بجلی کے نئے منصوبے اور آئی ایم ایف کا دباؤ

آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ میں ٹیکس چھوٹ اور رعایتیں ختم کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے انہیں معیشت کیلئے ضروری قرار دیتے ہوئے 10 جولائی سے قبل بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیاہے اور اس اقدام کو نئے قرض کیلئے پیشگی اقدامات کے تحت ضروری قرار دیا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کی ایک اور لہر کی آمدتشببیہ دینے میں کوئی امرمانع نہیں ہو سکتا ،دوسری جانب عوام میں بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافے پر احتجاج کی جو صورتحال ابھر رہی ہے اور مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے جو مخالفانہ آوازیں اٹھ رہی ہیں، دھرنے دئیے جا رہے ہیں، ٹریفک جام کی کیفیت سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے وہ بھی ملکی حالات کیلئے کوئی نیک شگون ہرگز نہیں ہے کیونکہ اگر زندگی کے معمولات اس طرح احتجاج کی نذر ہوتے رہے تو پہلے سے مشکلات میں گھری ہوئی معیشت مکمل طور پر بیٹھ جانے کے خدشات میں اضافے کو خارج ازامکان قرار دینے میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں رہ جاتا، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ” آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنانا جان جوکھوں کا کام ہے، ایک طرف آئی ایم ایف کا دباؤ اور دوسری طرف عوامی توقعات”، انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ” یہ آئی ایم ایف سے آخری معاہدہ ہوگا ”، اللہ کرے کہ وزیراعظم کی یہ بات درست ثابت ہو اور جس طرح لیگ(ن) کے سابقہ دور میں میاں نواز شریف نے آئی ایم ایف کو قرضے کی آخری قسط ادا کرنے کے بعد اسے خیرباد کہہ دیا تھا اب بھی واقعی ایسا ہی ہو، تا ہم بدقسمتی سے پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھنے کی تاب نہ لانے والی عالمی قوتیں درپردہ سازشوں کے ذریعے ایسے تمام اقدامات کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے نہ صرف بیرونی دباؤ بلکہ پاکستان کے اندر بھی موجود بعض سازشی عناصر کی مدد سے اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی راہیں کھوئی کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کرتے اور انہوں نے سابقہ وزیراعظم نواز شریف کے آئی ایم ایف سے گلو خلاصی کے اعلان کے بعد جس طرح پانامہ کی سازش برپا کر کے اسے” شرمناک طریقے ” سے پایا تکمیل تک پہنچایا اس میں ہمارے لئے کئی اسباق پوشیدہ ہیں، بہرحال یہ جو آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کیلئے 10 جولائی کی ڈیڈ لائن دیدی ہے تو اس کے جو نتائج برآمد ہوں گے ان سے قطع نظر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سستی ترین بجلی پیدا کرنے کے اعلان کو اگرچہ خوش آئند تو قرار دیا جا سکتا ہے تاہم اس قسم کے اعلانات کی حقیقت پر اگر غور کیا جائے تو اسے عوام کیلئے لالی پاپ بھی قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ کے گزشتہ روز کی پریس کانفرنس میں کئے جانے والے دعوؤں کی تردید تو نہیں کی جا سکتی بلکہ اس کی تائید ہی ممکن ہے کہ بقول ان کے بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے قیام سے ہمیں بجلی فی یونٹ 6روپے میں پڑے گی جبکہ وفاق ہمیں فی یونٹ 62 روپے میں بجلی دے رہا ہے، سیانوں نے کہا ہے کہ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ، تو اب تک تو صوبے کے عوام کو یہ پٹی پڑھائی جاتی رہی ہے کہ تربیلا سے پیدا ہونے والی بجلی پر لاگت 2 روپے یونٹ ہے، ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے رہے ہیں، اب اچانک 2 روپے سے بڑھ کر 6 روپے یونٹ کی حقیقت کیا ہے ؟، خیر قطع نظر اس کے اگر ذرا مزید غور کیا جائے تو اے این پی کے دور سے جب بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر عاید پابندی ختم کی گئی تو مزید کئی چھوٹے چھوٹے منصوبے پائے تکمیل تک پہنچائے گئے لیکن صوبے میں پیدا ہونے والی پن بجلی میں اضافے کے باوجود صوبے کو اس کے حصے کے منافع تک میں ضروری اضافہ نہ ہو سکا اور اس وقت بھی وفاق کے ذمے اربوں کے بقایا جات موجود ہیں، اس دوران میں گزشتہ 2 ادوار تحریک انصاف صوبے میں (اب تیسری بار ہے) جبکہ کچھ کم ایک بار مرکز میں برسر اقتدار ہونے کے باوجود نہ تو صوبے کو اس کے بقایاجات مل سکے نہ ہی بجلی کی قیمت میں کمی کے مطالبات تسلیم کئے گئے ،چونکہ معاملہ صرف پن بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ بجلی کی تقسیم کے نظام پر اختیار کا بھی ہے اور موجودہ صورتحال میں بجلی کی تقسیم کا سارا نظام وفاق کے تحت کام کر رہا ہے اس لئے صوبہ جتنی بھی چاہے نئے چھوٹے منصوبوں سے مزید پن بجلی پیدا کر لے یہ بجلی قومی گرڈ کو ہی فراہم کرنا لازمی ہے، تا وقیتکہ صوبہ اپنا ٹرانسمیشن سسٹم قائم نہ کر لے، تا ہم صوبے کو اس کی اجازت بھی وفاق سے لینا ہوگی، تو اس قسم کے خوش کن دعوؤں سے عوام کو وعدوں کے لالی پاپ تھما کر سیاسی سکورنگ نہ کی جائے تو بہتر ہے، البتہ پن بجلی کے زیادہ سے زیادہ منصوبے بنانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ بہرحال یہ ملک و قوم کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہیں۔

مزید پڑھیں:  قابل تقلید اقدام