میزانیہ نہیں سیلاب بلا

نئے مالی سال کے میزانیہ کو الفاظ کا گورکھ دھندا قرار دے کراسے سمجھنے کے لئے مشکل بتایا جاتا ہے یہ تاثر اپنی جگہ لیکن میرے نزدیک یہ اعداد و شمار کا کھیل کھیلنے والوں کے لئے تو ایساہی ہو گا مگر عوام کے لئے ہر گز نہیں کیونکہ عوام کو اس بات کا بخوبی علم اور تجربہ ہے کہ جب بھی بجٹ منظورہوتا اور نئے مالی سال کا آغاز ہو تا ہے تو ساتھ ہی ان کی زندگی کی مشکلات میں بھی اضافہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوجاتا ہے اس سے زیادہ اسے سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں اتنی سمجھ کافی ہے ہر حکومت اور مالی سال کی طرح اس سال بھی چوہوں کی مجلس میں بجٹ کی منظوری ایک ایسے عالم میں دی گئی جس میں عوام پر نت نئے ٹیکس اور مالیاتی بوجھ میں اضافہ ناتواں کندھوں کے بوجھ میں کمی لانے کی بجائے مزید بار اٹھانے کے باعث اقدامات اور اراکین اسمبلی کی مراعات میں ایسا متفقہ اضافہ کہ اس کی مخالفت نہ تو ماضی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے کی ہے اور نہ ہی اب کسی نے لب کھولے بلکہ نہایت آسانی سے اراکین اسمبلی نے اپنے مراعات میں اضافے کی منظوری دے دی ہے اس کے ساتھ قومی اسمبلی اور سینٹ سیکرٹریٹ کے ملازمین کو بھی خاموشی سے نواز دیاگیا یبورو کریسی او رسرکاری ملازمین کو بھی حصہ ملنا ہی ہوتا ہے۔ ان کی تنخواہوں میں ویسے بھی معقول اضافہ کی راہ میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں رہتی مسلم لیگ نون اور پی پی پی واتحادیوں کی حکومت ہو تو باقی جماعتیں بشمول تحریک انصاف جو اس وقت ایوان میں بطور جماعت تو موجود نہیں لیکن اس کے اراکین سنی اتحاد کی چھتری تلے کوئی کسر جانے نہیں دیتے سوائے اراکین اسمبلی کے مفاد کے ،اس منظر نامے سے واضح ہوتا ہے کہ نہ تو عوام ایسے نمائندے ایوان میں بھیجتی ہے ہیں جو ان کے دکھ درد کو سمجھنے والے ہوں اور نہ ہی الاماشاء اللہ اراکین اسمبلی و اراکین سینٹ کو عوام کے مسائل اور مشکلات سے کوئی سروکار ہے موجودہ حکومت اور اسمبلی ویسے بھی فارم 47 کی پیداوار ہے اور آئی ایم ایف کی باندی ان سے توقع اور اظہار شکوہ ہی عبث ہے مگر جو لوگ خود کو حقیقی منتخب فارم 45 کے قرار دیتے ہیں انہوں نے کیا کیا سبھی ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں اور بس۔ نئے مالی سال کے میزانیہ کی اس سے جامع تشریح نہیں ہو سکتی کہ اس میں عوام پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور آئندہ مالی سال کیبھاری ٹیکسوں کی وجہ سے عام افراد کی زندگیوں میں مشکلات کے بدترین دور کا باعث ہو گا۔ اس میزانیہ میں اضافی ٹیکسوں کی ایک قطار لگائی گئی ہے جس سے قیمتوں پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے ۔