جو دس لاکھ کا کام ہوتا ہے ۔ اس کو تاخیر کا شکار کرکے اس کی لاگت دس کروڑ بنا دی جاتی ہے ۔ کیا ہمارا نظام اتنا ہی اپاہج ہے کہ اس کا راستہ نہ روک سکے ۔ ان روڈ وںپر کام کروانے اور توجہ دلانے کے کیلئے چترال کے غریب عوام نے کتنے احتجاج کیے ہیں ۔ ایک وقت تو ایسا آیا کہ اس کیلئے ایک باقاعدہ تحریک شروع کی گئی لوگوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کو درخواستیں دیں ۔ جلسے کئی جلوس نکالے ، دھرنے دئیے مگر سب بے سود چترال کی سڑکوں کی حالت ویسے کی ویسی ہی ہے ۔ چترال میں چند ایک سڑکیںاین ایچ اے کے پاس ہیں جبکہ باقی سڑکیں سی اینڈ ڈبلیو کے پاس ہیں ۔ چترال چونکہ پاکستان کے ان اضلاع میں شامل ہے جہاں قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بہت زیادہ تباہی ہورہی ہے ۔ سیلابوں ، گلیشیروں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ ، دریائی کٹاؤ، ایولینچ، زلزلوں ، اور آسمانی بجلی گرنے سے سب سے زیادہ نقصان یہاں کی سڑکوں پر ہوتا ہے ۔ اول تو روڈ اتنے ناقص بنائے گئے ہیں کہ بارش کی چند بوندیں ہی ان کو ناقابل استعمال بنا دیتی ہیں پھر سڑکوں کی بحالی اور انتظام کے لیے سالانہ کروڑں کے ٹھیکے دئیے جاتے ہیں مگر بدترین کرپشن کی وجہ سے ان میں دس فیصد بھی ان سڑکوںکی بحالی اور انتظام پر خرچ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہر برس ان کی حالت مخدوش ہوتی جارہی ہے ۔ بڑے شہروں میں ایک کلومیٹر کی بیوٹی فیکیشن کے نام پراربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں مگر ان علاقوں میں رہنے والے ہزاروں انسانوں کو زندگی کی بنیادی سہولت دینے کے لیے حکومت کے پاس پیسے کم پڑجاتے ہیں ۔ اس دور میں جب دنیا نے بہت ترقی کرلی ہے اس میں چترال کے ان لوگوں کا اتنا تو حق بنتا ہے کہ ان کو آمد و رفت کے لیے ایک مناسب سڑک بنا کر دی جائے ۔ اگر ادارے تورکھو بوزند روڈ کی تمام فائلیں نکالیں اور کسی ایماندار افسر کے ذریعہ انکوائری کرائیںتو ایسے ہوش رُبا انکشافات سامنے آئیں گے کہ ہم اس کا تصور تک نہیں کرسکتے ۔ لیکن اس سب میں ان علاقوں کے رہائشیوں کا کیا قصور ہے ۔ جو سردی کے موسم آمدورفت کی سہولت نہ ہونے کے باعث اپنے مردے دفنانے اپنے علاقے میں نہیں لے جاسکتے اور اپنے مریضوں کو علاج کیلئے گھروں سے نہیں نکال سکتے ۔ یہ علاقے جنت نظیر ہیں اور امن اور اخوت کا مرکز ہیں ۔ اگر ان تک رسائی کو آسان بنایا جائے تو ان علاقوں میں سیاحت کے مواقع پاکستان کے دیگر علاقوں سے بہت زیادہ ہیں ۔یہاں کے عوام سڑکوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس علاقے کو چھوڑ کر پشاور اور دیگر علاقوں میں منتقل ہورہے ہیں ۔ تورکھو بوزند روڈ جس کو اصولاً ایک برس میں مکمل ہونا تھا آج تیس برس گزرنے کے باوجود نامکمل ہے ۔ کیا اس علاقے کے لوگوں کے ان تین دہائیوں کا کوئی مداوا کسی حکومت کے پاس ہے ۔ کیا ان تین دہائیوں میںاس غفلت کی وجہ سے مرنے والے سینکڑوں افرادکی جانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ افغانستا ن جیسے تباہ حال ملک نے واخان تک پکی سڑکیں بنا دی ہیں، نورستان میں پکی سڑکیں بنادی ہیں ، بدخشان میں پکی سڑکیں بنا دی ہیں ۔ اور ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں ۔