بڑھتے درجہ حرارت

زمین کے بڑھتے درجہ حرارت کے ہماری نیند پر منفی اثرات

ویب ڈیسک: نئی عالمی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زمین کے بڑھتے درجہ حرارت سے ہماری رات کی نیند پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں اور اس صدی کے آخر تک اگر کاربن کے اخراج کو قابو نہ کیا گیا تو صورتحال بدترین شکل اختیار کر سکتی ہے ۔
ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپین ہیگن کے محققین نے68ممالک کے 47ہزار سے زائد افراد کی کلائیوں میں بندھی نیند ٹریک کرنے والی پٹیوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا مطالعہ کیا تاکہ مستقبل میں ہماری نیند پر پڑنے والے اثرات کے متعلق بتایا جا سکے۔

تحقیق کے مطابق محققین کو یہ بات معلوم ہوئی کہ بڑھتے درجہ حرارت کے سبب ہر سال دنیا بھر میں لوگوں کے نیند کا دورانیہ اوسطاً 44گھنٹے کم ہو رہا ہے جو 2099تک بڑھ کر 50سے 58گھنٹے تک پہنچ جائے گا اس حساب سے کم ہونے والی یہ مقدار فی رات 10منٹ سے تھوڑی کم بنتی ہے۔
تحقیق کے مطابق بڑھتے درجہ حرارت کے نیند کی مقدار پر منفی اثرات کی زد میں زیادہ تر وہ لوگ آئیں گے جن کا تعلق کم آمدنی والے ممالک سے ہوتا ہے، ان کے ہمراہ خواتین اور بزرگ افراد بھی فہرست میں شامل ہیں۔
کل ملا کر بڑی عمر کے افراد دیر سے سوئیں گے، جلدی اٹھیں گے اور گرم راتوں کے درمیان ان کی نیند کا دورانیہ کم ہو جائے گا جس کی وجہ سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر متعدد منفی اثرات پڑیں گے۔
عالمی سطح پر بڑھتا درجہ حرارت ہماری نیند کی کل مقدار میں کمی کرے گا کیوں کہ جسم کے بنیادی درجہ حرارت کو ہماری نیند کے لیے کم ہونا پڑتا ہے۔
ایسا ہونا وقت کے ساتھ مشکل ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ ہمارے اطراف موجود دنیا گرم سے گرم تر ہوتی جارہی ہے۔
تحقیق کے مصنف کیلٹن مائنر کا کہنا تھا کہ ہمارے اجسام، جسم کے بنیادی درجہ حرارت کو مستحکم رکھنے کے لیے بڑی حد تک صلاحیت رکھتے ہیں یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر ہماری زندگی کا انحصار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر رات یہ صلاحیت ہمارے شعور میں بات لائے بغیر بہترین کام کرتی ہے۔
یہ ہماری رگوں کو پھیلا کر ہمارے پیروں اور ہاتھوں میں خون کی روانی کو بڑھا دیتی ہے اور جسم کے درجہ حرارت کو اطراف کے ماحول میں نکال دیتی ہے۔
کیلٹن مائنر کا یہ بھی کہنا تھا کہ درجہ حرارت کی اس منتقلی کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ ہمارے اطرف میں موجود ماحول کا درجہ حرارت ہمارے درجہ حرارت سے کم ہو۔

مزید پڑھیں:  شوکت یوسفزئی کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے، پشاور ہائیکورٹ