لیکن اس کے باوجود مذاق دیکھئے کہ وزیر اعظم سے لے کر نیچے تک ہر عہدیدار نے بساط بھر اس بجٹ کو اگلے چند سالوں میں بڑی اور امید افزاء معاشی تدیلی کے طور پر پیش کرنے میں پیش پیش ہیں اس سے بڑھ کر اور ستم کیا ہو کہ فنانس بل کی منظوری سے عین قبل اصل بل میں موجود 1.5ٹریلین روپے کے علاوہ 200 ارب روپے کے مزید نئے ٹیکس بھی عاید کئے گئے ٹیکس اہداف کا حصول ہر حکومت کے بس سے باہر کی بات رہی ہے اور اس مرتبہ بھی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اتنے بھاری ٹیکس لگانے کے باوجود وصولی کے اہداف میں ناکامی کا شکار ہو گی یوں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ان لوگوں پر جو ٹیکس دیتے ہیں بڑھے گا اور اس کے باوجود حکومت اہداف کے حصول کی ناکامی پر مزید ناکامی کاشکار ہو گی حکومت بجٹ بیس کو وسعت دینے کی بجائے براہ راست ٹیکس کی وصولی ترجیح رکھی ہے او اس میں 48 فیصد کا بے تحاشہ اور غیر حقیقت پسندانہ اضافہ کیاگیا ہے ٹیکس نیٹ میں وسعت کی بجائے اسحق ڈار کے قدیم اصطلاح نان فائلر کی رو سے ٹیکس نادہندگی کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے اصولی طور پر ٹیکس دہندہ اور ٹیکس چور کی اصطلاح استعمال ہونی چاہئے اور ٹیکس چوروں سے چوروں کی طرح نمٹنا چاہئے مگر خود حکومت جب ایک اصطلاح کے ذریعے چوری کاراستہ کھلا رکھے گی تو کوئی ٹیکس کیوں چوری نہ کرے ٹیکس چوری کی کئی قسمیں اور طریقے ہوتے ہیں کچھ تو چور ہوتے ہیں مگر کچھ ایسے چور ہوتے ہیں کہ وہ چوری بھی کرتے ہیں اور سینہ زوری بھی اس کی ایک ہی مثال کافی ہو گی کہ ایک نوجوان اسسٹنٹ کمشنر انکم ٹیکس نے جب ملک و قوم کی محبت میں ابتداء ابتداء میں نادانی کرکے جب ایک اوسط درجے کے دفاعی ادارے کے ریٹائرڈ افسر کی نجی کمپنی کونوٹس بھیجا تو گرگ باران دیدہ افسر نے سمجھایا کہ ”ایسا نہیں کرتے” ان کے اعلیٰ افسر کو فون آیا اور فائل بند یہ تو ایک مثال تھی ورنہ یہاں مگر مچھوں کی کمی نہیں جو جبڑا کھولے سب کچھ ہڑپ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے یہ ٹیکس چوری تو معمولی بات ہے جہاں سرکاری خزانہ اور بینک تک لوٹ کر دیوالیہ کرنے کے واقعات ہو رہے ہوں معدنیات سے لے کر جنگلات کو شیر مادر کی طرح سب کی آنکھوں کے سامنے ہڑپ کرنے کے واقعات معمول ہوں وہاں ہماری فریاد کی حیثیت دیوانے کی بڑ سے زیادہ نہیں ہوتی اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا کہ حکومت اپنے اخراجات میں کمی کئے بغیر اراکین پارلیمان کی مراعات میں اضافہ کرکے متوسط طبقے پر زیادہ سے زیادہ اور لیویز میں ا ضافہ کا بوجھ ڈال کر عوام کی غمگساری کی بھی دعویدار ہے ۔ کالم کی ایک روایت ہوتی ہے کہ کالم نگار کچھ حل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کچھ تجاویز پیش کرتا ہے ایسا وہاں کیا جاتا ہے جہاں اس کی گنجائش ہو اور جہاں کوئی سننے والا اور آمادہ بہ اصلاح ہو یہاں تو اس کی گنجائش ہی نہیں بڑے بڑے معاشی ماہرین ا صلاح احوال کی کچھ تجاویز بھی پیش کرتے ہیں لیکن یہاں سنی آئی ایم ایف کی جاتی ہے مانی آئی ایم ایف کی جاتی ہے اور عمل بھی انہی کے اشاروں پر ہونا ہوتا ہے اور تو اور بجٹ ہی جب ان کی مرضی و منشاء بلکہ جبری احکامات کے تحت مرتب ہوئی ہو حکومت فنانس بل میں ٹیکس لگانے پر بھی بس نہ کرتی ہو اور منظوری سے قبل ٹیکسوں کا ایک اور کوہ ہمالیہ لاددی جاتی ہو وہاں دعا ہی کی جا سکتی ہے اور بس ۔ قوم دعا کرے کہ ان حکمرانوں اور اس نظام سے آسمان والا ہمیں نجات دے ۔ آمین