مرے کو مارے شاہ مدار

ٹیکسوں اور بجلی بلوں میں اضافہ کے خلاف تاجروں کی ہڑتال اور ریلی اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دلانے کی ایک کوشش ضرور ہے لیکن ان کے مطالبات پر حکومت توجہ دینے کی پوزیشن میں اس لئے نہیں کیونکہ حکومت کو زیادہ سے زادہ رقم اکٹھی کرکے معاملات چلانے ہیںحکومت آئی ایم ایف سے صرف قرض نہیں لے رہی بلکہ آئی ایم ایف سے عوام کو نچوڑنے کا معاہدہ کرکے ہی قرض کی منظوری لی جاتی ہے ایک جانب ٹیکسوں کی بھرماراور اضافہ اور دوسری جانب بجلی کے بھاری بل اس سے عوام ہی نہیں کاروباری طبقہ بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کے نفاذ کا دوسرا تیسرا دن ہے اس کے اثرات جلد ہی ظاہر ہوں گے البتہ بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ کے اثرات سب کے سامنے ہے اور مزید اثرات بھی درپیش ہیں۔عوامی و تجارتی حلقوں کی جانب سے ان اضافوں کے خلاف مسلسل ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مختلف شعبوں خصوصاً صنعتی اور تجارتی حلقوں پر مختلف ٹیکسوں کو لاگو کرنے کیخلاف متعلقہ حلقوں نے ان ٹیکسوں کے نفاذ کیخلاف ایکا کرتے ہوئے نہ صرف وفاقی بجٹ کو مسترد کر دیا ہے بلکہ ملک بھر میں احتجاجی بینرز آویزاں کر دئیے ہیں تاجر برادری نے حکومت اور نیپرا کی جانب سے بجلی صارفین پر فکسڈ چارجز تک کے اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظلم اور ناروا بات یہ ہے کہ گھریلو صارفین سے بھی اب فکسڈ چارجز وصول کئے جائیں گے جو عوام کی زندگی کو مزید مشکل اور اجیرن بنا دے گا فکسڈ چارجز ناجائز اور بے تحاشہ اضافہ کو صنعتی تباہی اور صارفین کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہو گا گزشتہ کچھ عرصے سے حکومت دیگر شعبوں کے علاوہ یوٹیلٹی بلز، بجلی، گیس ،پٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی مسلط کرنے کی جس راہ پر گامزن ہے اس سے عوام کی مسلسل چیخیں نکل رہی ہیں ،بجلی کی قیمتوں میں ہر ماہ اضافے کے باعث زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے حکومت نجانے کب کسی نکتے پر رکے گی یا پھر اس طرح کی وصولیوں کے نت نئے سلسلے جاری رہیں گے۔ اسی طرح اب فکسڈ چارجز لاگو کرنے سے خیبر پختونخوا میں پہلے ہی سے مشکلات کا شکار صنعتی شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو گا صنعتی ،تجارتی پہیہ رک جائے گا اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔

مزید پڑھیں:  رموز مملکت خویش خسرواں دانند