جینا محال ہے

محاورہ مشہور ہے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا ،ایک مضمون پڑھا تھا جس میں منظر کشی کی گئی تھی کہ اپنے حالات سے ناخوش لوگوں کا ایک گروہ ایک جگہ جمع ہو کر اپنے اپنے دکھ درد اور بیماریاں ایک دوسرے سے تبدیل کرلیتے ہیں اور ہفتہ عشرہ بعد جب واپس جمع ہو تے ہیں تو ہر ایک اس نتیجے پر پہنچا ہوا ہوتا ہے کہ ان کا اپنا پرانا عارضہ اور تکلیف غنیمت تھی، وہ کافی پرانے زمانے کی بات تھی جب لوگوں میں تحمل اور صبرو برداشت کا مادہ کافی ہوا کرتا تھا، آ ج کل انٹرنیٹ کا زمانہ ہے لوگوں کا مزاج ہو یا برداشت بھی چھ ایم بی سے بھی بڑھ گئی ہے، بچوں میں تحمل اور برداشت کا مادہ باقی ہی نہیں بچا، خوشی کے موقع پر بھی ناخوش اور اضمحلال کا شکار خودکشیاں بڑھ گئی ہیں، ذہنی ا مراض میں بہت اضافہ ہوا ہے، اس کا سبب کیا ہے ،ماحولیاتی تبدیلی ،خاندانی نظام کی شکست وریخت ،معاشرے میں بلا وجہ کی مسابقت تعلیمی دوڑ، والدین کی عدم توجہی ،بے جا نمود و نمائش اور اپنے آ پ سے اپنی زندگی کو پیچیدہ اور مشکل بنا نا، وجوہات انفرادی ہوں کہ اجتماعی زندگی بوجھ اور اجیر ن بن گئی ہے ،ہر شخص اور فرد کے اپنے حالات اور مسائل ہیں جس سے نکلنے کی سنجیدہ جد و جہد کی کمی ہے، دوسروں کی نقالی اور شارٹ کٹ کی مساعی نے کسی کو کہیں کا نہیں چھوڑا ،
”کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا”
آ ئی ایم ایف کے اشارے پر کوے کی طرح مکر کرنے کی شہرت رکھنے والے ہمارے حکمرانوں نے جس طرح بے دریغ ٹیکسوں کا نفاذ کیا ہے اس فہرست میں ڈھونڈ نے سے بھی وہ چیزیں نہیں ملتیں جو عوام کو متاثر کرنے والی نہ ہو ں، مجھے تو تفصیل پڑھ کر ہی چکر آ نے لگے کہ میرا ،آ پ کا اور ہمارے جیسے عام لوگوں کا آ خر بنے گا کیا؟ خبر یہاں نقل کررہی ہوں دوبارہ سہ بارہ پڑھ کر آ پ بھی غور کریں کہ عوام پر کس قدر قیامت ڈھانے کا ساماں کیا گیا ہے۔قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کی منظوری دیدی جس کا نفاذ یکم جولائی سے ہوگا،جانوروں کیلئے کھل اور دیگر سولڈ باقیات سمیت دکانوں پر فروخت سویاں ، شیر مال ، بن اور رس پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے ، پولٹری فیڈ ، مویشی کی فیڈ ، سورج مکھی کے بیج سے تیار خوراک پر بھی 10 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔500 ڈالر سے کم قیمت والے درآمدی موبائل فون پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ، اس کے علاوہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے موبائل فون کی درآمد پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔موبائل فون کے پرزہ جات کی درآمد اور مقامی تیار موبائل فونز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے ، لیڈ ،بیٹریاں تیار کرنیوالے رجسٹرڈ افراد پر سیلز ٹیکس 75 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد عائد کردیا گیا۔رجسٹرڈ افراد کیلئے سیمنٹ کی تیاری میں استعمال جپسم کی سپلائی پر 80 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا ، کوئلہ کی سپلائی ، پیپر بورڈ اور ویسٹ پیپر کی سپلائی پر بھی 80 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا۔پلاسٹک ویسٹ ، کرش سٹون کی سپلائی پر بھی 80 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ، ہربل اور ہومیو پیتھک ادویات پر ٹیکس رعایت ختم کر دی گئی۔نزلہ ، زکام اور کھانسی کے جوشاندے ، ہربل معجون ، مربے اور سفوف ، مختلف ہربل شربت اور گولیوں ، ہومیو پیتھک کی سینکڑوں ادویات سمیت ہومیو پیتھک کے تمام شربت اور کریم پر سیلز ٹیکس عائد ہوگا۔