اے مرے شہر پشاور تری یاد آئی بہت

چند برس پہلے کی بات ہے ، پشاور پر صوبے کے دیگر اضلاع میں رجسٹرڈ شدہ رکشوں نے یلغار کر رکھی تھی ، ظاہر ہے رکشہ خود تو چل کر نہیں آسکتا تھا اور بڑی تعداد بلکہ بہت بڑی تعدادمیں یہ رکشے مالکان خود یا ان کے ایماء پر ڈرائیور لا کر چلاتے تھے ، حالانکہ قانون یہ ہے کہ کسی ایک ضلع میں رجسٹرڈ ہونے والا رکشہ دوسرے ضلع میں چلانے کی اجازت نہیں ہوتی ، مگر یار لوگوں نے تگڑم بازی یہ کی کہ پشاور میں جب ایک خاص تعداد میں رکشے رجسٹرڈ ہونے کے بعد مزید کوئی گنجائش نہیں رہی جبکہ رکشے بنانے والی فیکٹریاں دن رات دھڑا دھر رکشے بنا بنا کر مارکیٹ میں جھونکتی رہیں تو انہیں پرمٹ لے کر سڑکوں پردوڑانے میں کیا امر مانع ہو سکتا تھا سوائے اس کے کہ قانونی طور پر یہ رکشے کن علاقوں میں چل سکتے ہیں ، لیکن ہوا یہ کہ جس طرح اس سے بھی بہت پہلے فورڈ ویگن پشاو ر کی سڑکوں پر ہشتنگری سے یونیورسٹی اور آگے بورڈ تک چلتے چلتے دھویں کے سیاہ زہریلے مرغولے اپنے پیچھے چھوڑتے ہوئے دندناتے پھرتے تھے ، مگر ان سے ٹریفک والے کوئی تعرض اس لئے نہیں کرتے تھے کہ ان دنوں یہ بات عام تھی کہ ان میں سے زیادہ تر ویگن خود انہی ٹریفک(حکام سے اہلکاروں تک کی ملکیت تھے) اس لئے اگر کہیں کوئی ویگن پکڑی جاتی یا اسے روک لیا جاتا تو تھوڑی ہی دیر میں متعلقہ ٹریفک کانسٹیبل بے چارہ لاچار ہوکر اسے چھوڑ دیتا جبکہ ڈرائیور طنزیہ انداز میں مسکراتا ہوا ، مونچھوں کو تائو دیتا ہوا ویگن سٹارٹ کرکے آگے بڑھ جاتا ، ان ویگنوں میں زیادہ تر وہ ازکار رفتہ اور فرسودہ ویگنیں ہوتیں جن کے انجن اس قدر ناکارہ ہوچکے ہوتے کہ انہیں چلانے کے لئے ضرورت سے زیادہ موبل آئل کی ضرورت پڑتی یوں اضافی موبل آئل کی وجہ سے خطرناک سیاہ ترین دھوئیں کے مرغولے سائیلنسر کے راستے خارج ہوکر انسانی پھیپھڑوں کو چھلنی کرتے ہوئے سیدھے اوپر اوزون کی تہہ کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنتے بی آر ٹی کے اجراء کے بعد اب بھی اکا دکا ویگنیں چلتی دکھائی دیتی ہیں، خیر بات ہو رہی تھی دیگر اضلاع کے ا ن اضافی رکشوں کی جو ”مالکان” کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پشاور کی سڑکوںپر یلغار کرتے ہوئے شہریوں کے سینوں پر بھی مونگ دلتے ہوئے ٹریفک کے لئے شدید مشکلات کا باعث بن رہے تھے مگر جس طرح ماضی بعید میں فورڈ ویگنوں کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا تھا بجز اس کے کہ وہ خودہی چلتے چلتے کباڑ خانوں کی زینت بنتے چلے گئے اسی طرح ہمیں یاد ہے کہ ان رکشوں کے خلاف کئی بار ”آپریشن کلین اپ” کی کوششیںکی گئیں یہاں تک کہ ایک بار ان کو کم از کم کنٹرول کرنے کے لئے صبح سے شام تک چلنے والے رکشوں کے رنگ سفید جبکہ شام سے رات گئے اور پھر اگلی صبح تک چلنے والے رکشں کے رنگ زرد کر دیئے گئے مگر وہ جو پشتو کی ایک کہاوت ہے کہ چور کے لئے سوتالے بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتے ، اس قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے راستے بھی ڈھونڈہی لئے گئے ۔ادھر بورڈ تہکال تک آنے جانے والی اذ کار رفتہ بسوں کی ”چال بے ڈھنگی” بھی ان بسوں کے کنڈیکٹروں کی جانب سے ”چل استاد ڈبل اے” کے نعروں سے بھی سیدھے نہیں ہوتے تھے اور اوپر سے تیز رفتاری سے اگلی سٹاپ تک پہنچنے کی جلدی سے ”کچھ” بھی ہونے کے چانسز روشن ہی رہتے ۔ اس پر میر تقی میر ضروریاد آتے ہیں جنہوں نے کہا تھا
