عمران خان کے خلاف کارروائی

ریاست مخالف بیانیہ ، عمران خان کے خلاف کارروائی کی منظوری

ویب ڈیسک: پنجاب کابینہ نے ریاست مخالف بیانیے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی ۔
صوبائی کابینہ کی دستاویزات میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف آنے والی درخواست کو وجہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان پاکستان کو موڑنے کی منظم سازش کررہے ہیں ۔
کابینہ دستاویزات کے مطابق سیاسی مقاصد کیلئے بانی پی ٹی آئی، پی ٹی آئی ورکرز ریاست مخالف کام کر رہے ہیں،عمران خان موجودہ صورتحال کو مشرقی پاکستان اور 1971کی سیاسی صورتحال سے تشبیہ دے رہے ہیں،پی ٹی آئی لیڈر منظم سازش کے ذریعے موجودہ صورتحال کو 197 کا ریفرنس دے رہے ہیں۔
کابینہ دستاویزات میں مزید بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو پاکستان مخالف بیانیے کا ٹاسک سونپا،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی اڈیالہ جیل کے باہر ریاست مخالف بیان دیئے ،گوہر علی خان نے بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد مشرقی پاکستان کی بات دہرائی،بانی پی ٹی آئی اور دیگر ارکان کا عمل بغاوت کے زمرے میں آتا ہے ۔
پنجاب کابینہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے بیانات سے عوام میں منفی پروپیگنڈہ پیدا ہوا ہے،عمران خان کے بیانات، میڈیا ٹاک پر کارروائیاں ہوں گی،جبکہ قومی اداروں، عدلیہ، سینئر افسران کے خلاف جھوٹے بیانات پر کیس بنیں گے۔
دستاویزات میں کہاگیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی، پی ٹی آئی لیڈر نے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشنز کی خلاف ورزی کی، پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 121،121اے ،123اے، 131،153 کی دفعات کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی جس پر پنجاب کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے جرم میں ملوث ہونے پر کارروائی کی منظوری دی۔
پنجاب نے پی ٹی آئی کو کریمنل لا ایکٹ کے تحت غیرقانونی جماعت قرار دیتے ہوئے پنجاب کابینہ نے کریمینل پروسیڈنگ کوڈ 1898 کے سیکشن196 کے تحت بانی پی ٹی آئی و پارٹی لیڈرزکے خلاف کارروائی کی منظوری دے دی ۔
اس حواے سے ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن کمشنر آفس راولپنڈی کو کریمینل کمپلینٹ فائل کرنے کا اختیار سونپ دیا گیا ۔
کابینہ کی دستاویزات میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف آنے والی درخواست کو وجہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمران خان پاکستان کو موڑنے کی منظم سازش کررہے ہیں ۔

مزید پڑھیں:  پی ٹی آئی پرپابندی کامعاملہ،خیبر پختونخواحکومت کافریق نہ بننےکا فیصلہ