نیا مالی سال شروع

نیا مالی سال شروع، ٹیکسزکےنفاذسےمہنگائی کانیا طوفان امڈ آئیگا

نیا مالی سال شروع ہوتے ہی تمام ٹیکسز اپلائی ہو گئے، تمام ضروریات زندگی مہنگے ہونے سے نئَے مسائل جنم لیں گے۔ آج سے موبائل فون خریدنا بھی عام آدمی کے لیے مزید مشکل ہوجائے گا۔
ویب ڈیسک: نیا مالی سال شروع ہوتے ہی حکومت کی جانب سے لاگو ہونیوالے ٹیکسز سے مہنگائی کا نیا در وا ہو جائیگا۔
یاد رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے فنانس بل پر دستخط کردیے ہیں۔ بجٹ سمری منظور ہونے سے عوام پر 200 ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز لاگو ہو گئے ہیں۔ ان ٹیکسز میں کھانے پینے کی تمام اشیاء سمیت موبائل فونز، میک اپ کا سامان اور سٹینشری وغیرہ بھی شامل ہیں۔
فنانس بل سے جہاں تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس میں اضافہ ہوگا وہیں آٹے کی قیمت میں 18 فیصد سیلز ٹیکس، گھریلو آلات اور کاغذ پر استثنیٰ ختم ہو جائیگا۔
آج سے پیکڈ شدہ غذائی اشیاء آٹا، چاول، دالیں، مصالحے، درآمدی سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات اور دودھ مزید مہنگے ہوجائیں گے۔
نیا مالی سال شروع ہوتے ہی مرغی کے گوشت، بیف اور مٹن کے دام بھی مزید بڑھیں گی کیونکہ پولٹری فیڈ اور مویشیوں کی خوراک پر دس فیصد سیلز ٹیکس لگ چکا ہے۔
نئَ مالی سال کے فنانس بل میں ابتدائی طور پر پیٹرول اور ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد 80 روپے کرنے کی تجویز دی گئی.
اب 80 کے بجائے یہ حد 70 روپے ہوگی۔ اسی طرح مٹی کے تیل، لائٹ ڈیزل اور ای ٹین پیٹرول پر لیوی کی حد 50 روپے رہے گی۔
دوسری جانب سے اور نیا سال شروع ہوتے ہی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیا۔ آج سے موبائل فون خریدنا بھی عام آدمی کے لیے مزید مشکل ہوجائے گا۔
ایل ای ڈیز، اے سی اور دیگر الیکٹرانک آلات بھی ٹیکسوں میں بھاری اضافے کے بعد مزید مہنگے ہوجائیں گے۔
ایک کروڑ روپے سالانہ آمدن پر دس فیصد سرچارج بھی عائد کیا گیا ہے جبکہ تعمیراتی شعبے پر بھی ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
غرض زندگی سے جڑی تمام اشیا پر ٹیکس لاگو کر دیا گیا ہے جس سے ملک کے تمام طبقات شدید متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ غیر منطقی ہے، اسفند یار ولی