جعلی ڈرائیونگ لائسنس ،نیا سکینڈل

پاکستانی جعلی شناختی کارڈز اور پاسپورٹوں کے قصے تو اب بہت پرانے ہو چکے ہیں اور دنیا بھر میں اس قسم کے جعلی دستاویزات پر نقل و حرکت کرنے ،ملازمت حاصل کرنے اور ان کی آڑ میں پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرکے کئی معاملات میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے والے غیر ملکی باشندوںکے حوالے سے خبریں اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اس حوالے سے ابھی چند ہفتے قبل سعودی عرب سے اسی قسم کے جعلی شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں پر معاشی معاش کی تلاش میں جانے والوں کی نشاندہی اور انہیں ڈیپورٹ کرنے کا واقعہ بھی اتنا پرانا نہیں ہے جبکہ مختلف ممالک میں ان ”دو نمبر” پاکستانیوں کی غیر قانونی بلکہ مجرمانہ حرکتیں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کا امیج بری طرح مجروح ہوتا رہا ہے اور اس قسم کے غیر قانونی دھندے میں ملوث متعلقہ اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی اکثر شناخت بھی ہوتی رہی ہے، مگر ان میں سے کتنے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے اس بارے میں درست معلومات عوام تک نہ پہنچنے کی وجہ سے اس غیر قانونی دھندے کو مکمل طور پر بیخ و بن سے اکھاڑنا بھی ممکن نہیں رہا،کیونکہ ادھر چند قانون شکن افراد کی گرفتاری اور ان پر مقدمات کی خبروں کی روشنائی سوکھنے بھی نہیں پاتی کہ پھر یہ دھندا شروع ہونے کی خبریں ا جاتی ہیں ،اب ایک اور سکینڈل سامنے آگیا ہے اور وہ ہے صوبہ خیبر پختونخوا کے حوالے سے کہ یہاں سے انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنسز کی جعلی تصدیق کا مسئلہ، اس ضمن میں بطور خاص کم عمر افراد کو بھی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنسوں کا اجراء عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی میں اضافے کا باعث بنا ہے، یہ غیر قانونی کام صرف پاکستان ہی میں ممکن ہے جہاں نو عمر بچوں کو بھی ڈرائیونگ لائسنس جاری ہو جاتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں تو بغیر کسی دستاویز کے یہ”باثر افراد کے” بچے سڑکوں پر گاڑیاں دوڑاتے نظر آتے ہیں اور اکثر خوفناک حادثات کا باعث بنتے ہیں، اس معاملے کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں تاکہ نہ صرف غیر ملکوں بلکہ خود پاکستان کی سڑکیں بھی حادثات سے محفوظ ہو سکیں۔

مزید پڑھیں:  تباہ کن بجلی معاہدے