ٹیکس فراڈ اور ٹیکس چوروں کو جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزائیں دینے کا قانون منظور بھی کرلیا گیا۔ ٹیکس چوروں پر 25 ہزار روپے یا چوری شدہ ٹیکس کے برابر جرمانہ عائد ہوگا۔50 کروڑ روپے تک کی ٹیکس چوری یا فراڈ پر 5 سال تک قید کی سزا دی جائے گی ، ایک ارب یا اس سے زائد کے ٹیکس فراڈ یا چوری پر 10سال قید کی سزا متعارف کرائی گئی ہے۔بھلا آ پ ہی بتائیے بجٹ میں کس کس چیز پر اور کن کن اشیاء پر محصولات لگائی گئی ہیں اور پہلے سے کن کن اشیاء پر محصولات کی ادائیگی عوام کررہے ہیں، عام آدمی تو درکنار بچے ٹافی بھی خرید تے ہیں تو اس پر بھی ٹیکس دیتے ہیں ،یادش بخیر سابق وزیر خزانہ سر تاج عزیز مرحوم نے سر چارچ لگایا تو لوگوں نے اس کا نام سرچارچ عزیز رکھ دیا، سابق صدر ایوب خان کے دور میں چینی کی قیمت بڑھی تو لوگوں نے ان کو چینی چور کہہ دیا، اسحاق ڈار کے دور میں ڈالر کی قیمت بڑھی تو لوگوں نے ان کو اسحاق ڈالر پکارنا شروع کر دیا، موجودہ مشیر خزانہ کا کسی نے نام بھی نہیں سنا اس لئے ان کو آ ئی ایم ایف کا نمائندہ پکارنا ٹھیک ہے ،لوگ صحیح سمجھ رہے ہیں موصوف اگر عوام اور ملک پاکستان کے نمائندے ہوتے توآ ئی ایم ایف کیلئے اگرائی کی خدمات نہ سر انجام دے رہے ہوتے، ایک عام آدمی جو پہلے ہی نان جویں کا محتاج ہو آ خر وہ کیسے یہ سب کچھ برداشت کرسکے گا، ان حالات میں گھر کی خواتین سے لیکر کاروبار روزگار کرنے والے لوگ سبھی کیسے خوش رہ سکتے ہیں ،خوشی کیلئے بھی کم از کم انسان کی بنیادی احتیاجات کا تو پورا ہونا ضروری ہوتا ہے، ازدواجی زندگی کی کامیابی کیلئے بھی بنیادی مسائل کی کثرت زہر قاتل ہے، یہ جو معاشرے میں قتل وغارت راہزنی اور سٹریٹ کرائم میں آ ئے روز اضافہ نظر آ تا ہے تو کئی نوجوان ایسے ضرور ہونگے جو لوٹ مار اور جرم کی دنیا سے نفرت کے باوجود بیروزگاری سے تنگ آکر پاپی پیٹ کی خاطر ڈھانے باندھ کر نکلتے ہوں گے کہ کچھ چھین کر لوٹ مار کرکے پیٹ کا دوزخ بھرا جائے اور حرام ہی سہی کچھ اشیا ئے خوردنی گھر لائی جائیں، اس کی گنجائش بالکل بھی نہیں مگر جب کبھی خود کو ان کی جگہ رکھ کر غور کریں تو وہ اتنے گناہ گار بھی نہیں جتنا ہم انہیں سمجھتے ہیں ،خیر یہ تو برسبیل تذکرہ ہی ذکر ہوا ہم جیسے لوگ جو اپنے بچوں کو چھوڑ کر صبح نکلے اور سورج ڈھلے گھر آ تے ہیں، مہینہ کیسے گذرتا ہے یہ ہم سے پوچھو، اس طرح کے حالات میں جینے کا ساماں کیسے ہو کسی کو نہیں معلوم، حکمرانوں نے بس حکومت چلانی ہے چمڑی کسی کی ادھڑتی ہے ادھڑتی رہے مگر آ خر کب تک ؟؟؟
اس طرح کے حالات ہی ہوتے ہیں جب عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو تا ہے اور وہ ایوانوں کا رخ کرتے ہیں انہی دنوں کینیا میں کیا ہوا تھا ،کچھ عرصہ قبل سری لنکا میں کیا ہوا تھا، ہمارے ہاں کے حالات بھی ان سے زیادہ مختلف نہیں ،ہمارے عوام یا تو بہت برداشت والے صابر اور شاکر ہیں یا پھر بے حسی شاید دونوں باتیں نہ ہو ں اور اصل بات ان کی وہ مجبوری ہو کہ اگر وہ دھرنا دے کر بیٹھ جائیں تو شام کو ان کے بچے کیا کھائیں گے؟ خدا نخواستہ یہ حالات بھی نہ رہیں تو پھر ایوانوں سے لیکر محلات کا رخ کرنا یقینی ہوگا، جب لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو اور حکمران و محلات کے مکین تماشا دیکھنے والے بن جائیں تو پھر تماش بینوں کی آ نکھیں ہی پھوڑی جائیں گی اور کچھ نہ ہوگا ،ان حالات میں جب عوام مہنگائی اور مشکلات کے باعث آدھ موئے ہوئے پڑے ہیں ہم نے خواہ مخواہ میں ناخوشی کی کیفیت سے ابتداء کی تھی بہتر تھا کہ سوگ کی کیفیت کا بیان کرتے کہ عوام کے حالات کی کچھ تو عکاسی ہوتی اور بس۔۔

مزید پڑھیں:  بالآخر پشاور کی بھی سنی گئی!