میر عمداً بھی کوئی مرتا ہے؟
جان ہے تو جہاں ہے پیارے
اصل موضوع تک آتے آتے تمہید کچھ زیادہ ہی لمبی بلکہ چوڑی بھی ہو گئی ، یہ دوسرے اضلاع کے رکشوں کی یلغار اس لئے یاد آگئی کہ انہی رکشوں کی طرز پراب دیگر اضلاع سے دارالحکومت پشاور میں تبدیل ہو کر آنے والے اساتذہ کی وجہ سے پشاور میں اسامیاں (آسامیاں غلط ہے) ختم ہوگئی ہیں یعنی جس طرح ماضی میں دوسرے اضلاع سے رکشوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے پشاور پر یلغار کی تھی اور یہاں بندوں سے زیادہ رکشوں کی ” آمد جامد”ہوتی تھی ، اب پشاور کے باشندوں کا جائز حق مارتے ہوئے (یقینا سیاسی بنیادوں پر)دیگر اضلاع سے اساتذہ کو تبدیل کرکے ان اضلاع میں ا سامیاں خالی ہونے کی وجہ سے متعلقہ اراکین اسمبلی کی سفارش پر یا دیگر ”وجوہات” کی بنیاد پر وہاں کی خالی اسامیوں پر ”منظور نظر” افراد بھرتی کئے جائیں گے گویا یہ صورتحال چپڑیاں اور دو دو والی ہے جبکہ ا ہل پشاور حیرت و حسرت سے اپنا جائز حق چھیننے کی یہ مبینہ وارداتیں دیکھتے رہیں گے کیونکہ گزشتہ کئی برس اور کئی سیاسی ادوار میں یہی کھیل دیکھا جارہا ہے کہ پشاور کے حقوق پر مبینہ طور پرڈاکہ پڑنا اب معمول کی بات ہے ۔یعنی بقول شاعر
مرے چراغ جلے ہیں کچھ ایسی شرطوں پر
کہ ساری روشنی اس کی ، مگر دھواں میرا
پشاور سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کو ایسی چپ لگی ہے کہ وہ اپنے ضلع کے لوگوں کے جائز حقوق کے لئے بھی بوجوہ آواز بلند نہیں کرتے ، جبکہ دیگر اضلاع سے منتخب ہو کر آنے والے اہل پشاور کے حقوق پر جس طرح ”قبضہ” کرتے ہیں اس سے کئی سوال اٹھتے ہیں اگر یہاں کے اراکین اسمبلی اپنے ضلع کے جائز حقوق بھی دوسروں کے آگے”سرنڈر” کرتے ہوئے خاموش رہنے ہی میں عافیت محسوس کرتے ہیں تو پھر کیا کہا جاسکتا ہے پشاور کے لوگ بھی انسان ہیں ان کا بھی اس ملک اور پھر صوبے پر اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے لوگوں کا وہ کوئی بے زبان جانور نہیں ہیں جو اس صریح زیادتی پر آواز نہ اٹھا سکیں پشاور کی اپنی ایک اہمیت ہے اور اس سے جدا نہ ہونے کی باتیں ہر دور میں اہل قلم نے اپنے اپنے انداز میں کی ہیں ، سید حامد سروش نے کہا ہے
سوچا تھا اس سے دور کہیں جابسیں گے ہم
لیکن سروش ہم سے پشاور نہ چھٹ سکا
ناصر علی سید نے کہا
راستے رزق کشادہ کے بہت ہیں ناصر
کوئی اس شہر پشاور سے جدا کیسے ہو
اور احمد فراز نے تو دیار غیرمیں پشاور کی عظمت کو یوں خراج تحسین پیش کیا
روم کاحسن بہت دامن دل کھینچتا ہے
اے مرے شہر پشاور تری یاد آئی بہت
اور خود اس حقیر نے ایک بار کہا تھا
ان کو یہ زعم وہ ہیں عروس البلاد کے
لے یاد یار ہم بھی پشاور کے ہوگئے